پیرس اک شہر بے مثال - عبداللہ فیضی

تاریخ، لٹریچر اور آرٹ میں دلچسپی کی وجہ سے مجھے ہمیشہ سے ہی پیرس دیکھنے سے زیادہ اس شہر کو محسوس کرنے کا اشتیاق رہا۔ مجھے یہ شہر کئی حوالوں سے دنیا کے باقی شہروں سے مختلف محسوس ہوا کہ یہاں کا کلچر، لوگ اور ماحول اسے باقی دنیا سے ممتاز کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو اکثر ہالی ووڈ کی فلمیں، کلاسیکی ادب اور پینٹنگز وغیرہ میں جگہ جگہ یہ شہر جھلکتا نظر آئے گا۔ اس حوالے سے پیرس کی تاریخی مقامات، آرٹ گیلریز و میوزم وغیرہ سے قطع نظر میں کچھ الگ مشاہدات شیئر کرتا ہوں جو مجھے اس شہر میں منفرد نظر آئے۔

یہاں ہر چیز میں ایک تیزی ہے:
ویٹر سے لے کر ٹرین تک، پیرس میں ہر چیز جلدی میں بھاگتی نظر آتی ہے، جیسے کراچی میں ایک جلدی سی ہے۔ جہاں پیرس کے ریستوران اور کیفے دنیا بھر میں مشہور ہیں، وہیں وہاں کام کرنے والے بیرے اپنے منفرد انداز اور مہارت میں لاجواب۔ لیکن اس کے ساتھ ان کا آرڈر لینے کا انداز اتنا تیز ہوتا ہے کہ آپ کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ وہ کب آپ کی ٹیبل پر آئے، آرڈر نوٹ کیا اور نکل لیے۔ اس کے برعکس اٹلی میں میں ویٹرز (بلکہ سبھی باتونی اٹالینز) میں بہت سستی دیکھی، جہاں وہ باقاعدہ آپ کی ٹیبل پر کھڑے گپ شپ شروع کردیتے ہیں جیسے وہ بھی آپ کے ساتھ ہی کافی پر آئے ہوں۔ یہی تیزی میں نے پیرس کی انڈرگراؤنڈ ٹرین سسٹم میں دیکھی جہاں لوگ بھاگم بھاگ ٹرین میں سوار ہو رہے ہوتے ہیں۔ باقی شہروں کے برعکس پیرس میں چلنے والی ٹرین کے سٹیشن پر رکنے کا دورانیہ غیرمعمولی حد تک کم تھا، ٹرین صرف چند سیکنڈز کے لیے رکتی ہے، یہی وجہ تھی کہ شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک چالیس اسٹیشنز کا راستہ صرف سوا گھنٹے میں طے کرلیتی ہے۔ جبکہ یہاں کوالالمپور میں ٹرین جب رکتی ہے تو اتنا دیر تک رکی رہتی ہے کہ آپ اگر چاہیں تو ٹرین سے باہر نکل کر چہل قدمی بھی کرسکتے ہیں۔

پیرس کی راتیں، لیکن یہ اتنی محفوظ نہیں:
بلاشبہ اس شہر کا اصل حسن اس کی رات میں ہی نکھر کے سامنے آتا ہے۔ پورے شہر میں روشنیاں اس پر ایفل ٹاور کے رنگ برنگے قمقمےدور سے جگمگاتےنظر آتے ہیں۔ جگہ جگہ منی کانسرٹس ہو رہے ہوتے ہیں، جہاں کاکے کاکیاں منہ سے منہ جوڑے باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ میں خاصا لیٹ نائٹ شہر میں وارد ہوا لیکن اس کے باجود شہر کھلا ہوا نظر آیا اور گلیوں سڑکوں پر خاصی چہل پہل نظر آئی۔ ہاں رات گئے مٹر گشت کرتے ایک غلط فہمی ضرور رفع ہوئی کہ یہ شہر محفوظ ہے۔ آدھی رات کے بعد شہر میں کالوں اور ہپی نما گوروں کے غول کے غول دندناتے نظر آئے جن کے ارادے کچھ نیک معلوم نہیں ہوئے، اس لیے میرے خیال میں رات جلد ہی ٹھکانے پر پہنچنا چاہیے۔ وہاں رات گئے اس قسم کا "ٹیریفائینگ" ماحول دیکھ کر مجھے اسلام آباد کا امن اور سکون بہت یاد آیا، جب ہم یونیورسٹی کے زمانے میں رات گئے بنا کسی فکر آوارہ گردی کیا کرتے تھے، اور ٹھنڈی ہوا کھاتے تھے۔ یہ عیاشی وہاں میسر نہیں۔

مہنگا لیکن فیشن ایبل ہے:
دنیا بھر کے فیشن کا دارالحکومت ہونے کے ناطے آپ کو پیرس میں نت نئے ملبوسات اور ڈیزائینز نمایاں نظر آئیں گے۔ یہاں کے لوگ عموما خوش لباس واقع ہوئے ہیں، بوڑھے افراد تک اپنی عمر کے حساب سے مناسب سٹائل اختیار کیے نظر آتے ہیں اور جوانوں کی تو بات ہی کیا۔ لیکن اس کے ساتھ پیرس باقی یورپیئن شہروں کی نسبت مہنگا بھی ہے، جو کافی ایک دو یورو میں دستیاب ہوتی ہے، وہ پیرس چار سے پانچ یورو تک میں ملتی ہے۔ اسی طرح دیگر اشیا کی قیمتیں بھی باقی شہروں کی نسبت یہاں زیادہ ہی لگیں۔ خیر میں نے تو وہاں بھی سستے کھابے ڈھونڈ لیے تھے، لیکن وہ مولاناحالی نے کہا نا، ”مگراس میں پڑتی ہے محنت زیادہ “۔

فلرٹ:
پیرس کی فضا میں ایک رومانویت ہے (آپ یوں سمجھ لیں ایک عجیب سی بےغیرتی ہے، معذرت) ۔ یہ چیز میں نے ایک استنبول میں بھی مشاہدہ کی، ہمارا لاہور بھی کچھ اسی مزاج کا ہے۔ شاید اسی وجہ سے پیرس کو سٹی آف لو یا محبت کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کو یہاں فلرٹ کرتے لوگ ہر جگہ نظر آئیں گے، یعنی کیفے میں، ہوٹل میں، پارکس، میوزیم میں، ٹرین میں غرض ہر جگہ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس کو کچھ خاص معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا، بلکہ میں نے بعد میں اس پر تحقیق کی تو پتہ چلا کہ یہ باقاعدہ ایک فن کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ اس حوالے سے میں ایک دلچسپ معلومات بھی عرض کرتا چلوں کہ فرانسیسی قانون میں مردہ شخص کے ساتھ بھی شادی کی گنجائش موجود ہے (اندازہ لگالیں، یہ ہووے ہے سچی محبت)۔ پیرس میں باقاعدہ دیوار محبت موجود ہے، جہاں کم و بیش تین سو مختلف زبانوں میں دنیا کاسب سے زیادہ دہرایا جانے والا کلمہ "آئی لو یو" لکھا گیا ہے، اب تصور کریں کہ آپ اس دیوار کے سامنے کھڑے ہو کر اگر ان میں سے کچھ ہی زبانوں کو بالجہر پڑھنے کی کوشش کریں تو فلرٹ تو ہوگیا نا آٹومیٹک۔ استغفراللہ۔ خیر، صبح جس ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا، اس کی لابی میں ناشتے کی میز پر میرے ساتھ ایک برطانوی لڑکی بیٹھی تھی کہ ایک پکی عمر کے صاحب آئے اور بلاتکلف اسے ساتھ گھومنے کی دعوت دے ڈالی، لڑکی نے طریقے سے اپنے اینگیجڈ ہونے کا بتایا، لیکن وہ صاحب ذرا شرمندہ نہیں ہوِئے، اور کہنے لگے کہ چلواچھا ہے ہم تمھارے منگیتر کے ہی متعلق باتیں کرلیں گے ( اب میں جو اپنا ناشتہ چھوڑ کر انکل کی بےعزتی دیکھنے کا شدید متمنی تھا، یہ دیکھ کر دیسی جلن، حیرت کا جھٹکا لگا، جب وہ کمبخت واقعی اس کے ساتھ گھومنے پر تیار ہوگئی)۔ بعد میں میں خود کو ملامت کرنے لگا کہ کمپلیمنٹری بریک فاسٹ ٹھونسنے کے چکر میں مجھے یہ شاندار خیال پہلے کیوں نہیں سوجھا، خیر پھر میں نے دوپہر کے کھانے کی کسر بھی پوری کی اور تسلی سے سیٹی بجاتا شانزے لیزے کی طرف خراماں خراماں چل پڑا۔

Comments

عبداللہ فیضی

عبداللہ فیضی

عبداللہ فیضی ملائشیا میں بین الاقوامی قانون میں ڈاکٹریٹ کے مرحلے سے نبرد آزما ہیں۔ قانون، انسانی حقوق، شخصی آزادی اور اس سے جڑے سیاسی و مذہبی خدشات و امکانات دلچسپی کا خاص موضوع ہیں۔ خود کو پرو پاکستان کہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.