بیکن ہاؤس سکول سسٹم اور نظریاتی زوال - بلال شوکت آزاد

کہتے ہیں اگر کسی قوم کو تباہ و برباد کرنا ہو تو اس کی نئی نسل کے ہاتھ سے کتابیں اور قلم چھین لو اور ان کو خواب اور موسیقی کے آلات تھمادو، ساری عمر پھر وہ نئی نسل ان خوابوں اور سرابوں کے دھوکے میں غرق خود اپنے آباؤ اجداد کے مذہب اور نظریات کا قلع قمع کرتے رہیں گے، جبکہ دشمنوں کو اپنے تیر و تلوار استعمال کرنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔

اوائل اسلام سے اگلے ایک ہزار سال تک مسلمان گرتے پڑتے سنبھلتے بنتے اس دنیا کے آدھے حصے پر حکمران رہے، لیکن گزشتہ چار سو سال سے مسلمان محکوم بنتے بنتے اب مظلوم بن گئے ہیں کیونکہ ان کی نئی نسل کو ایسے خوابوں اور سرابوں میں دشمنوں کے خفیہ آلہ کاروں نے جکڑا ہے جن سے جان چھڑانا تقریباً ناممکن ہوچکا ہے۔ تعلیم، نصاب تعلیم، معلمین اور طلبہ وطالبات وہ رخنے ثابت ہوئے، ہماری لاپرواہی اور لاغرضی کی بدولت کہ اب یہ ایک طاقتور مافیا بن کر ابھرے ہیں اور ان کی بدولت دشمن و طاغوت، اسلام اور پاکستان پر بیک وقت حملہ آور ہوکر بہت بھیانک نقصان پہنچا رہے ہیں۔

زمین دوز منفی تعلیمی سرگرمیاں یا یوں کہہ لیں کہ اسلام کو دیمک لگانے والی تعلیم اور باطل نظریات کی تدریس اور ترویج کا محفوظ اور محدود سلسلہ مدرسہ نظام المک طوسی کے مقابلے حسن بن صباح نے متعارف کروایا، باقاعدہ منظم انداز میں تاکہ نئی مسلمان نسل میں اسلام اپنی اصلیت کھودے، توحید اور ختم نبوت کو مشکوک کیا جائے اور مسلم غیرت و حمیت کا ایسا جنازہ نکلے کہ جس کو قبر میسر نہ آئے اور طاغوت کو کھل کر اس زندہ لاش کا مثلہ کرنے کا موقع ملے۔

ستر سال قبل اسلام کے نام پر بننے والی ایک نظریاتی ریاست پاکستان کو بننے سے روکنا جب ناممکن ہوگیا تو طاغوت نے نظاموں اور رویوں کی چال چلی۔ خود عمر لاء اور اسلامی قوانین شہریت اپنانے والے غیر مسلم آقاؤں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ مسلمان بالخصوص یہ نئی نظریاتی ریاست پاکستان کسی صورت ان اسلامی قوانین شہریت اور عمر لاء سے واقف نہ ہو جن کی بدولت یہ غیر مسلم آقا ترقی، تعلیم اور انصاف کی راہوں پر گامزن ہیں اور اگر پاکستانی مسلمان واقف ہو بھی جائیں تو چاہتے ہوئے بھی یہ ہمارے مجوزہ نظاموں کی گرفت سے نہ نکل پائیں۔

سرکاری سکولز اور درسگاہوں کی بات کریں تو وہاں لارڈ میکالے کا نظام تعلیم اور ملغوبہ نصاب تعلیم کی بدولت بس لکیر کے فقیر اور کلرک بادشاہ ہی پیدا ہوئے، اور جب اگلی انتہا، جدت و ترقی کی جانب یہ نئی ریاست کے باسی متوجہ ہوئے تو ان کے سابقہ اور موجودہ آقاؤں کو فکر لاحق ہوگئی کہ اگر یہ تعلیم اور نصاب تعلیم میں آزادی اور انقلاب اپنے اسلامی اصولوں کے مطابق لے آئے تو پھر ہمارے آگے کون جھکے گا اور کس طرح ہم اسلام اور صلیب کی جنگ میں اسلام کو نضریاتی و انقلابی شکست دیکر فتح یاب ہوسکیں گے، صرف اپنی فوج اور ہتھیاروں اور باطل نظریات کی بدولت؟

لہذا پھر مشرف دور حکومت میں نصاب تعلیم پر مشق ستم شروع کی گئی ،جو پوری طرح کامیاب نہ ہوسکی تو نجی درسگاہوں کی زنجیر کی داغ بیل ڈالی گئی، جس سے سرکاری نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کو نکال باہر کرنا آسان ہدف ثابت ہوا، اور یہ آگے چل کر طاغوت کو ایک انقلابی و مہلک ہتھیار کی صورت کام آیا۔ بیکن ہاؤس سکولز سسٹم اور بعد از کامیابی دی ایجوکیٹرز کی بنیاد ڈالی گئی، جس نے آہستہ آہستہ نظریہ پاکستان، عقیدہ توحید اور ختم نبوت ص کی بنیادیں ہلا ڈالیں، ہماری نئی نسل کے اذہان میں۔

آج ان دو اور ان جیسے دیگر ملتے جلتے ناموں والی درسگاہوں کی زنجیر میں ہماری نئی نسل کا 75% فیصد معاشرتی حصہ جکڑا ہوا ہے، والدین کی رضا و رغبت سے۔
یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ کو بغیر تعارف پہچاننے کی چند نشانیاں ہیں۔
--- اسلام و پاکستات بیزار ہوں گے۔
--- قرآن و حدیث کے منکر ہوں گے۔
--- نظریہ الحاد و لبرل ازم کے دلدادہ ہوں گے۔
--- سوال کا ہتھیار ہاتھ میں لیکر ہر اسلامی شعار اور پاکستانی روایت کا قلع قمع کرتے ہوئے پائے جائیں گے۔
--- بظاہر فریڈم آف سپیچ اینڈ ایکسپریشن کے علمبردار جبکہ دراصل ہیٹ سپیچ کے علمبردار ہوں گے۔
--- تمیز اور تہذیب سے کوسوں دور اور اڑیل ٹٹو ہوں گے۔
--- جہاد، نظریہ پاکستان اور افواج پاکستان کے شدید ناقد ہوں گے بنا دلیل۔
--- موسیقی، رومانس، مخلوط میل جول، کھیل کود، سیکولرازم اور پیس فار ورلڈ کے رسیا ہوں گے۔

غرض ایسی اور بہت سی منفی اور تابناک نشانیاں اپنے مشاہدے اور تجربے میں آپ کو دیکھنے اور سننے کو ملیں گی جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ لارڈ میکالے اپنے مقصد میں کس قدر کامیاب ہے۔

میری نظر میں یہ بیکن ہاؤس سکول سسٹم تب کَھلا جب 2005ء میں میرے ایک کزن نے یہاں داخلہ لیا اور ا سکی زبانی مجھے جو باتیں پتہ چلیں، انہوں نے مجھے بے چین کیا۔
ایک تو اردو کو حقیر اور کمتر زبان کے طور پر وہاں بات بات پر ذلیل کیا جاتا ہے، طلبہ کو اس کے استعمال سے بزور سختی روکا جاتا ہے۔
دوم اسلام اور تاریخ اسلام کا مثبت ذکر وہاں کے پالیسی سازوں اور احساس کمتری کے شکار معلمین کو ناگوار گزرتا ہے۔
سوم نظریہ پاکستان اور تاریخ پاکستان کو وہاں مسخ کرنا اولین مقاصد میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کا فارغ التحصیل طالب علم محمد علی جناح و دیگر بانیان پاکستان کے متعلق بری طرح کنفیوز ہے کہ وہ مسلمان ریاست کے خواہاں تھے یا سیکولر؟
اس سکول سسٹم میں موسیقی، ڈانس، مصوری اور مخلوط طرز تعلیم نچلے درجے سے اوپری درجے تک اس طرح لازم ہے جیسے اسلام میں کلمہ نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور جہاد۔

پھر جیو نیوز کی طرح اس سکول کا بھی "امن کی آشا" اور "سیفما" نامی کیمپینز سے چولی دامن کا تعلق ہے۔ جو کام جیو نیوز "ذرا سوچیے" کہہ کر عوام کی رائے عامہ خراب اور مرضی کی سمت میں استوار کرتا ہے، وہی کام یہ سکول سسٹم بڑے دھڑلے اور ہٹ دھرمی سے اپنے معلمین اور نصاب تعلیم کے ذریعے اپنے طلبہ و طالبات بالخصوص نئے طلبہ و طالبات میں کرتا ہے۔

آپ کو ذرا سی تحقیق اور تگ و دو اس سکول سسٹم کی ان اندھیری وادیوں میں لا کر چھوڑے گی جہاں آپ کو فقط بغاوت اور نفرت ہی ملے گی۔

--- اسلام، خالق و پیغمبر سے بغاوت اور نفرت۔
--- پاکستان، نظریہ پاکستان اور تاریخ پاکستان سے بغاوت اور نفرت۔
--- معاشرتی روایات اور تہذیب و اخلاقیات سے بغاوت اور نفرت۔

جدت و ترقی، آزادی رائے، اظہار اور سائنس و فن کے نام پر آپ کو یہاں ایک ایسی شتر بے مہار نسل نظر آئے گی جن کا اوڑھنا بچھونا تین وہ چیزیں، وہ طریقہ کار، وہ نظریات اور وہ معمولات بن چکی ہیں جو ایک منظم پروگرام کے تحت باقاعدہ داخل کی گئیں۔ ٹرپل ایس پروگرام کے نام سے اور جس کی خبر راقم 2006ء سے ببانگ دہل دے رہا ہے مگر نقار خانے میں طوطی کی صدا والی بات ہو رہی ہے۔

جو لوگ آج فکر مند ہو رہے ہیں جو کہ اچھی بات ہے، لیکن اگر تب ہی میرے جیسوں کی پکار پر لبیک کہتے تو آج ہم ایک نسل کی خراب فصل نہ کاٹ رہے ہوتے، جو اب ہمارے ہاتھ سے نکل چکی ہے، اور ہم ان کو واپس شاید اب نہیں لاسکتے، لیکن ہم اگلی اور نئی نسل کو اس خطرناک پروگرام سے بچا سکتے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */