اعتدال کے پیمانے - محمد عنصر عثمانی

معاشرے کی ترقی کا جو موجودہ منظر نامہ حیران کن ہے۔ اعتدال کے راستوں کے نشانات مٹتے جا رہے ہیں۔ عوامی سطح پر شعور اپنا وجود ڈھونڈ رہا ہے۔ پاکستانی عوام کو اقوام عالم کی زندہ دل قوم بنانے، قوم کو یکجا کرنے والے مخلصین نے اپنی ذمہ داریاں خون دے کر نبھائیں۔ تب ملک میں کوئی بھی مسئلہ چاہے کسی نوعیت کا ہوتا اسے بڑے غور وغوض سے حل کیا جاتا تھا۔ عوام بھی کٹھن حالات سے گذرے تھے، انھیں قیادت کی دوراندیشی کا اندازہ تھا۔ لسانیت، مذہبیت، قومیت کے در ہر سو بند تھے۔ سرکاری و غیر سرکاری ادارے اس بات کا التزام کرتے کہ کسی بھی منصب کی تقرری کے وقت اس کے بارے خوب شرح کی جاتی تھی۔ کیوں کہ ملک کی آزادی کا واحد مقصد (اسلامی جمہوریہ پاکستان ) کسی سے ڈھکی چھپی بات نہ تھی۔ یہ بات بھی حقیقت سے خالی نہیں کہ کئی صدیاں ایک ساتھ رہنے کے بعد بھی مسلمانوں اور ہندوؤں نے ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوئی جامع کوشش نہیں کی تھی۔ آزادی کے بعد دونوں ملکوں کے مذہبی حلقوں کو بھی آزادی ملی۔ اس مذہبی آزادی کے بدلے مسلمانوں میں باہمی نفرت نے سر نکالا اور مسالک و عقائد کی کونپلیں جگہ جگہ پیدا ہوگئیں۔ یوں سالوں سے اسلام کی سربلندی کے لئے کی جانے والی جد جہد آزادی کا صلہ یہ ملا کہ مذہب کے نام پر عوام میں شکوک و شبہات، مذہبی منافرت اور اختلافات جنم لینے لگے۔ جو تاحال شدت کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ اور اگر ان کا سد باب نہ کیا گیا تو ملک میں مذہب کی کھچڑی بن جائے گی۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے معاملات معتدل ہیں ،لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔اعتدال کے راستے چننا اور ان پہ چلنا ہمارے معاشرے میں مشکل ہوتا جارہا ہے۔اپنے ذاتی فیصلوں سے مذہبی معاملات تک اعتدال کاوجود تو دور سایہ تک نظر نہیں آتا۔ایک معتدل ذہن اپنے کاموںمیں مذہبی رواداری کا باب کھلا رکھتا ہے۔اسے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی زندگی میں معیشت ،معاشرت کانظام مذہب سے جڑاہے۔لہذا وہ مذہب سے پہلو تہی نہیں کرتا ۔اختلاف رائے فطری طبعی چیز ہے مگر اسے پہاڑ بنا دینا زندہ دل قوم کی پہچان نہیں۔باہمی مسابقت کا جذبہ ہی معاشروں کوترقی یافتہ بناتا ہے۔اس دور میں جب کہ میڈیا کا اثر ذہنوں پہ کھلے عام ہورہا ہے ۔مذہب کے نام پہ اختلافات بڑھ گئے ہیں۔نوجوانوں کو دی جانے والی ہر طرح کی آزادی نے ان کے ذہنوں پہ قبضہ کیا ہواہے۔جس سے ان کی سوچ متذبذب ہوتی جارہی ہے ۔سوچنا چاہیے کہ آنے والی نسل کوبھی معاشرتی اعتدال نصیب ہوگایا وہ بھی جدید ٹیکنالوجی کی ایجاد کردہ پیمانوں کی محتاج ہوگی؟ اس منظر نامے سے مستقبل میں ایک خوفناک معاشرہ وجود میں آئے گا۔جس سے انصاف و ہمدردی کی امید نہیں کی جا سکتی ۔

انتہا پسندی بے اعتدالی سے جنم لیتی ہے۔ جب کوئی سیاسی، عقیدتی معاملات میں اعتدال کی حدوں کو کراس کرتا ہے تو انتہاپسندی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور پھر معاشرے میں انتشار کی کیفیت پیدا ہو کر نظام انصاف درہم برہم ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ سیاسی، مذہبی معاملات دوسروں پہ مسلط کرنے کی کوشش میں اعتدال کا راستہ چھوڑ دیاجاتا ہے۔ دیکھا جائے تو ’’سیاست ‘‘میں اعتدال کھیل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔جس کی لاٹھی اس کی بھینس ۔انصاف کے سبھی طوطے اپنی مٹھی میں بند کرکے رکھے جاتے ہیں۔سیاست ایسا موضوع ہے جو ہر جگہ زیربحث ہو تا ہے۔اسی کی وجہ سے اقتدار چھینے جاتے ہیں ،تختوں پہ قبضے کئے جاتے ہیں ۔اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ سیاست کا مفہوم وسیع ہے ۔گھر سے دفتر تک ۔دوستوں سے رشتہ داروں تک ہر جگہ سیاست سے کام لیا جاتا ہے ۔یہ ذمہ داری ریاست کے ساتھ عوام کی بھی ہے کہ وہ اپنے معاملات میں اعتدال کا راستہ اختیار کریں ۔جب ریاست غیر منصفانہ امور میں دلچسپی لے گی تو اس سے دہشت گردی قتل و غارت گری کی نشونما ہوگی ۔ہم اسلامی مشاعرہ کے حق میں ہیں۔جہاں سیاسی ،مذہبی معاملات میں ریاست اعتدال کو برقرار رکھے ۔ امراء ایوان کا پیمانہ اور غریب عوام کا پیمانہ ایک ہو۔ایک ہی گھاٹ سے پانی پئیں،اور ایک چراہ گاہ سے پیٹ بھریں ۔اعتدال کا ترازو برابر ہو۔