حبیب بنک میں یہ کیا ہو رہا ہے؟ آصف محمود

کیا سٹیٹ بنک آف پاکستان اور وزیر خزانہ کو علم ہے کہ حبیب بنک میں کیا ہو رہا ہے ؟ کیا وہ اس معاملے کو دیکھ سکتے ہیں یا اس عذاب سے نجات کے لیے بھی جناب چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کرنی پڑے گی ؟

پریشان حال لوگ آتے ہیں اور دکھڑا سناتے ہیں ۔ سن کر آدمی حیران رہ جائے ۔ اول اول میں نے ان معاملات کو اتنا سنجیدہ نہیں لیا ۔ پھر یہ خیال کر کے خاموش ہو گیا کہ کبھی کبھار غلطی ہو ہی جاتی ہے ۔ درگزر کرنا چاہیے ۔ اب تو مگر صورت حال مضحکہ خیز ہی نہیں تکلیف دہ بھی ہو چکی ۔ اب بنک کے خلاف کوئی شکایت لے کر آئے تو دوست قہقہہ لگا کر پوچھتے ہیں : کیا آپ کا اکاؤنٹ بھی حبیب بنک میں ہے ؟ ہو سکتا ہے یہ محض اتفاق ہی ہو لیکن آپ یقین کیجیے ہر ستم کے مارے نے آگے سے سر ہلا کر جواب دیا جی ہاں حبیب بنک ہی میں تھا ۔

بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے ایک ڈاکٹر عاطف صاحب ہیں۔ ایک رات ان کا فون آیا ۔ بہت پریشان تھے۔ ان کے اکاؤنٹ میں کچھ پیسے آ گئے تھے اور انہیں کچھ خبر نہ تھی کہ پیسے کس نے بھیجے۔ رقم چونکہ ہزاروں میں نہیں تھی ، زیادہ تھی اس لیے وہ پریشان ہو گئے کہ یہ کس نے بھیجے۔ ایک ایک کر کے وہ دوستوں سے پوچھتے رہے کہ یہ رقم کہیں آپ نے تو نہیں بھیجی۔ جب پوری کوشش کے باوجود وہ اس کا کھوج نہ لگا سکے تو انہوں نے مجھے فون کیا۔ میں نے انہیں مشورہ دیا کہ صبح بنک سے رابطہ کریں اور معلوم کریں یہ رقم کس نے بھیجی۔ صبح پھر ان کا فون آ گیا۔ اب ان کی پریشانی مزید بڑھ چکی تھی۔ کہنے لگے بنک میں شکایت تو کر دی ہے لیکن جو رقم آئی تھی اس میں سے پچاس ہزار نکلوا بھی لیے گئے ہیں، اور نکلوائے بھی اے ٹی ایم کے ذریعے گئے ہیں۔ وہ اس وقت سرگودھا میں حبیب بنک کی برانچ میں کھڑے تھے، اے ٹی ایم ان کی جیب میں تھا لیکن بنک ریکارڈ بتا رہا تھا کہ ان کے اے ٹی ایم سے کسی نے یہ رقم اسلام آباد سے نکلوائی ہے۔ البتہ باقی کی رقم بنک نے فریز کر دی ہے۔

میں نے ان سے کہا کہ آپ بنک سے دو چیزوں کا مطالبہ کریں،
اول : وہ آپ کو یہ بتائے کہ یہ پیسے کس نے آپ کے اکاؤنٹ میں بھیجے؟
دوم : آپ بنک سے اے ٹی ایم ٹرانزیکشن کا وقت معلوم کریں اور اسے کہیں اس وقت اے ٹی ایم بوتھ میں لگے کیمرے کی ویڈیو آپ کو دکھائی جائے تا کہ معلوم ہو آپ کا جعلی اے ٹی ایم کس نے استعمال کیا۔
آج اس واقعے کو قریبا دو ماہ سے اوپر ہو چکے ہیں اور بنک نے ان کا ایک بھی مطالبہ تسلیم نہیں کیا ۔ حالانکہ بنک یہ دونوں مطالبات پورے کر سکتا تھا۔ بنک اکاؤنٹ میں جب بھی رقم آتی ہے اس کا ایک ریکارڈ ہوتا ہے کہ یہ رقم کہاں سے آئی۔ اب تو آپ چند ہزار روپے بھی کسی کے اکاؤنٹ میں بھیج رہے ہوں تو آپ کو اپنا شناختی کارڈ ساتھ لگانا ہوتا ہے۔ اگر مینیوئل کے بجائے یہ رقم ای ٹرانزیکشن کے ذریعے بھیجی گئی تھی تب بھی اس کا ریکارڈ موجود ہونا لازم تھا۔ اسی طرح اگر جعلی اے ٹی ایم اسلام آباد میں استعمال کیا گیا تھا تو اس کی ویڈیو دیکھی جا سکتی تھی۔ وہ پریشان تھے کہ ملک میں جو حالات ہیں وہ آپ کے سامنے ہیں کل کو کسی نے پوچھ لیا یہ رقم کہاں سے آئی تو وہ کیا جواب دیں گے۔ لیکن بنک نے انہیں کہانیاں سنا کر رخصت کر دیا ۔ سوال یہ ہے کہ بنک نے سب کچھ کیوں چھپایا ؟ اے ٹی ایم کی ویڈیو لینے میں کوئی مسائل تھے بھی تو کم از کم اکاؤنٹ ہولڈر کا یہ حق تو ہے کہ اسے بتایا جائے اس کے اکاؤنٹ میں رقم بھیجنے والا کون ہے؟ رات کو رقم آتی ہے صبح نکال لی جاتی ہے کیا یہ اتنا ہی سادہ معاملہ ہے؟

ایک اور کہانی سنیے ۔ ایچ ای سی نے ایک خاتون شہلا نرگس کو بیرون ملک تعلیم کے لیے سکالر شپ کی مد میں 11 لاکھ9ہزار7سوروپے کا چیک دیا۔ یہ چیک ایچ نائن شالیمار برانچ میں 17ستمبر کو جمع کرایا گیا۔ ان کا خیال تھا کہ ایک ہی شہر کا معاملہ ہے ایک دو دن میں رقم اکاؤنٹ میں آ جائے گی۔ وہ اپنی تیاریوں میں مصروف ہو گئیں اور 10 اکتوبر کے لیے امریکہ روانگی کا ٹکٹ لے لیا۔ ایک ہفتے کے انتظار کے باوجود رقم ان کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر نہیں ہوئی تو وہ پریشان ہو گئیں۔ بنک سے رابطہ کیا تو کہا گیا چیک کیش نہیں ہوا ہوگا۔ اگلے دن بنک سے باؤنس چیک مانگا گیا تو بنک نے کہا آپ کی رقم ایک اور اکاؤنٹ میں چلی گئی ہے، وہ بندہ شہر سے باہر ہے کل آئے گا تو آپ کو رقم مل جائے گی۔ اگلے دن نئی کہانی سنائی گئی کہ وہ بندہ تو رقم نکلوا چکا ہے اور اب دے نہیں رہا۔ اب ہم اس بندے پر مقدمہ کریں گے۔ آج 3 اکتوبر کی سہہ پہر جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں، یہ مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا اور بنک مینیجر صاحب روز قصہ چہار درویش کی ایک نئی کہانی انہیں سنا کر روانہ کر دیتے ہیں۔ خاتون کے چچا پروفیسر ڈاکٹر سمیع پریشان ہیں کہ بنک کو تو اس معاملے کی اہمیت کا احساس ہی نہیں۔ وہ مقدمہ کرے یا کچھ اور کرے یہ بنک کا معاملہ ہے۔ خاتون کو تو اس کی رقم چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت میں وہ خاتون امریکی کی فلائیٹ کینسل کروا کر دن رات حبیب بنک کی عظمت کے گن گائیں یا بنک اپنی نا اہلی اور غفلت تسلیم کرتے ہوئے ان کو فوری رقم ادا کرے اور اس کے بعد چاہے تو اس بندے پر مقدمہ کرے اور چاہے تو اپنے اس نا اہل سٹاف ممبر پر جس کی وجہ سے یہ اذیت ناک صورت حال پیدا ہوئی۔

شاہد عمران کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ راولپنڈی مال روڈ پر حبیب بنک میں ان کا اکاؤنٹ تھا ۔ پروڈیوسر ہیں اور آرٹسٹ بھی۔ ایک روز بنک سے رقم لینے گئے تو معلوم ہوا رقم تو نکلوائی جا چکی ہے۔ ایک ڈیڑھ ماہ قبل انہوں نے پریشانی کے عالم میں فون پر کہانی سنائی تو میں نے وہی سوال پوچھا جو میرے دوست پوچھتے ہیں : آپ کا اکاؤنٹ حبیب بنک میں تو نہیں؟ اتفاق دیکھیے وہ حیران ہوئے اور کہا جی ہاں ہے تو حبیب بنک ہی میں۔ ابھی ان کو فون کیا کہ جناب کیا آپ کا مسئلہ حل ہو چکا، کہنے لگا جی ابھی رقم تو واپس میرے اکاؤنٹ میں نہیں آئی لیکن امکان پیدا ہو چلا ہے کہ ایک آدھ دن میں مل جائے گی۔ اب سوال یہ ہے کہ آپ کھڑے کھڑے کسی کو اس کی رقم سے محروم کر دیں اور پھر اسے کہیں وہ مہینوں آپ کی برانچ کے چکر لگاتا رہے اور دھکے کھاتا رہے، کیا اس حرکت کا کوئی جواز ہے؟ بعض لوگ ایسے بھی ہو سکتے ہیں جن کو رقم کی اشد ضرورت ہو اور وہ ایک دو ماہ کی یہ دفتری اذیت برداشت نہ کر سکتے ہوں وہ کہاں جائیں؟

یہ تین کہانیاں تو میں نے لکھ دی ہیں لیکن ایسی اور بہت سی کہانیاں ہیں اور اتفاق سے ہر کہانی میں حبیب بنک قدر مشترک کے طور پر آتا ہے۔ کیا ہم عام شہری جان سکتے ہیں کہ یہ معاملہ کیا ہے؟ کیا یہ معاملہ صرف حبیب بنک کے ساتھ ہے یا باقی بنکوں میں بھی حسن کارکردگی کا یہی عالم ہے؟ کیا سٹیٹ بنک کو اس افسوسناک صورت حال کا علم ہے؟ بنک کی رقم کوئی لوٹانے میں کوئی شہری ایک دن کی بھی تاخیر کر دے تو بنک اس پر سود کی صورت میں جرمانہ عائد کر دیتا ہے لیکن یہاں بنک مہینوں کسی کی رقم دبا کے بیٹھ جاتے ہیں کیا ان پر کوئی جرمانہ عائد نہیں ہونا چاہیے؟ بنکوں کے معاملات کھاتہ داروں کے ساتھ بہت تکلیف دہ ہوتے جا رہے ہیں اور حبیب بنک کے تو اذیت کی حد تک تکلیف دہ۔ سوال یہ ہے کیا کھاتہ داروں کے کچھ حقوق ہیں یا وہ ان بنکوں کے رحم و کرم پر ہیں ۔ کیا سٹیٹ بنک آف پاکستان اور وزیر خزانہ اس معاملے میں کچھ کر سکتے ہیں یا جناب چیف جسٹس آف پاکستان سے التجا کی جائے؟

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */