ماسکو کی زیر زمین ٹرین - عبدالحلیم

روس کے دارالحکومت ماسکو کا آبادی اور رقبے کے لحاظ سے دنیا کے 10 بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ اتنے گنجان آباد شہر میں بھی کوئی ٹریفک جام نہیں ہوتا، نہ ہی جابجا سگنلز پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں اور بے ہنگم ٹریفک، اور نہ ہی دھویں اور پٹرول کے بادل جو اس شہر کی خوبصورتی کو گہنائیں۔

اس منظم خوبصورتی کی وجہ وہاں کی زمین دوز میٹرو ٹرین ہے جس کا جال پورے شہر میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک پھیلا ہوا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو بلاضرورت اپنی گاڑیاں سڑک پر لانی نہیں پڑتیں کیونکہ میٹرو اسٹیشن بھی لاتعداد ہیں جن تک رسائی 5 منٹ کی واک تک ہو جاتی ہے۔

ماسکو میٹرو صبح 5 بجے سے لے کر رات 1 بجے تک نان سٹاپ چلتی ہے۔ اس کی لائن کی کل لمبائی 379 کلومیٹر ہے اور اس پر سٹیشنز کی تعداد 245 ہے۔ ماسکو شہر میں 14 مختلف (کلرز) روٹس کی ٹرین چلتی ہیں، ہر روٹ شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جاتا ہے، ایک روٹ کا کل فاصلہ 70 کلو میٹر سے بھی زائد تک ہو سکتا ہے، اور ہر روٹ پر اتنی کثیر تعداد میں ٹرینز چلتی ہیں کہ ایک ٹرین نکل جانے کے بعد آپ کو زیادہ سے زیادہ 2 منٹ تک کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح ہر سٹیشن سے دو یا تین مختلف روٹس کی ٹرین چلتی ہیں جہاں آپ اپنی منزل مقصود کے مطابق ٹرین بدل سکتے ہیں۔ ٹرین روٹس کی تعداد کے مطابق دو سے تین منزلہ پلیٹ فارم بنے ہوئے ہیں اور یہ ٹریک 84 میٹر کی گہرائی تک بھی چلے جاتے ہیں، اور کہیں دریا کے نیچے سے بھی گزرتے ہیں۔ اتنے خوبصورت شہر اور بلند وبالا عمارتوں کے نیچے اتنا بڑا نیٹ ورک یقیناً ایک عجوبے سے کم نہیں۔ روس نے بہت پہلے سے اس کی ضرورت کو بھانپ کر آج سے 85 سال قبل 1935 میں ہی اس کو بنا لیا تھا۔

آپ نے ایک دفعہ 36 روبیل کا ٹکٹ لے لیا اور سٹیشن میں داخل ہو گئے، پھر چاہے آپ دس ٹرینیں بدلیں یا شہر کے چکر لگاتے رہیں، آپ کا وہ ہی ٹکٹ چلتا رہے گا، جب تک کہ آپ سٹیشن سے باہر نکل نہ جائیں۔ ایک اندازے کے مطابق اوسطا 70 لاکھ سے زائد لوگ روزانہ اس میٹرو ٹرین کو استعمال کرتے ہیں۔