تزکیہ نفس، ضرورت اور اسباب - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 25 محرم الحرام 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں " تزکیہ نفس،،، ضرورت اور اسباب" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کر کے اسے عقل و زبان سے نوازا اور اسے خیر و شر میں تفریق کرنے کی صلاحیت بھی عطا کی ، پھر دنیا میں اس کا سامنا نفس امارہ اور شیطان سے رکھا جس میں کامیابی کی صورت میں جنت اور ناکامی کی صورت میں جہنم ملے گی، اس مقابلے میں کامیابی کے لیے اللہ تعالی نے شریعتیں، آسمانی کتابیں، اور رسول مبعوث فرمائے، ان کی دعوت قبول کرنے والے تزکیہ نفس میں کامیاب ہو گئے، جبکہ دیگر ناکام ہوئے، انہوں نے کہا کہ انسانی نفس خیر و شر کا ملغوبا ہے اس لیے برائی کی جانب مائل ہو کر شیطان کا آلہ کار بن جاتا ہے، تاہم اللہ کی عطا کردہ بصیرت کی بدولت نیکی بھی رگ و پے میں سرایت کر سکتی ہے، اس لیے انسانی نفس کو ہمہ وقت مسلسل نگرانی اور نگہبانی کی ضرورت رہتی ہے یہی وجہ ہے کہ تزکیہ نفس کرنے والوں کی کامیابی پر اللہ تعالی نے قرآن کریم میں مسلسل گیارہ قسمیں اٹھائیں ہیں۔ تزکیہ نفس مقام احسان، ہوس پرستی کی مخالفت، شہوت و لذت سے دوری ، نفس امارہ پر سختی ، بد اخلاقی سے دوری، اچھے اخلاق کو اپنانے اور مجاہدۂ نفس سے حاصل ہو سکتا ہے ، آخر میں انہوں نے کہا کہ وقت ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے پہلے تزکیہ نفس کر لیں وگرنہ حسرت و ندامت ہی باقی رہ جائے گی، آخر میں انہوں نے جامع دعا کروائی۔

خطبہ کی عربی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اسی نے ہر نفس کو پیدا کر کے کامل بنایا، بد کرداری اور پرہیز گاری بھی اسے الہام کی، صاحب تزکیہ نفس کے لیے کامرانی اور ہوس پرستی میں ملوث ہو کر اپنے نفس کو خاک میں ملانے والے کے لیے اللہ تعالی ناکامی لکھ دی ہے، ہم اپنے اور برے اعمال کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی رہنما نہیں بن سکتا، میں سچی اور یقینی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں ، اللہ تعالی آپ پر ،آپ کی آل اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود و سلام نازل فرمائے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: سب سے سچا کلام قرآن مجید ہے، اعلی ترین طرزِ زندگی جناب محمد ﷺ کا ہے، بد ترین امور بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔

میں آپ سب کو تقوی الہی اور محاسبہ نفس کی نصیحت کرتا ہوں: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ } اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور ہر ایک کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ جو کچھ تم کرتے ہو یقیناً اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے [الحشر: 18]

مسلم اقوام!

اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے قوت بیان عطا کی، اسے عقل و زبان سے نوازا، اسے خیر و شر دونوں راستوں کے متعلق بتلایا، اب انسان کی مرضی ہے کہ وہ شکر گزاری کرے یا ناشکری ۔

اللہ تعالی نے انسان کو نفس اور شیطانی دشمنی سے آزمایا ہے، جس میں انسان کے مقدر میں فتح یا شکست کچھ بھی ہو سکتا ہے، انسان کو جنت یا جہنم ملے گی۔ اللہ تعالی نے اسی امتحان کے لیے شریعتیں نازل کیں، کتابیں اتاریں، بشیر و نذیر رسول مبعوث فرمائے، تو کچھ لوگوں نے دعوت قبول کی اور تزکیہ نفس کر لیا، انہی کو تزکیہ نفس کا فائدہ ہو گا، جبکہ کچھ لوگوں نے دعوت مسترد کر دی ، تو انہی کو دعوت ٹھکرانے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

مسلم اقوام!

ذہن نشین کر لو کہ نفس امارہ انسان کا دشمن ہے، نفس امارہ انسانی دل کو علام الغیوب پروردگار تک پہنچنے نہیں دیتا۔

انسانی نفس طبعی طور پر شہوتوں اور لذتوں کا رسیا ہے جبکہ اطاعت گزاری اور نیکی سے پہلو تہی کرتا ہے۔

نفس امارہ شیطان کا سہولت کار، آلہ کار اور وسیلہ ہے، اسی کے ذریعے شیطان کی عمل داری قائم ہوتی ہے، نفس امارہ شیطان کا کارکن اور گماشتہ ہے: {وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلَّا أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنْفُسَكُمْ} اور جب فیصلہ ہو جائے گا تو شیطان کہے گا : "اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ سچا تھا اور میں نے بھی تم سے ایک وعدہ کیا تھا جس کی میں نے تم سے خلاف ورزی کی۔ اور میرا تم پر کچھ زور نہ تھا میں نے تو صرف (اپنی طرف) بلایا تو تم نے میری بات فوری مان لی۔ لہذا (آج) مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو "[إبراهيم: 22]

انسانی نفس بہت زیادہ برائی کا حکم دیتا ہے اور ہوس پرستی کی جانب اس کا جھکاؤ رہتا ہے، فرمان باری تعالی ہے: {وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى (40) فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى} اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اور اپنے نفس کو ہوس سے روکا [40] تو جنت ہی اس کا ٹھکانا ہے۔[النازعات: 40، 41] اسی طرح فرمایا: {أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَى عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَى بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَنْ يَهْدِيهِ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ } بھلا آپ نے اس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو الٰہ بنا رکھا ہے اور اللہ نے علم کے باوجود اسے گمراہ کر دیا اور اس کے قلب و سماعت پر مہر لگا دی اور اس کی بصارت پر پردہ ڈال دیا ؟ اللہ کے بعد اب کون ہے جو اسے ہدایت دے سکے ؟ [الجاثية: 23]

انسانی نفس خیر اور شر کا ملغوبا ہے، فرمان باری تعالی ہے: {وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ} اور جسے اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔ [الحشر: 9] اسی طرح فرمایا: {إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ} بیشک نفس بہت زیادہ برائی پر اکسانے والا ہے۔ [يوسف: 53]

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے نفس کو خیر اور شر ہر چیز الہام کر دی ہے، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا (7) فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا} قسم ہے نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے ٹھیک بنایا (8) اور پھر اسے بدی اور پرہیز گاری الہام کر دی۔ [الشمس: 7، 8]

تو جس طرح اللہ تعالی نے انسان کو ظاہری حواس عطا کیے ہیں اسی طرح اللہ تعالی نے انسان کو باطنی بصیرت سے بھی نوازا ہے، جیسے کہ اللہ تعالی نے ان کے بارے میں فرمایا: {بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ (14) وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَهُ} بلکہ انسان اپنے بارے میں بہت بصیرت رکھتا ہے (14)خواہ کتنے ہی بہانے بنائے۔ [القيامہ: 14، 15] پھر رسول اللہ ﷺ نے بھی اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: (وہ حرکت گناہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تمہیں ناگوار گزرے کہ لوگوں کو اس کا علم ہو)

اللہ کے بندو!

انسانی نفس کو دائمی نگرانی اور نگہبانی کی ضرورت رہتی ہے، نفس؛ تہذیب ، تزکیہ اور مسلسل دیکھ بھال کا محتاج ہوتا ہے، اسی لیے نبی ﷺ نے حصین بن منذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ: (تم کہا کرو: اَللَّهُمَّ أَلْهِمْنِيْ رُشْدِيْ وَقِنِيْ شَرَّ نَفْسِيْ  [یا اللہ! مجھے رشد الہام کر دے، اور مجھے میرے اپنے نفس کے شر سے محفوظ فرما]) آپ ﷺ خطبہ حاجت میں فرمایا کرتے تھے: (اور ہم اپنے نفسوں کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں)

یہ بھی پڑھیں:   چھینک کے آداب - ثمیرہ صدیقی

مسلم اقوام!

نفسانی شرور سے بچاؤ کا طریقہ کار یہ ہے کہ نفس کا تزکیہ کریں، اس کا مکمل خیال رکھیں، اسی لیے تو اللہ تعالی نے تزکیہ نفس کرنے والوں کے متعلق مسلسل گیارہ قسمیں اٹھائی ہیں کہ وہ کامیاب ہو گئے ہیں اور نفس کو خاک میں ملانے والے رسوا ہوگئے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا (1) وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا (2) وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا (3) وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا (4) وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا (5) وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاهَا (6) وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا (7) فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا (8) قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا (9) وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا} سورج اور اس کی دھوپ کی قسم [1] قسم ہے چاند کی جب اس کے پیچھے آئے [2] قسم ہے دن کی جب سورج کو نمایاں کرے۔ [3] قسم ہے رات کی جب اسے ڈھانپ لے۔ [4] قسم ہے آسمان کی اور اسے بنانے والے کی[5] قسم ہے زمین کی اور اسے ہموار کرنے والے کی[6] قسم ہے نفس کی اور اسے درست بنانے والے کی[7] کہ پھر اس کی بد کرداری اور اس کی پرہیز گاری اسے الہام کر دی [8] کہ کامیاب وہ شخص ہوا جس نے نفس کو سنوار لیا [9] اور وہ نامراد ہوگا جس نے اسے خاک آلود رکھا [الشمس: 1 - 10]

اسی طرح اللہ تعالی نے مومنوں پر عظیم ترین نعمت کا احسان جتلاتے ہوئے فرمایا: {لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ} بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا جو ان پر اللہ کی آیات پڑھتا، ان (کی زندگیوں) کو سنوارتا اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے [آل عمران: 164]

اسی طرح فرمایا: {هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ} وہی تو ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں سے ہی ایک رسول بھیجا جو انہیں اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے ان کی زندگی سنوارتا اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ اگرچہ وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں پڑے تھے [الجمعة: 2]

اللہ تعالی نے یہ بھی بتلایا کہ تزکیہ نفس کامیابی اور جنت پانے کا راستہ ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى (14) وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى} اپنا تزکیہ کرنے والا یقیناً کامیاب ہو گیا[14] جو اپنے رب کا نام لے اور نما ادا کرے۔[الأعلى: 14، 15] ایک اور مقام پر فرمایا: {وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى (40) فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى} لیکن جو اپنے پروردگار کے حضور (جوابدہی کے لیے) کھڑا ہونے سے ڈرتا رہا اور اپنے آپ کو خواہش نفس سے روکے رکھا [40] تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے۔[النازعات: 40، 41]

اللہ کے بندو!

تزکیہ نفس مقام احسان کے بغیر ممکن نہیں، اور مقام احسان یہ ہے کہ: (تم اللہ کی عبادت ایسے کرو کہ گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو، اور اگر [یہ تصور پیدا نہیں ہوتا تو]تم اسے نہیں دیکھ رہے لیکن وہ تمہیں دیکھ رہا ہے)

تزکیہ نفس ہوس پرستی کی مخالفت اور تقوی اپنانے سے حاصل ہوتا ہے۔

تزکیہ نفس؛ نفس امارہ کی مخالفت نیز شہوتوں اور لذتوں کو ترک کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔

فَمَن يُّطْعِمُ النَّفْسَ مَا تَشْتَهِيْ

كَمَن يُّطْعِمُ النَّارَ جَزْلَ الحَطَبِ

جو اپنے آپ کو من چاہی چیزیں کھلائے؛ وہ تو آگ میں لکڑیوں کے گٹھے ڈالنے والے کی طرح ہے ۔

چنانچہ جسے نفس کو لگام ڈالنے میں کامیابی مل جائے تو وہ منزل مقصود پا لیتا ہے، جبکہ ڈھیل دینے والے کو نفس امارہ تباہی اور ہلاکت میں ڈال دیتا ہے۔

فَمَنْ هَجَرَ اللَّذَّاتِ نَالَ الْمُنَى وَمَنْ

أَكَبَّ عَلَى اللَّذَّاتِ عَضَّ عَلَى الْيَدِ

لذتوں کو چھوڑنے والا منزل پا لیتا ہے اور اپنی لذتوں میں مگن شخص اپنے ہی ہاتھ پر کاٹتا ہے۔

وَفِي قَمْعِ أَهْوَاءِ النُّفُوسِ اعْتِزَازُهَا

وَفِي نَيْلِهَا مَا تَشْتَهِي ذُلٌّ سَرْمَدُ

ہوس پرستی سے دوری میں عزت نفس ملتی ہے، جبکہ ہر من چاہی چیز سے سرمدی ذلت میسر آتی ہے۔

فَلَا تَشْتَغِلْ إلَّا بِمَا يُكْسِبُ الْعُلَا

وَلَا تَرْضَ لِلنَّفْسِ النَّفِيسَةِ بِالرَّدِي

اس لیے صرف وہی کام کرو جس سے بلندی ملے، اپنی قیمتی جان کے لیے کسی گھٹیا چیز کو قبول مت کریں۔

مسلم اقوام!

جہاد اسلام کی چوٹی ہے، اسلامی فرائض میں سے عظیم ترین فریضہ ہے، عظیم ترین جہاد مجاہدۂ نفس ہے، اس لیے نفس کو لذتوں سے لگام ڈالو، اور ہوس پرستی سے اسے باز رکھو، کیونکہ نفسانی میلان کا قلع قمع باعث عزت جبکہ نفسانی میلان میں بہہ جانے سے ذلت و رسوائی ملتی ہے۔

وَالنَّفْسُ كَالطِّفْلِ إِنْ تُهْمِلْهُ شَبَّ عَلَى

حُبِّ الرَّضَاعِ وَإِنْ تَفْطِمْهُ يَنْفَطِمِ

انسانی نفس بچے کی طرح ہے اگر ڈھیل دے رکھو تو دودھ پینے پر پروان چڑھتا ہے، اور اگر چھڑوا دو تو چھوڑ دیتا ہے۔

وَجَاهِدِ النَّفْسَ وَالشَّيْطَانَ وَاعْصِهِمَا

وَإِنْ هُمَا مَحَّضَاكَ النُّصْحَ فَاتَّهِمِ

نفس امارہ اور شیطان کے خلاف جہاد کرو، چاہے وہ دونوں تمہارے خیر خواہ ہی کیوں نہ بنیں! ان پر اعتبار مت کرو

وَلَا تُطِعْ مِنْهُمَا خَصْماً وَلَا حَكَماً

فَأنْتَ تَعْرِفُ كَيْدَ الخَصْمِ وَالْحَكَمِ

ان دونوں کی بطور فریق مخالف یا ثالث کبھی بھی بات نہ مانو؛ تم فریق مخالف اور ثالث کی مکاری جانتے ہو

تو نفس امارہ کی عداوت اور شیطان کی دشمنی یکساں ہیں، اور اللہ تعالی نے دونوں کی تابعداری سے قرآن مجید میں منع فرمایا ہے: {وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى (40) فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى} لیکن جو اپنے پروردگار کے حضور (جوابدہی کے لیے) کھڑا ہونے سے ڈرتا رہا اور اپنے آپ کو خواہش نفس سے روکے رکھا [40] تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے۔ [النازعات: 40، 41]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کے لیے قرآن کریم کو بابرکت بنائے، اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو اس کی حکمت بھرئی نصیحتوں سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں اس نے انسان کو مکمل اور کامل پیدا کیا، انسان کو مکرم، باعزت، اپنا خلیفہ اور امین بنایا، دھرتی کی ذمہ داری اسے سونپی ، اللہ تعالی نے انسان کو عالی مقام دیا، اسے رزق عطا کیا ، اس پر عنایتوں اور نعمتوں کے دروازے کھول دیے۔ درود و سلام ہوں مصطفی، مرتضی، اور اللہ کے پسندیدہ نبی جناب محمد ﷺ پر ، آپ کی آل ، صحابہ کرام اور آپ کے راستے پر چلنے والے اور آپ کی سیرت پر عمل پیرا لوگوں پر ۔

مسلم اقوام!

انسانی نفس برائی پر بہت زیادہ اکساتا ہے، ظلم اور جہالت اس کے رگ و پے میں پیوست ہے، انسانی نفس کو خود پسندی اور تکبر کی بیماری بھی لگ جاتی ہے، اسی طرح حسد، ریا کاری، غصہ، حرص، لالچ، بخیلی، کنجوسی اور خوف سمیت دیگر بیماریاں بھی لگ جاتی ہیں، تو تزکیہ نفس کے لیے ان تمام عارضوں سے خلاصی ضروری ہے۔

تزکیہ نفس اس طرح ہو گا کہ آپ اچھے اخلاق سے آراستہ ہوں، حسن سلوک سے پیراستہ ہوں، شرعی آداب مثلاً: محبت، خلوص، صبر، صداقت، عاجزی، خوف اور امید، سخاوت اور فیاضی، توبہ و استغفار، موت اور آخرت کی تیاری، دنیا سے بیزاری اور ہر وقت اللہ تعالی کی جانب توجہ رہے۔

تزکیہ نفس اس طرح ہو گا کہ ہوس پرستی سے دور ہو جائیں، نفس کی ہر خواہش پوری نہ کریں، شہوت و لذت والی چیزوں سے اپنے آپ کو دور کر لیں، بلکہ ایسی بات ذہن میں آنے پر اپنی سرزنش بھی کریں: {قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى (14) وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى} اپنا تزکیہ کرنے والا یقیناً کامیاب ہو گیا[14] جو اپنے رب کا نام لے اور نما ادا کرے۔ [الأعلى: 14، 15]

یہ بھی پڑھیں:   چھینک کے آداب - ثمیرہ صدیقی

اللہ کے بندو!

تزکیہ نفس کے لیے خوب محنت کریں، قبل ازیں کہ خلاف توقع نتائج ملیں اور حسرت و ندامت دامن گیر ہو جائے کہ: {يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا} جس دن ہر شخص اپنی کی ہوئی نیکیوں اور برائیوں کو موجود پائے گا، آرزو کرے گا کہ کاش ! اس کے اور برائیوں کے درمیان بہت زیادہ دوری ہوتی۔ [آل عمران: 30]

تزکیہ نفس کے لیے خوب محنت کرو، قبل ازیں کہ: {أَنْ تَقُولَ نَفْسٌ يَاحَسْرَتَا عَلَى مَا فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ وَإِنْ كُنْتُ لَمِنَ السَّاخِرِينَ(56)أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (57) أَوْ تَقُولَ حِينَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ أَنَّ لِي كَرَّةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ} کوئی شخص کہے ہائے افسوس میں نے اللہ تعالی کے حق میں کوتاہی کی بلکہ میں تو مذاق اڑانے والوں میں رہا۔ [56] یا کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں بھی متقی لوگوں میں ہوتا [57] یا عذاب کو دیکھ کر کہے کاش ! کہ کسی طرح میں لوٹ جاؤں اور پھر میں بھی اچھی کارکردگی دکھانے والوں میں سے ہو جاؤں۔ [الزمر: 56- 58]

تزکیہ نفس کے لیے خوب محنت کرو، قبل ازیں کہ منہ پر مہر ثبت کر دی جائے ، زبان گنگ ہو جائے، اپنے ہی اعضا تمہارے خلاف گواہ اور مخالف بن جائیں، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ } ہم آج کے دن ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں ان کی کارستانیوں کی گواہیاں دیں گے ۔ [يس: 65]

ایسے ہی فرمایا: {وَيَوْمَ يُحْشَرُ أَعْدَاءُ اللَّهِ إِلَى النَّارِ فَهُمْ يُوزَعُونَ (19) حَتَّى إِذَا مَا جَاءُوهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ(20) وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدْتُمْ عَلَيْنَا قَالُوا أَنْطَقَنَا اللَّهُ الَّذِي أَنْطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ خَلَقَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (21) وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ وَلَكِنْ ظَنَنْتُمْ أَنَّ اللَّهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرًا مِمَّا تَعْمَلُونَ (22) وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ (23) فَإِنْ يَصْبِرُوا فَالنَّارُ مَثْوًى لَهُمْ وَإِنْ يَسْتَعْتِبُوا فَمَا هُمْ مِنَ الْمُعْتَبِينَ} اور جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف ہانک کر لائے جائیں گے تو انہیں (گروہ در گروہ بننے کے لئے) روک لیا جائے گا۔ [19] یہاں تک کہ جب دوزخ کے قریب آ پہنچیں گے تو ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے خلاف ان کی کارستانیوں کی گواہی دیں گے [20] وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے : تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی ؟ وہ کہیں گی : ہمیں اسی اللہ نے قوت گویائی دے دی جس نے ہر چیز کو گویائی دی ہے۔ اسی نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جا رہے ہو [21] اور (گناہ کرتے وقت) تم اس بات سے نہیں چھپتے تھے کہ کہیں تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں ہی تمہارے خلاف گواہی نہ دے دیں۔ بلکہ تم تو یہ خیال کرتے تھے کہ جو کچھ تم کرتے ہو ان میں سے اکثر باتوں کو اللہ جانتا ہی نہیں [22] تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے پروردگار کے متعلق کر رکھا تھا تمہیں لے ڈوبا اور تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے۔ [23] اب اگر وہ صبر کریں (یا نہ کریں) آگ ہی ان کا ٹھکانا ہے اور اگر وہ توبہ کرنا چاہیں تو ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی [فصلت: 19- 24]

تزکیہ نفس کے لیے خوب محنت کرو، اس دن سے قبل جس میں: {يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ (34) وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ (35) وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ (36) لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ} آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا [34] اپنی ماں اور باپ سے بھاگے گا [35] اپنی بیوی اور بیٹوں سے بھاگے گا [36] اس دن ہر شخص کی ایسی حالت ہو گی جو اسے دوسروں سے بے پروا بنا دے گی۔[عبس: 34 - 37]

اللہ کے بندو!

عقل مند وہی ہے جو اپنا محاسبہ کر لے اور موت کے بعد والی زندگی کے لیے تیاری کرے، اور وہ شخص ناتواں ہے جو ہوس پرستی میں ڈوبا رہے اور امیدیں اللہ سے لگا بیٹھے۔

اپنا محاسبہ خود ہی کر لو، اس سے قبل کہ تمہارا حساب کیا جائے، اپنا وزن خود ہی کر لو اس سے قبل کہ تمہارا وزن کیا جائے؛ کیونکہ آج تمہارے لیے محاسبہ کل کے حساب سے کہیں آسان ہے، اللہ کے سامنے بڑی پیشی کے لیے تیار ہو جاؤ، اس دن تمہیں اللہ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور تمہاری کوئی بھی چیز مخفی نہیں رہے گی۔

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک باغ میں تنہا داخل ہوئے اور اپنا محاسبہ شروع کر دیا، جبکہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ چھپ کر انہیں دیکھ رہے تھے، اس اثنا میں انس نے آپ کو کہتے ہوئے سنا: "عمر! امیرالمومنین! حیف ہے ،حیف ہے۔ خطاب کے بیٹے یا تو تم اللہ سے ڈر جاؤ یا پھر اللہ تمہیں لازمی عذاب سے دوچار کر دے گا"

اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، اور یہ ذہن نشین کر لو کہ تم اللہ سے لازمی ملو گے۔

یا اللہ! ہمارے نفسوں کو تقوی عطا فرما، ان کا تزکیہ بھی فرما دے، تو ان کا بہترین تزکیہ کرنے والا ہے، تو ہی ان کا ولی اور مولا ہے۔

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل و رسوا فرما دے، یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن و استحکام کا گہوارہ بنا دے۔ یا اللہ! ہمیں ہمارے خطوں میں امن و امان عطا فرما، یا اللہ! ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما ۔

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو خصوصی توفیق سے نواز، ان کی خصوصی مدد فرما، یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو تیری رضا کے حامل کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان دونوں کو صرف ایسے کاموں کی توفیق عطا فرما جن میں اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی ہو، جس میں ملک و قوم کی بھلائی ہو، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہماری سرحدوں کی حفاظت فرما، اور ہماری افواج کی مدد فرما، یا قوی! یا عزیز!

یا اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی بھلائی سے نواز، نیز ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہماری کاوشیں قبول فرما، بیشک تو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے، اور ہماری توبہ قبول فرما بیشک تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے تمہیں نبی ﷺ پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین : ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور دیگر تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ! اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ/ پرنٹ کرنے کیلیے کلک کریں۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.