تبدیلی کہاں ہے؟ - ذوالقرنین ہندل

ہم سب بھی دنیا میں موجود ایسی قوم کا حصہ ہیں، جن کی اکثریت عملی لحاظ سے سست اور کاہل ہے۔ ایسی قوم جس نے بڑے قابل، ذہین اور تاریخ دان دیے ہوں، مگر اس کی اکثریت عملی لحاظ سے سست اور زبانی کلام میں درجہ اول کی ہو۔ ہمیشہ اکثریت کی بدولت اقلیت کو پنپنے کا خاص موقع ہی نہیں ملتا۔ مجموعی لحاظ سے ہم خاصی الجھی ہوئی قوم ہیں۔ لیڈرشپ کا فقدان واضح ہے۔ اپنی سمت خود تعین کرنے سے عاری، بنے بنائے راستوں پر چلنے کی عادی قوم۔ شاید دنیا میں ایسی ہی اکثریت ہو، مگر ہم بھی ویسی قوم ہیں، جن کو واویلا مچانا خوب آتا ہو۔ کامل یقین سے عاری، اور بے یقینی سے پیوستہ۔ بے یقینی ہمیشہ وسوسوں کو جنم دیتی ہے۔ وسوسے افراتفری کو فروغ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمل سے عاری قوموں میں ہمیشہ مایوسی ہی جھلک رہی ہوگی۔ شکایات کے انبار نے ذہنوں پر منفیت کو مسلط کیا ہوگا۔

اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود نہ چاہے۔ یہاں چاہنے سے مراد ہرگز یہ نہیں کہ کوئی خلائی مخلوق آئے اور سب بدل جائے۔ حقیقی تبدیلی عوام ہی لا سکتی ہے۔ عمل سے، تحمل سے اور دانائی سے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم کسی ایک نظریے پر چلتے ہی نہیں۔ ہماری باتوں اور عمل میں بڑا تضاد موجود ہے۔ شاید ہم زمانے کی رفتار کو صحیح سمجھ نہیں پائے۔ بطور پاکستانی عوام ہم سب عمل سے عاری ہیں۔ اول درجے کے بے صبر، تحمل و برداشت شاید قریب سے بھی نہ گزری ہو۔ البتہ باتوں سے ہم خود کو بڑے درجے کے دانشور و دانا ظاہر کرتے ہیں۔ عملی میدان میں ہماری دانائی گہری نیند سو جاتی ہے۔

بات پاکستان کی موجودہ حکومت کی ہو۔ چند مہینے پہلے بڑی دانائی کی باتیں کر رہے تھے۔واقعی خود کو عوام میں اول درجے کے دانا بھی ثابت کر چکے۔ یہی وجہ ہے کہ آج حکومت میں ہیں۔ تحمل و برداشت تو پہلے ہی سے دور رہی۔ مگر ایک دانائی کا ہی سہارا تھا، جس کی بدولت حکومت ملی۔ تبدیلی کے بڑے دعوے۔ سو دن میں ملکی قسمت بدلنے کے کرتب۔ کرپشن کا دنوں میں ہی جڑ سے سوکھ جانا۔ بیرون ملک موجود پاکستانی رقم کی وطن واپسی کی کامیاب ترین ترکیبیں۔ قومی کرکٹ ٹیم پر سے وزیراعظم کے اثرات کا خاتمہ۔ رشتہ داروں اور دوستوں کو وزارتوں سے پرے رکھنا۔ وزراتی پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کی دوا۔ نوجوانوں سے بھرے ایوان۔ پڑھا لکھا ایوان ہمارا۔ پروٹوکول کو غائب کرنا۔ سائیکل کو جہاز کا درجہ دینا۔ پٹرول کو پانی کی طرح عام کرنا۔ مہنگائی کی کمر توڑ دینا۔ آئی ایم ایف سے نظر چرانا۔ ملک کو خودمختار بنانا۔ دوسرے ملکوں کو قرض دینا۔ ایسے دعوے ہرگز کسی بنگالی بابا نے نہیں کیے تھے۔ بلکہ ہماری ہونہار موجودہ حکومت نے کیے تھے۔ ایسے ہی کچھ کرتب اور ترکیبیں 2013 کے الیکشن سے پہلے مسلم لیگ نواز نے بھی بتائی تھیں۔ اس سے پہلے یہ کرتب دیگر جماعتوں کی طرف سے بھی بتائے گئے ہوں گے۔ تو تبدیلی کہاں گئی؟ ہو سکتا ہے، تبدیلی الیکشن کی تھکاوٹ اتار رہی ہو۔ الیکشن کے بعد وہی رویہ حکومت کا ہے، جو ماضی کی حکومتوں کا رہا۔وہی رویہ اپوزیشن کا ہے، جو ماضی میں اپوزیشن کا رہا۔ تو بدلاؤ کہاں ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   سگریٹ پر ’’گناہ ٹیکس‘‘ - آصف محمود

فواد چوہدری اور مشاہداللہ کا ایک دوسرے پر تنقید کرنا، بھی تبدیلی کا حصہ نہیں۔ بلکہ ہرگز نہیں، ماضی میں ایسی تنقید خود عمران خان، خواجہ آصف، عابد شیر اور مراد سعید اور دیگر بھی کرتے رہے ہیں۔ الیکشن میں دھاندلی کے الزامات پہلے بھی تھے، اور اب بھی ہیں۔ اپوزیشن کی حکومت کا دنوں میں بستر گول کرنے کی دھمکی، بھی تبدیلی کا حصہ نہیں۔ ایسا تو گزشتہ معروف دھرنوں میں بھی ہوتا رہا ہے۔ عوام کا حکومت کو منتخب کر کے جلد بدگمان ہو جانا، بھی ہرگز نیا نہیں۔ ایسا بھی ہماری ہی تاریخ کا حصہ ہے۔ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ کر ملکی امور کو روکنا، پہلے بھی ہماری فطرت میں شامل تھا، اور اب بھی ہے۔ حکومتی اکڑ پہلے بھی تھی، اور اب بھی ہے۔ تنقید برائے تنقید پہلے بھی تھی، اور اب بھی ہے۔ عہدوں کی بندر بانٹ پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے۔ تو بدلا کیا ہے؟ کچھ نہیں۔ صرف طریقہ واردات کے علاوہ۔

گزشتہ حکومت نے چار دن تنخواہیں نہ لینے کے دعوے کر کے عوام کو بے وقوف بنایا تھا۔ اب کی حکومت بھینسیں بیچ کر خوب داد وصول کر رہی ہے۔ میں اس فقرے سے بالکل متفق ہوں’ جیسی عوام ویسے حکمران‘۔ یاد رکھیے، تب تک کچھ نہیں بدلے گا، جب تک ہم نہیں بدلیں گے۔ ہمیں اپنے اندر مثبت سوچ کو جذب کرنا ہوگا۔ منفیت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔ صبر کے پیمانے کو وسیع کرنا ہوگا۔ تحمل و برداشت سے آشنا ہونا پڑے گا۔ ذاتی انا کو پرے رکھ کر غلط کو غلط اور درست کو درست کہنا ہوگا۔ اپنی منتخب کردہ حکومت اور نمائندے پر یقین کرنا ہوگا۔ انہیں وقت دینا ہوگا۔ تنقید کرنا ہوگی مگر جائز تنقید۔ پارٹیوں کی گرفت سے نکل کر محب وطن پاکستانی بننا ہوگا۔ جائز تنقید سننا ہوگی۔ چاہے خود پر ہی کیوں نہ ہو۔ کسی کی مخالفت میں گھٹیا جملوں اور پرپیگنڈہ سے اجتناب کرنا ہوگا۔ اگر حکومت غلط ڈگر پر ہو تو مل کر پوری قوم کو مخالفت کرنا ہوگی۔ اگر اپوزیشن غلط کرے تو سب کو مل کر اسے برا کہنا ہوگا۔ سیاسی پارٹیوں کی محبت سے نکل کر ملکی سلامتی کا سوچنا ہوگا ۔سیاسی ورکر بننے کے بجائے ملکی ورکر بننا ہوگا۔ حق کا ساتھ دینا ہوگا۔ جتنا بھٹو گے اتنا بھٹکو گے۔ چھوٹی سی مثال آخر پر، اس گاؤں کا کام کوئی سیاستدان نہیں کرتا جس کی عوام مختلف پارٹیوں میں تقسیم ہوجائے، کیونکہ اس گاؤں کی نظریاتی تقسیم کی بنا پر ووٹ کی قدر ختم ہوجاتی ہے۔ عوام کو اپنی قدر بڑھانا ہوگی، متحد ہوکر۔ ورنہ! تبدیلی لفظ کو بھول جاؤ۔