ایغور مسلمانوں کی مدد کیسے کریں؟ تزئین حسن

بہت کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہوگی کہ چین کی مسلم آبادی سعودی عرب کی مسلم آبادی سے زیادہ ہے۔ چین میں رہنے والے مسلمانوں کی اکثریت اس وقت بد ترین مذہبی استحصال اور اذیت رسانی کا شکار ہے۔ انھیں ہماری ضرورت ہے۔ ہم کس طرح ان کی مدد کر سکتے ہیں؟ آئیے دیکھتے ہیں:

یہ کوئی 2012 کی بات ہے۔ کراچی کے ایک مہنگے اور معیاری اسکول کے اسٹاف کے ایک ٹریننگ سیشن کے دوران میں نے بر سبیل تذکرہ پوچھ لیا کہ اقبال کا یہ شعر کس کس نے سن رکھا ہے۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لیکرتا بہ خاک کاشغر
تمام شرکاء کے ہاتھ کھڑے ہوگئے۔ میرا اگلا سوال تھا، آپ میں سے کون جانتا ہے کہ کاشغر کہاں واقع ہے؟ تقریباً تین درجن شرکاء میں سے جن میں سے بیشتر او اور اے لیول کی کلاسز بھی لیتے تھے، کوئی بھی اس سوال کا جواب نہ دے سکا کہ کاشغر جس کا حکیم الامت نے اپنے معروف ترین شعر میں ذکر کیا ہے، چین کے سرحدی صوبے سنکیانگ میں واقع ہے، چین اسے خودمختار علاقہ قرار دیتا ہے۔ چینی قبضے سے پیشتر یہ خطہ مشرقی ترکستان کہلاتا تھا۔ کاشغر شہر قدیم شاہراہ ریشم پر واقع معروف ترین شہروں میں سے ہے۔ مغربی سیاح اسے ثقافتی اعتبار سے وسط ایشیا کا سب سے محفوظ شہر قرار دیتے تھے، جو صدیوں بعد اسی طرز تعمیر کا حامل تھا۔ سنکیانگ میں ایک اندازے کے مطابق 15ملین ترک نسل کے مسلمان بستے ہیں، جنھیں نسلاً ایغور کہا جاتا ہے۔ ان کی عورتیں آج بھی نقاب اور حجاب کرتی ہیں، ان کے بازاروں میں مشرق وسطیٰ کے بازاروں کی طرح مصالحے، اشیائے خوردو نوش اور تازہ تندور کی روٹیاں، اور مویشی کھلے عام فروخت ہوتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل چینی حکومت نے کاشغر کا تاریخی مرکز مسلمانوں سے بزور خالی کروا لیا۔ اس سے قبل شہر کے مرکزی علاقے کی تنگ گلیوں میں عورتیں حجاب پہن کر اور داڑھی والے مرد ٹوپیاں پہن کر روز مرہ کے کام انجام دیتے نظر آتے تھے۔ پچھلی چند دہائیوں میں ان مسلمانوں کا جینا حرام ہے۔ یاد رہے چین میں ایک دوسری نسل کے مسلمان بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں جو 'ہوئی' مسلمان کہلاتے ہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ ہم نے رمضان میں ایک 'ہوئی' مسلمان کا انٹرویو براڈ کاسٹ کیا تھا۔ ان مسلمانوں کی اکثریت چینی نسل کی ہے یا یہ آٹھویں صدی کے بعد باہر سے آئے ہوئے مسلمانوں کی چینیوں سے شادیوں کے نتیجے میں وجود میں آئے۔ یہ مسلمان چین میں مذہبی آزادی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ ہوئی مسلمانوں کی ثقافت چینی نسل کی ثقافت سے بہت قریب ہے۔

بہت کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہوگی کہ چین کی مسلم آبادی سعودی عرب کی مسلم آبادی سے زیادہ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ چینی مسلمانوں کا رابطہ باہر کی دنیا سے نہ ہونے کے برابر ہے۔ چین سنکیانگ کے صوبے کو خود مختار صوبے کا نام دیتا ہے، لیکن یہاں کا مسلمان ایک قیدی کی زندگی گزار رہا ہے۔ مہذب ممالک میں مجرم قیدیوں کو بھی اس کے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہوتی ہے، لیکن ترک نسل کا یہ چینی اپنے گھر اور محلوں میں بھی اپنے مذہب پر عمل پیرا نہیں ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دھماکے کی خبر اور ملکی مفاد - اے وسیم خٹک

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق چینی حکومت نے تقریباً ایک ملین ایغور مسلمان مردوں کو کنسنٹریشن کیمپس میں مقید کر رکھا ہے، جہاں ان کی برین واشنگ کی جا رہی ہے۔ ان کیمپس کو چین نے ری ایجوکیشن کیمپس کا نام دیا ہے، جہاں انہیں اپنے مذہب سے نفرت کرنا سکھائی جاتی ہے۔ بی بی سی کے مطابق اس وقت ایغور علاقوں کی گلیاں سنسان پڑی ہیں۔ مرد اور نو عمر لڑکے بہت کم گھر کے باہر نظر آتے ہیں۔ بی بی سی ہی کے مطابق یہ دنیا کی سب سے زیادہ نگرانی والی جگہ ہے۔ بی بی سی ہی کے مطابق چینی اس پروگرام کو transformation through education کا نام دیتے ہیں۔

تیل اور گیس کے قدرتی وسائل سے مالا مال، یہ چین کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اس کا رقبہ فرانس کے رقبے کا تین گنا بتایا جاتا ہے۔ یہ چین کا سب سے زیادہ ملیٹرائزڈ علاقہ بھی ہے جہاں ڈیجیٹل آلات کے ذریعے مسلمانوں کی مسلسل مانیٹرنگ ہو رہی ہے۔ یہاں تک کہ مسجدوں میں face recognition ڈیوائسز لگے ہوئے ہیں جو مساجد میں نماز ادا کرنے والوں کی تصویریں ریکارڈ کرتے ہیں۔ ان حالات میں کتنے مسلمان مساجد میں نماز ادا کرنے کا رسک لیتے ہوں گے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سال رمضان میں مساجد میں نماز ادا کرنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی، ورنہ روایتی طور پر یہاں رمضان ایک تہوار کی طرح منایا جاتا ہے۔ 2014ء میں حکومت کی طرف سے اس ریجن میں روزے پر پابندی لگائی گئی۔ رمضان کے مہینے میں روزے داروں کو حکومت کی طرف سے دعوتوں میں کھانے کا حکم دیا گیا۔ تعمیل نہ کرنے والوں کو ملازمت سے برخواست کرنے، جرمانے یا جیل کی قید کا سزاوار ٹھہرایا گیا۔

ایک طرف چینی حکومت بڑی تعداد میں چین کے دوسرے علاقوں سے آبادی کو یہاں منتقل کر رہی ہے جن میں ایک بڑی تعداد ریٹائرڈ فوجیوں کی ہے، جنھیں زرخیز زمینیں دے کر یہاں بزنس اور زراعت کی اجازت دی گئی ہے، اور انھیں reserved فوجی کا اسٹیٹس بھی دیا گیا ہے۔ اس طرح آبادی کا توازن چینی حکومت اپنے حق میں کر رہی ہے، اور اس سابقہ فوجی بیک گراؤنڈ رکھنے والی آبادی سے ایغور مسلمانوں کی نگرانی کا کام بھی لیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف ایغور مسلمان مردوں کا برین واش کرنے کے لیے انھیں ری ایجوکیشن کیمپس میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

ایک فرنچ صحافی کی 2014ء میں بنائی ہوئی تفصیلی ویڈیو کے مطابق جس میں اس نے پورا ہوم ورک کر کے سیاح کے طور پر اس علاقے کا دورہ کیا اور متعدد انٹرویوز کیے، چین بڑی تعداد میں تین ہزار کلومیٹر دور سے چینی نسل ہان کی آبادی کو سنکیانگ منتقل کر رہا ہے۔ اس وقت اعداد و شمار کے مطابق چینی نسل کے افراد 11 ملین کی تعداد میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دھماکے کی خبر اور ملکی مفاد - اے وسیم خٹک

امریکا کے برادرعبدالمالک مجاہد کا کہنا ہے کہ انھوں نے ٹورنٹو میں ایک ایغور بہن سے ملاقات کی جن کی چھ خالائیں یا پھپیاں سنکیانگ میں رہتی ہیں۔ چھ کی چھ آنٹیوں کے شوہروں کو ان کیمپس میں منتقل کر دیا گیا ہے، اور عورتیں اور بچے مردوں کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔ بی بی سی کی ویڈیو کے مطابق، ایک اور تشویشناک بات یہ ہے کہ اب تک ان جبراً کیمپوں میں منتقل شدہ افراد میں سے بہت کم کو رہا کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی Genocide کی تعریف کے مطابق، کسی نسل کو جبری مذہبی عقائد یا ثقافت کی تبدیلی پر مجبور کرنا نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ چین میں رہنے والے ان مسلمانوں کی نسل کشی کو روکنے کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں؟

پہلا قدم جو ہم اٹھا سکتے ہیں، وہ اس مسئلے کے بارے میں اپنے ارد گرد کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کو آگاہی دینے کا ہے، اس کے لیے ہمیں خود اس مسئلے کے بارے میں مستند ذرائع سے معلومات حاصل کرنی ہوں گی۔

دوسرا قدم ہم یہ اٹھا سکتے ہیں کہ اپنے اپنے ملکوں کے چینی سفارت خانے اور قونصلیٹ میں فون کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔ یہ کام ای میل کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے۔ جو زبان آپ بولتے ہیں، سمجھتے ہیں اسی زبان میں یہ کام کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اپنے ممالک کی وزارت خارجہ کو بھی فون کر کے یا ای میل کر کے اس معاملے میں چینی حکومت پر دباؤ ڈالنے اور احتجاج ریکارڈ کروانے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔

2014ء میں امریکی کانگریس میں چینی مسلمانوں پر رمضان کے روزوں پر پابندی کے خلاف ایک قرارداد منظور ہو چکی ہے۔ امریکی سفارت خانے فون کر کے بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا جا سکتا ہے۔

اپنے ملکوں میں موجود چینی سفارت خانوں اور قونصلیٹ کے باہر پرامن طریقے سے جمع ہو کر بھی احتجاج ریکارڈ کروایا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر چینی مسلمانوں سے رابطے کی کوشش کریں۔ میری ذاتی اطلاعات کے مطابق چین نے کچھ علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر رکھی ہے۔

یاد رکھیں سب سے بڑی ذمہ داری خود باخبر ہونا ہے اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو ان مسلمانوں کی حالت زار سے آگاہی دینا ہے۔ چین اس وقت سعودی عرب اور پاکستان سمیت تقریباً تمام مسلمان اور مغربی ملکوں سے بلینز آف ڈالرز کا بزنس کر رہا ہے۔ کیا ان حکومتوں کا یہ فرض نہیں بنتا کہ وہ دو طرفہ مذاکرات میں اس مسئلے کو اٹھائیں۔