پشاور یونیورسٹی؛ طلبہ پر تشدد، مسئلہ کیا ہے؟ صہیب الدین کاکاخیل

کچھ دنوں سے پشاور یونیورسٹی کی انتظامیہ اور طلبہ کے مابین فیسوں میں اضافے، ہوسٹلز کے مسائل اور دیگر ایشوز کے حوالے سے کشیدگی کا اندازہ تھا۔ لیکن کل پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر جس طرح سے پولیس نے لاٹھی چارج کیا، تشدد کیا ، جیلوں کے اندر ڈالا، اس سے اندازہ یقین میں بدل گیا کہ یونیورسٹی پر اس وقت عقل، فہم اور اخلاص سے عاری مفاد پرست ٹولہ انتظامیہ کی صورت میں قابض ہے۔ جس کا مقصد ہی یہی ہے کہ سکیورٹی رسک کے نام پر کیمپس کو ایک جنگی زون میں تبدیل کیا جائے اور طلبہ کو اتنا supress کیا جائے کہ وہ اپنے جائز حقوق یا مطالبات کے لیے آواز تک نہ اٹھا سکے۔

میرا خیال تھا کہ اب زمانہ بدل چکا ہے۔ تعلیمی دنیا کا ماحول بھی کافی بدل گیا ہے۔ میڈیا، سوشل میڈیا کی وجہ سے اب آپ اظہار رائے پر پابندی نہیں لگا سکتے۔ اور اب ویسے بھی کیمپس کے اندر مجموعی تعلیمی، سیاسی اور سکیورٹی کی صورتحال 10 سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ پرامن اور پرسکون ہے۔ مگر جس طرح سے میڈیا چینلز کے سامنے پولیس نے انتظامیہ کی ایما پر طلبہ پر تشدد کیا تو پتہ چلا کہ کچھ بھی نہیں بدلا، آج بھی عقل و فہم اور تدبر سے عاری انتظامیہ انھی 15 سال پرانے طریقوں پر طلبہ کو ڈیل کر رہی ہے۔ کچھ ہفتے پہلے کسی کام سے کیمپس کے اندر جانا ہوا تو حیران رہ گیا۔ ایسا لگا کہ کیمپس کے بجائے کسی چھاؤنی میں آ گیا ہوں۔ جگہ جگہ بلاضرورت دیواریں، جگہ جگہ بیرئیرز، ہر دس قدم پر سیکورٹی کیمرے، خاردار تاریں، جگہ جگہ پرائیویٹ سیکورٹی گارڈز اور گارڈز روم، یقین ہی نہیں آیا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ کیمپس کی وہ فضا کہ جو ہمیشہ امن، سکون اور خوبصورتی سے معطر رہتی، جہاں انسان جتنا بھی تھکا پریشان داخل ہوتا، اسے ایک سکون کا احساس ملتا تھا، وہاں اب دم گھٹتا محسوس ہونے لگا۔ پتہ چلا ایک موصوف ریٹائر کرنل جو سابق وائس چانسلر جنرل ممتاز گل کے بیٹے ہیں، کو سکیورٹی انچارج کے نام پر تعینات کیا گیا ہے، بھاری مراعات کے ساتھ یہ ان کی پھرتیاں ہیں۔ یہ نفسیات ہے کہ دفاع اور سکیورٹی رسک کا ڈرامہ رچا کر ملکی وسائل لوٹ لیے جاتے ہیں، عوام کو ڈرا کر اور دشمن کا جھوٹا خوف دلاکر اسی طرح سے کرنل نے بھی سکیورٹی رسک کے نام پر اپنی کرسی کو دوام بخشنے اور غریب معصوم طلبہ کی فیسوں سے مراعات اڑانے کے لیے یہ سارا ڈرامہ کیا ہے۔ کرنل جیسے کردار ماضی میں بھی رہے ہیں، کرنل کے جنرل والد جب وائس چانسلر تھے تو ایک میجر اس وقت اسی قسم کا کردار ادا کرتا نظر آتا تھا۔ اس دور کے دوستوں کو وہ میجر یاد ہوگا۔ اس قسم کے لوگ وقتا فوقتا آتے رہتے ہیں۔

میں یہ سوچ رہا تھا کہ 2008ء، 2009ء، 2010ء خصوصا پشاور کی یہ صورت حال تھی کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جب کہیں نہ کہیں کوئی دھماکہ، خودکش حملہ، یا کوئی ٹارگٹ کلنگ نہ ہوتی ہو، پورے ملک میں حالات ابتر تھے، یہاں تک کہ ایک دن کیمپس میں بھی خودکش گاڑی کی افواہ چلی لیکن اس طرح سے خوف و ہراس پیدا کرنا، طلبہ کو ذہنی اذیت میں ڈالنا، سکیورٹی کے نام پر شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری اس وقت بھی کسی نے نہیں کی۔

اس تمام صورت حال کی ذمہ دار یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ ماضی اور موجودہ صوبائی اور مرکزی حکومتیں بھی ہیں۔ یہ سب ایک گٹھ جوڑ ہے جس کے اندر غریب طلبہ و طالبات پس رہے ہیں۔ 2010ء میں 10 ہزار سمسٹر فیس آج 40 ہزار ہے جبکہ یونیورسٹی رولز میں سالانہ صرف 10% اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ 2010ء کے بعد اٹھارویں ترمیم میں تعلیم کی وزارت ختم ہونے کے بعد یونیورسٹیز کا بیڑہ غرق ہوگیا۔ صوبائی حکومتوں نے میرٹ کے بجائے سیاسی وابستگی اور مفادات کے حصول کی بنیاد پر وائس چانسلرز کی تعیناتی شروع کی۔ وائس چانسلرز نے تعیناتی کے بعد صوبائی وزرا کے کہنے پر بےدریغ بھرتیاں کیں۔ جب فنڈز اور گرانٹ کی بات آتی تو مرکزی حکومت صوبے پر اور صوبہ مرکز پر بات ڈال کر جان چھڑا لیتے۔ بھرتی شدہ نا اہل یونیورسٹی انتظامیہ کی مجال نہیں کہ کھڑے ہوکر فنڈز اور گرانٹس کے لیے حکومتوں سے بات کرے، کیونکہ انھیں اپنی کرسی پیاری ہوتی ہے۔ نتیجہ روز بروز فیسوں میں اضافہ ہوتا گیا اور طلبہ اور والدین رلتے گئے۔ کتنی شرم کی بات ہے ہے کہ حکومتیں یونیورسٹیز سے کہتی ہیں کہ اپنے لیے خود فنڈز جنریٹ کریں۔ یونیورسٹیز کہاں سے فنڈز لائیں؟ صرف اور صرف فیسوں میں اضافہ ہی ان کا سورس ہے۔

126 دن ریڈ زون میں دھرنے کرنے اور اظہار رائے کی بات کرنے والی جماعت کے وزیر بیان دیتے ہیں کہ انھیں اجازت نہیں تھی احتجاج کی، اس لیے پولیس نے تشدد کیا۔ بےشرمی کی بھی حد ہوتی ہے۔ بات بات پر یورپ انگلینڈ کی مثالیں دینے والے ذرا یہ بتائیں کہ اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے طلبہ سے وہاں ایسے سلوک کیا جاتا ہے۔ 2 روپے اگر تنخواہ میں کمی ہو، اساتذہ تنظیمیں یونیورسٹی میں ہفتوں کلاسز کا بائیکاٹ کرتی ہیں، لیکن طلبہ پرامن طور پر، بغیر زبردستی کیے اگر احتجاج کریں تو طلبہ کا ٹائم ضائع کرنے کا الزام لگا دیتے ہیں۔ ان کے بچے نرسری سے لے کر پی ایچ ڈی تک مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یونیورسٹی کے پرووسٹ جو 18ویں گریڈ میں ہوکر 20 ویں گریڈ کے کرسی پر قابض ہیں، اپنی کرسی کے بچاؤ کی خاطر بچوں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ پہلے خود تو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھے۔ کیمپس میں اس وقت پوری پولیس لائن موجود ہے جس کو ssp رینک کا افسر Command کرتا ہے۔ 500 سے اوپر نفری، خیبر ہاؤس سیکورٹی سٹاف، انٹیلی جنس کا پورا نظام، ان سب کی موجودگی میں پرائیویٹ سکیورٹی کمپنی کے گارڈز کی تعیناتی ایک سوالیہ نشان ہے۔

اس مرحلے پر پشاور یونیورسٹی کے سابق طالب علم کے طور پر میں مکمل طور پر طلبہ کے مطالبات کی حمایت اور تائید کرتا ہوں۔ نااہل اور کرپٹ انتظامیہ کی ان ناقص پالیسیز کی مکمل مخالفت کرتا ہوں۔ اور سب سے گزارش ہے کہ بلاتفریق طلبہ مطالبات کی مکمل تائید کریں ۔ اپنے اور بچوں کے مستقبل کو بچانے کے لیے اس مافیا کو بےنقاب کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

(صہیب الدین کاکاخیل اسلامی جمعیت طلبہ کے سابق ناظم اعلی ہیں)