تحریک انصاف پر توقعات کا بوجھ - حمزہ احمد خان

تحریک انصاف کے وزرا سےغلطیاں کیوں ہو رہی ہیں؟ کیا تحریک انصاف توقعات کے بوجھ تلے دب گئی ہے؟ کیا تحریک انصاف کی تیاری نہیں تھی؟ ان سب وجوہات کے باوجود اصل وجہ وزارتوں کی بندر بانٹ اور اپنے آپ پر بھروسا نہ ہو نا ہے۔ خصوصا جب فواد چوہدر ری وزیر اطلا عا ت ہوں۔ خان صاحب کا تجربہ نہ ہو نے کا برابر ہے۔ ایم کیو ایم جیسی جماعتوں کا ساتھ ہے۔ بی این پی اور بی اے پی (عوامی) کو خوش رکھنا بھی آسان مرحلہ نہیں ہے، مگر جب اوکھلی میں سر دینا ہی ہے تو موصلوں سے کیا خطرہ، پھر نوآموز حکومت کو موقع دیناچاہیے۔ وزراء کی غلطیوں کو بھی سنجیدہ نہیں لینا چا ہیے لہذا صدر کے پروٹوکول، فیاض الحسن چوہان کی زبان کی مٹھاس، شیخ رشید کا لاؤلشکر اور دیگر کو بھی نظرانداز کرنا پڑے گا۔ بلوچستان میں حکومت سازی کا مرحلہ ہی مشکل سے مکمل ہوا تھا، اب وہاں بھی مسئلے مسائل شروع ہوگئے ہیں۔

منی بجٹ پیش کرنے کے بعد ایک نئے محاذ کا سامنا بھی ہے، کیونکہ مہنگائی کا طوفان اٹھ چکا ہے۔ اسد عمر کی صلاحیتوں اور پالیسیوں پر ابھی سے سوالات اٹھ رہے ہیں، مگر یہ ممکن نہیں کہ آتے ہی جادو کی چھڑی گھمائی اور سب ٹھیک ہوگیا۔ اسد عمر کو بھی معیشیت کو سمجھنے اور سنبھالنے میں وقت درکار اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے، جس کا بوجھ عوام کو اٹھاناپڑےگا۔ اب تک کی کارگردگی کی بنیاد پرکامیابی یا ناکامی کا فیصلہ نہیں بلکہ سو روزہ پلان کی کرشمہ سازی کو دیکھنا پڑے گا۔ مشکل ضرور ہے مگر کرنا پڑے گا۔

ڈیم کا بننا بھی ضروری ہے مگر اس سے پہلے چھوٹے واٹر ریزر واِئر بنانے چاہیں، واٹر مینجمنٹ کا مسلئہ پانی کی کمی کی اصل وجہ ہے، اس پر توجہ دینی چا ہیے۔ بڑے زمیندار اپنی زمینوں کی کاشت بڑھانے کے لیے جس طرح پانی کا ضیاع کرتے ہیں، اس سے بھی گریز کرنا پڑے گا۔ بارشیں اور قدرتی وسائل کا بھی ایک وقت ہوتا ہے، یہ نہ ہوکہ ڈیم بننےکے بعد ڈیم بھرنے کے لیے پانی نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   مجھے یہ ملک اور ملت چاہیے - شبیر بونیری

کراچی کے باسیوں کو بھی تحریک انصاف کی حکومت سے بڑی امیدیں ہیں، انُ کو پورا کرنا اصل امتحان ہوگا، جب ایم کیو ایم اپنا شہر واپس حاصل کرنے کے لیے تیاری میں ہے۔ تحریک انصاف کے لوگ ایم کیو ایم کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں کہ قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی کے ارکان رکھنے کے باوجود ایم کیو ایم بلدیا تی مسائل حل کر نے میں ناکام رہی ہے۔ اب پلڑہ تحریک انصاف کے پاس ہے، کراچی کے عوام نے مینڈیٹ دیا ہی کام کرنے کے لیے ہے۔

نیب قوانین میں ترمیم کا معاملہ اپوزیشن کے راضی نامے سے ہی ممکن ہے۔ اپوزیشن تقسیم ہو یا متحد، نیب قوانین میں ترمیم کے لئے سب تیار ہوں گے۔ شریف خاندان کی رہائی کے بعد تحریک انصاف کو پریشرکا سامنا ہے، تاہم فواد چوہدری اپنے بیانات سے اس کا ازالہ کر رہے ہیں۔ دانیال عزیز کی کمی بھی محسوس نہیں ہو رہی، جب نوازشریف صاحب اپنی سیاسی سرگرمیاں شروع کریں گے تو اصل مخالفت شروع ہوگی، تاہم وہ بھی محتاط رہیں گے کیونکہ کیس ابھی ختم نہیں ہوئے۔

جنوبی پنجاب صوبے کا معاملہ بھی سر پر کھڑا ہے۔ ابھی تو جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے رہنماؤں کو وزارتیں دے دی ہیں، لہذا وہ بھی صوبےکا مطالبے ابھی نہیں کر یں گے، صوبہ بن گیا تو ملک کے دوسرے حصوں سے بھی صوبے کی آوازیں آئیں گی۔ تحریک انصاف کیا یہ سب سنبھال سکتی ہے؟ تحریک انصاف کو ابھی سے تمام معاملات کو پرکھنا اور تیاری کر لینی چاہیے۔