ٹیکس کون نہیں دیتا؟ شاہد محمود

گزشتہ پانچ سال نون لیگ کی حکومت نے انتہائی مشکل سے پورے کیے ہر آنے والا دن حکومت کا آخری دن تصور کیا جاتا تھا ، اور ہر قربانی کی عید سے پہلے شیخ رشید صاحب پیشن گوئی کرتے تھے کہ قربانی سے پہلے حکومت کی قربانی ہو گی، جب 2014 میں تحریک انصاف کے چئیرمین اپنا قافلہ لے کر لاہور سے نکلے تو ان کے ساتھ عوام کا جم غفیر تھا اور اسلام آباد پہنچنے تک اس قافلے کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو گیا اور اسلام آباد میں جیسے ہی قافلے نے پڑاؤ ڈالا تو سپیکر سے پہلے تو صدائے احتجاج بلند ہوتی رہی لیکن کچھ ہی دیر بعد پنڈال میں عوام کا جوش وخروش دیکھ کر خان صاحب نے چند دن کے اندر اندر حکومت سے آزادی کا جشن منانے کا اعلان کر دیا اور جشن کی تیاریاں شروع ہو گئی ، آزادی کے نغموں پر رقص کرتے جوشیلے نوجوان مرد وزن دھڑا دھڑ سوشل میڈیا پر حکومت گرانے اور مبارکبادیں وصول کرنے میں مصروف ہوئے لیکن یہ مشکل ترین مرحلہ بھی حکومت نے کامیابی سے سر کر لیا ،اس کے بعد مسلم لیگ نون کاروبار حکومت میں مصروف ہوئی اور لوڈ شیڈنگ ،مہنگائی اور داخلی دہشت گردی جیسے پہاڑ جیسے مسائل کے حل ڈھونڈے جانے لگے اور اس میں حکومت کو کافی کامیابی بھی ملی اس کے بعد حکومت پر بہت سے اتار چڑھاؤ آتے رہے لیکن حکومت نے ہانپتے کانپتے مدت پوری کر ہی لی، پانچ سالہ دور حکومت کے آخری چند مہینوں میں حکومت نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم متعارف کروائی جس کے تحت سالانہ 12 لاکھ آمدن پر ٹیکس کو زیرو کیا گیا اس کے بعد بالترتیب پانچ ،دس اور پندرہ فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کیے گئے اور بیرون ملک کاروبار کرنے والے بزنس مینوں اور کمپنیوں کے مالکان کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے پرکشش آفرز کی گئیں ،اس سے بھی حکومت کو توقع سے کم رسپانس ملا لیکن کچھ نا کچھ وصول ہو ہی گیا۔

اس ساری تمہید کا مقصد یہ ہے کہ موجودہ گورنمنٹ نے بھی منی بجٹ پیش کر کے جہاں ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کیا وہیں سالانہ قابل ٹیکس آمدنی کی حد 12 لاکھ سے کم کر کے 8 لاکھ کر دی یا شائد اس سے بھی کم، اور موبائیل فون،سیگریٹ ،سیمنٹ، ایل پی جی، سوئی گیس، میک اپ کے سامان سمیت 400 سے زائد اشیاء پر ٹیکس میں اضافہ کر دیا ، پھر بھی اعلان کرتے ہوئے ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے کہ یہ ٹیکس صرف امیروں پر لگائے گئے ہیں جبکہ غریبوں کو مکمل چھوٹ دی گئی ہے۔

قارئین محترم! کیا آپ لوگ ٹیکس نہیں دیتے؟ یا پاکستان میں کون سا ایسا شخص ہے جو ٹیکس نہیں ادا کرتا ؟ یہاں پر تو ہر پیدا ہونے والے بچے سے لے کر مرنے والا مردہ بھی قیامت تک ٹیکس ادا کرتا رہتا ہے اور نوکری پیشہ افراد میں چاہے کوئی تین ہزار ماہانہ کمائے یا تین لاکھ ماہانہ دونوں ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ با قی یہ سب الفاظ کی ہیرا پھیری ہے جس میں فائلر اور نان فائلر کی تفریق کی گئی ہے یہ سب کام فائلوں اور حکومتی ریکارڈ میں تو ہو سکتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسی کسی چیز کا وجود نہیں ہے جس میں عوام کو ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہو یا تھوڑا سا بھی ریلیف دیا گیا ہو۔

پاکستان میں جہاں بھی کسی بچے کی پیدائش ہوتی ہے چاہے وہ ہسپتال میں ہو یا گھر میں ، نارمل ڈیلیوری ہو یا آپریشن کے ذریعے ہو اس کی پہلی سانس چلتے ہی اس پر ٹیکس لاگو ہو جاتا ہے ہسپتال میں آپریشن کے آلات اکثر مریضوں کے لواحقین سے منگوائے جاتے ہیں جن میں سے ہر اوزار کی قیمت خرید کے علاوہ کم و بیش 15 سے20 فیصد ٹیکس ہوتا ہے اگر نارمل ڈیلیوری یا گھر میں بھی پیدائش ہو تو نو زائیدہ بچے کے کپڑے اور دودھ پر بھی کم از کم 20 فیصد ٹیکس دینا ہوتا ہے جو کہ قیمت خرید اور منافع کے علاوہ ہوتا ہے اور ہر پروڈکٹ پر واضح انداز میں لکھا ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک لمبا سلسلہ ہے جوں جوں بچہ بڑا ہوتا ہے اس کے ذمے ٹیکس بھی بڑھتا رہتا ہے سکول کے بیگ، یونیفارم اور فیسوں پر بھی ٹیکس کی مختلف شرح نافذ ہے۔

یہ تو بچپن ہو گیا جس کا علم مجھے اور آپ کو نہیں تھا اور ہمارے والدین ہمارے حصے کا ٹیکس ادا کرتے رہے اب ہر بندہ کتنا ٹیکس اور کیسے ادا کرتا ہے اس کے لیے ایسے کئی کالم ناکافی ہوں گئے زیادہ تفصیلات پھر قسط وار قارئین کرام تک پہنچائی جائیں گی ابھی چھوٹا موٹا حساب کر کے آپ کو بتاؤں گا پھر بھی آپ کی آنکھین کھلی رہ جائیں گی ، سب سے پہلے بہت عام ٹیکس جو آپ ادا کرتے ہیں اس کی رسید تقریباََ ہر پاکستانی کے گھر میں موجود ہے ابھی کالم پڑھتے ہوئے آپ رسید نکالیں اور چیک کریں کہ صرف بجلی استعمال کرنے پر قیمت بجلی کے علاوہ آپ نے کتنا ٹیکس ادا کیا ہے؟ اگر آپ کی ماہانہ یونٹس سو سے کم ہیں تو قیمت بجلی مختلف اور اگر اس سے زیادہ ہیں تو آپ کو بجلی کی قیمت بھی زیادہ ادا کرنی پڑتی ہے یہاں تک بھی معاملات ٹھیک ہیں لیکن اس کے بعد بجلی کے بل پر ہر خاص و عام سے مندرجہ ذیل ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں، سب سے پہلے محصول بجلی (یہ قیمت کے علاوہ ٹیکس ہے) ٹیلی ویژن فیس (کیا ٹیلی ویژن کے لیے کوئی الگ خاص بجلی فراہم کی جاتی ہے؟) جنرل سیلزٹیکس (گھر میں کوئی کاروبار نہیں لیکن چلو یہ بھی قابل قبول ہے) ایف سی سرچارج( اس کا مقصد کسی بھی قاری کی سمجھ میں آئے تو میرے ای میل پر بھیج دے) نیلم جہلم سر چارج( نیلم جہلم کی تعمیر کے لیے اربوں روپے مختص ہیں لیکن پھر بھی عوام سے بجلی بننے سے پہلے ہی وصولی شروع) ٹی آر سرچارج۔ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ( کیا بجلی کی قیمت میں فیول کا خرچہ شامل نہیں تو پھر قیمت بجلی کا جواز؟) فردر ٹیکس( اس کی سمجھ مجھے آج تک نہیں آئی) اس کے علاوہ کمرشل بلوں پر الگ سے انکم ٹیکس ، سیلز ٹیکس، فاضل ٹیکس اور پتا نہیں کون کون سے ٹیکس مسلط کیے گئے ہیں اگر آپ نے ماہانہ سو سے کم یونٹس بھی استعمال کیے ہیں تو کم از کم ماہانہ بل قیمت بجلی 500 روپے اور اس پر آپ کو 300 روپے ٹیکس بھی ادا کرنا ہو گا اس سب کے باوجود کم وولٹیج ، لوڈشیڈنگ اور لائن لاسز کے مسئلے کا سامنا بھی رہے گا۔

قارئین محترم! سیلز ٹیکس آرڈیننس 1990ء کے نفاذ سے صرف چند مخصوص اشیاء پر سیلز ٹیکس لگایا گیا تھا جسکی شرح10فیصد تھی جبکہ2001ء میں جنرل سیلز ٹیکس آرڈیننس 2001نافذ کیا گیا اسکی شرح 14فیصد سے 19فیصد تک مقرر کی گئی اور یہ ٹیکس تقریباً روز مرہ کی استعمال کی تمام ضروریات زندگی پر لگایا گیا،حتیٰ کہ یوٹیلٹی بلوں پر بھی اس کو لاگو کیا گیا۔جس سے ہوشربا گرانی نے جنم لیا۔ مزید برآں چونکہ سیلز ٹیکس کی وصولی تاجروں کے ذریعے ہوتی ہے جو اپنا سامان تیار کر کے دکاندار کو بھیجتا ہے لہٰذا وہ بوقت فروخت دوکاندار سے سیلز ٹیکس وصول کر لیتا ہے۔ لیکن چونکہ وہ اپنی سیل انکم ٹیکس کے گوشوارے میں عموماً کم ظاہر کرتا ہے۔ اسلئے عوام/ صارفین سے وصول کئے گئے ٹیکس کا ایک بڑا حصہ کار خانہ داروں اور تاجروں کی جیب میں چلا جاتا ہے۔ کچھ یہی حال ود ہولڈنگ ٹیکس کا ہے ہر شے کے پیکٹ پر ود ہولڈنگ ٹیکس قیمت اشیاء میں شامل ہوتا ہے جو کار خانہ دار وصول کر چکا ہوتا ہے لیکن حکومت کے خزانہ میں اس کا کثیر حصہ داخل نہیں ہوتا بلکہ تاجروں کی جیب میں چلا جاتا ہے۔ انکم ٹیکس کی مد میں 65فیصد کل وصولی کا حصہ ود ہولڈنگ ٹیکس سے کیا جاتا ہے جو عوام پر سراسر ظلم ہے۔ چنانچہ سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس ہی مہنگائی کا ایک بڑا سبب ہے۔
بے بس قارئین! آپ میں سے ہر وہ شخص جو بازار سے کسی بھی قسم کی کوئی چیز خریدے گا تو کم از کم پانچ فیصد اور زیادہ تر 17 فیصد ٹیکس لازمی ادا کرے گا جیسے آپ نے سو روپے کی خریداری کی ہے تو چیز کی اصل قیمت کمپنی اور دوکاندار کے منافع کے بعد گورنمنٹ کے خزانے میں 10 روپے سے 17 روپے تک جاتے ہیں اسی طرح تین ہزار کی خریداری پر آپ نے حکومت کو کم از کم 250 روپے ادا کیے ہیں ، ہر گھر کا کم از کم ماہانہ راشن اور ضروریات 10 ہزار تو لازمی ہوتی ہیں تو وہ غریب ترین گھرانہ بھی 10 ہزار کی خریداری کر کے 7سے 12 سو روپے تک حکومتی خزانے میں جمع کرواتا ہے ، اس وقت پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسی چیز ہو جس پر ٹیکس نہیں باقی جو لوگ ہسپتال جاتے ہیں یا روڈ پر سفر کرتے ہیں ،بچوں کو پارک میں لے کر جاتے ہیں تو اس کے لیے ٹیکسوں کی ایک الگ داستان ہے۔

قارئین کرام! اگر میں اور آپ ماہانہ پندرہ سے بیس ہزار کماتے ہیں ہیں تو ہم ہزار سے پندرہ سو تک ٹیکس بھی دیتے ہیں جو بندہ ماہانہ تین لاکھ کماتا ہے تو اس کی ٹیکس کی شرح بھی اتنی ہی ہے یعنی کہ پانچ سے 17 فیصد تک ، اس لیے معاشی ماہرین جو غریب اور امیر کے لیے فائلر اور نان فائلر کی اصطلاح استعمال کر رہے ہیں وہ بالکل غلط اور حقائق سے کوسوں دور ہے۔

جو حقائق میں نے آپ کے سامنے رکھے ہیں ان سے قطع نظر یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے ٹیکسوں کا نفاذ بہت ضروری ہے اور ہم لوگ اگر ٹیکس نہیں دیں گئے تو ملک ترقی نہیں کرے گا ، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو ٹیکس ہم حکومت کو ادا کر رہے ہیں ان کے بدلے میں حکومت کی کیا ذمہ داریا ں ہیں؟ اور حکومت ان ٹیکسوں کے بدلے میں ہمیں کیا سہولیات دینے کی پابند ہے ؟
جاری ہے