یہ بھی اساتذہ ہیں - راؤ اسامہ منور

اسلامک یونیورسٹی میں اخبار جامعہ کی ذمہ داری لگی، مختلف خبریں آتی رہتی تھیں، ایک دفعہ کسی نے خبر دی کہ فلاں استاد کسی خاتون طالبہ کے ساتھ ملوث ہے، اس کو ہراس کررہا ہے، ثبوت مانگے تو وہ بھی مل گئے، واہیات قسم کی گفتگو پر مبنی میسجز تھے، جو استاد کی طرف سے اس طالبہ کو کیے گئے تھے۔
''یہ ہے ہمارے آج کے اساتذہ کی اخلاقیات''

کل این ایف سی یونیورسٹی کے طالب علم سیف اللہ نے اپنے آپ کو گولی مار کر ختم کر لیا، اس نے جاتے جاتے ایک پرچہ لکھا جس میں اس نے والدین سے معذرت کی کہ وہ ان کی امیدوں پر پورا نہیں اتر سکا۔ اس کے بھائی نے تفصیل بتائی کہ وہ مسلسل کچھ مضامین میں فیل ہو رہا تھا اور اس کے اساتذہ نے اسے دباؤ میں رکھا ہوا تھا، اسی دباؤ کو برداشت نہ کرسکا اور گھر سے غائب ہوگیا، پھر دو تین دن بعد اس نے خودکشی کرلی۔
''یہ ہے ہمارے اساتذہ کا حلم و بردباری''

اسی طرح جب یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو سینئیر دوستوں نے پڑھائی کے متعلق مختلف قسم کی نصیحتیں کیں، ایک نصیحت جو ہر بندے کی طرف سے ملی، وہ یہ تھی کہ "ٹیچرز سے بنا کے رکھنی ہے"۔ اس جملے کی تفصیلات اور پھر ان کی جزئیات کافی طویل ہیں۔

پہلے تو مجھے اس بات کی کچھ خاص سمجھ نہیں آئی، لیکن پھر کچھ تجربات ایسے ہوئے کہ میں تسلیم کرنے پہ مجبور ہوگیا کہ آج کے دور میں اگر ڈگری اطمینان سے کرنی ہے تو ٹیچرز کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے پڑیں گے، نمائشی تعریف سے ان کو خوش کرنا ہوگا، یہ تجربے بہت تلخ تھے اور شاید پڑھتے ہوئے آپ کو بھی تلخ لگیں، لیکن حقیقت یہی ہے۔
''یہ ہے ہمارے اساتذہ کی طلبہ سے شفقت''

ہمارے تعلیمی اداروں کے اندر انتظامی افراد کی اکثریت اساتذہ پر مشتمل ہوتی ہے، ان لوگوں کی آپس کی گھٹیا سیاست طالب علموں پر بری طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ کرسی حاصل کرنے اور پھر اس سے چمٹے رہنے کا شوق انھیں طالب علموں کی فلاح و بہبود سے زیادہ اپنی سیاست چمکانے پر مائل رکھتا ہے۔ ایسے تمام لوگ جو انتظامی عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے طالب علموں کو تنگ کریںھ وہ استاد کہلانے کے لائق ہی نہیں، طالب علموں کو بھی چاہیے کہ ایسے ڈکٹیٹرز کو استاد نہیں، ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والے ڈاکو کے طور پر معاملہ کیا کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے مسائل - عکاشہ احمد

معلمی کو پیغمبروں کا پیشہ سمجھنے والے اور اس پیشے میں انتہائی خلوص اور ایمانداری سے پڑھانے والے ہیروں کی ابھی بھی کمی نہیں، لیکن اکثر لوگوں نے اس باوقار اور پاکیزہ پیشے کا نام اپنی حرکتوں کی وجہ سے بدنام کر رکھا ہے۔ اچھے اساتذہ کرام کی عزت کریں اور بُروں سے کبھی مت ڈریں، نہ آپ کا رزق ان کے ہاتھ میں ہے نہ مستقبل۔