گولا گنڈا - منزّہ صدیقی

’’گرمیاں کب آئیں گی، مجھے گولا گنڈا کھانا ہے!‘‘ میری چھوٹی بیٹی ماریہ سردیوں میں وقتاً فوقتاً یہ سوال کرتی رہتی۔ کئی مرتبہ اس کا یہ سوال ضد میں بدل جاتا۔ اس کی بے وقت ضد ہاں ملانے کو عائشہ، فاطمہ ہمہ وقت موجود کہ ہاں ہاں گرمیاں آنے دو، ہم سب مِل کر گولا گنڈا کھائیں گے۔

آئس کریم کی دستیابی چونکہ سردیوں، گرمیوں میں کوئی مسئلہ نہیں، اس لیے اس کی بآسانی ستیابی نے اس کی قدر گھٹا دی ہے۔ گولے والا، ہمارے علاقے میں، صرف ایک ہے۔ خاص موسم میں، خاص وقت پر آتا ہے۔ چنانچہ وہی مطلوب ٹھہرا۔

لیجیے جناب! بالآخر انتظار ختم ہوا، گرمیاں آن پہنچیں۔ اگرچہ اسلام آباد میں موسم درمیانہ سا تھا، لین گولے والا آن پہنچا۔ اس کے آتے ہی گولے گنڈے کے مطالبے نے زور پکڑا، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مطالبے نے احتجاج کی صورت اختیار کرلی۔ لاکھ سمجھایا کہ یہ آپ کے لیے نقصان دہ ہے، پچھلے سال کو یاد کرو جب پورا مہینہ دوائی کھانا پڑی تھی، لیکن گولے گنڈے کے رنگ دیکھ کر تمام نصیحتیں بے اثر۔ روتی، مچلتی ماریہ کو دیکھ کر بالآخر دل نرم پڑگیا اور وہ اپنی بہنوں اور گلی کی سہیلیوں کے ساتھ باجماعت گولا گنڈا لے کر مطمئن اور خوش۔

تین دن متواتر یہ کھیل چلتا رہا۔ شام ہوتے ہی گولے والا حاضر، اسے دیکھ کر ماریہ کا بے پناہ اصرار، اس کے نتیجے میں چھا چلو! آج لے لو، دوبارہ نہیںَ تین دن بعد وہی ہوا جو ہانا چاہیے تھیا۔ عائشہ، فاطمہ کا گلا خراب ہوا، ماریہ کو پیٹ کا شدید انفیکشن، جس کی وجہ سے عین امتحانوں کے قریب سکول بھی نہ جا پائی۔

اکثر اوقات بچے اپنی ناسمجھی کی وجہ سے وہ چیز لینے کی ضد کرتے ہیں جو ان کے لیے نقصان دہ ہو۔ والدین نصیحت کرکے، سختی سے یا کسی بھی حیلے سے ان کو وہ چیز نہ دلائٰں یا اس سے دور رکھنے کی کوشش کریں تو بچے کا دل بہت مچلتا ہے۔ وہ روتا پیٹتا، چیختا چلّاتا ہے، اس بات سے بے خبر کہ یہ سختی اسی کے حق میں بہتر ہے۔

ہم میں سے ہر شخص بھی اپنی زندگی میں ضرور بالضرور گولا گنڈا کھانے کی خواہش رکھتا ہے اور اس کے لیے مچلتا، تڑپتا بھی ہے۔ خواہشات کے یہ گولے گنڈے اور ان کی رنگینی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر انسان کے دل پر چوٹ لگاتے ہیں۔ اگر خواہش پوری ہوجائے تو وقتی اطمینان ہوجاتا ہے، خواہ بعد میں کتنا ہی تڑپنا پڑے۔

لیکن اللہ، جو اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، ستّر ماؤں سے بڑھ کر پیار کرنے والا ہے، جانتا ہے کہ میرے بندے کے لیے کیا چیز نقصان دہ ہے، اس کے باوجود ہم تڑپ تڑپ کر اللہ سے ایسی کوئی چیز مانگ رہے ہوتے ہیں جسے شیطان خوش نما بناکر ہمیں اس کے ذریعے بہکانے کی کوشش کرتا ہے۔ گویا وہ نہ لی یا نہ ملی تو شاید اس سے بڑی محرومی ہمارے لیے کوئی نہ ہو۔ آئس کریم ہمارے پاس موجود ہوتی ہے، ہماری دسترس میں ہوتی ہے، لیکن شیطان خواہشات کو سجاکر، جھوٹی اُمیدیں دِلاکر ہمارے سامنے لا رکھتا ہے کہ آئس کریم تو جب چاہو کئای جاسکتی ہے، اصل لینے کی چیز تو گولا گنڈا ہے، اور ہم اپنی خواہشات کے برے اثرات سے بے خبر، اس کے لیے تڑپتے چلے جاتے ہیں۔ یہ اللہ کا ہم سے بے انتہا پیار ہی ہے جو ہمیں ہماری پسند سے دُور رکھتا ہے۔ اس کا ہم سے وعدہ ہے کہ چند دن، صرف چند دن دنیاوی زندگی کے محدود سے وقت میں اچھے بچے بن کر رہو، جو کچھ ، جیسا کچھ تمہیں ملا ہے( اور یقینا دینے والے مہربان رب نے، ہمیں پیدا کرنے والے نے بہترین ہی دیا ہے) اس پر راضی رہو۔ تو اس پر کبھی نہ ختم ہونے والی لازوال نعمتوں اور جنتوں کا وعدہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ربِّ رحیم ہماری مچلتی آرزوؤں، چِھن جانے والے خوابوں، ٹوٹ جانے والے وعدہ، ہاتھ آئی ہوئی نعمت کے ہاتھوں سے پِھسل جانے، ان کہی باتوں، دل میں چُھپی اور دلی خواہشات، ہماری محرومیوں، کارناموں غرض کُھلی اور چھپی تمام باتوں سے واقف ہے۔ زندگی میں کئی مرتبہ یا کبھی کبھار وہ اپنے بندوں کو گولا گنڈا لے کر دینے سے سختی سے منع کردیتا ہے۔ ہمارے تڑپنے، مچلنے اور بار بار ضد کرنے کے باوجود۔ وہ جانتا ہے کہ اس سے ہماری رُوح بیمار پڑجائے گی۔ چیز ملنے کا نقصان، نہ ملنے کے رنج سے زیادہ ہوگا۔ وہ صرف ہماری خیرخواہی، ہماری بھلائی چاہتا ہے اور دنیاوی زندگی کی مشکلات خواہ کتنی ہی بڑھ نہ جائیں، ان کی حقیقت بس اتنی ہی ہے: یوماً او بعض یوم، یعنی دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ہے۔ اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔