زمانے کی سوچ اور تعلیم ِنسواں - مہک عاقب

بلاشبہ عورت معاشرے کا اتنا ہی اہم حصہ ہے جتنا کہ مرد۔ کسی ملک و قوم کے ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ہونے کا زیادہ ترانحصار عورتوں کی تعلیم پر ہے۔ عورت معاشرے کی وہ اہم کڑی ہے جسے اسلام نے ہر روپ میں اعلیٰ مقام و مرتبہ دیا ہے، جبکہ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے عورت کو حقوق دیے اور ان حقوق میں ایک حق تعلیم کا بھی ہے۔ ایک معاشرے میں رہتے ہوئے مذہب، غیرت، رسم و رواج کے نام پر عورتوں کو تشدد کا نشانہ بنانا اور قتل کرنا جہالت و گمراہی ہے۔ ایک مرد جب تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ اس تعلیم کو بروئے کار لا کر اپنے کنبے کی کفالت کرتا ہے، معاشی لحاظ سے اپنا رتبہ بڑھاتا ہے، اپنی تعلیم کے ذریعے اپنی قابلیت کو اجاگر کرتے ہوئے اپنی فیلڈ میں نہ صرف آسانی پیدا کرتا ہے بلکہ ترقی و کامیابی کی راہوں پر گامزن ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اتنی تعلیم وقابلیت رکھنے والا مرد ایک ایسی عورت چاہے گا جو اس سے کسی بھی لحاظ سے کم ہو؟ یعنی تعلیمی لحاظ سے، ذہنی و فکری سوچ کے اعتبار سے، جدید علوم اور ٹیکنالوجی سے واقفیت کی بنا پر،گھریلو معاملات کو سلجھانے کے حوالے سے، یا بچوں کی تربیت کی وجہ سے۔ غرض کوئی بھی کیسے بھی حالات ہوں، گاڑی اسی صورت میں چل سکتی ہے جب پہیے برابر ہوں اور اس سب میں عورت کا کردار نمایاں ہے۔ مرد میں تعلیم کی کمی کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے، لیکن عورت میں تعلیم اور علم و عقل کی کمی ایک ایسی خامی ہے جو دنیا کی کوئی خوبی پورا نہیں کر سکتی۔ مرد کی تعلیم و علمی قابلیت محض اس کی ذات تک محدود رہتی ہے، جبکہ عورت کی تعلیم و علمی قابلیت پورے کنبے اور نسلوں تک کو سنوار سکتی ہے۔

ایک غیر تعلیم یافتہ عورت کا سوال ہمارے پیش نظر ہے، لیکن سب سے کمزور مرحلہ جو اس کے بعد ہمارے سامنے آئے گا، وہ ایک عورت کا دین داری اور دنیاداری کو ساتھ لے کر چلنے کا ہنر ہے۔ کیا ایک حافظہ عربی زبان سے نابلد ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن کے ترجمہ و تفسیر، احادیث و تقابل ادیان اور فقہی و اجتہادی مسائل سے دور ہونے کے باوجود ایک عالمہ کے فرائض ادا کر سکتی ہے؟
عصر حاضر میں ایسے مدارس قائم ہو چکے ہیں جو لڑکیوں کو حافظہ بنانے کے ساتھ بنا علمی و عملی قابلیت جانے عالمہ کی سندیں فراہم کر رہے ہیں۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ جب ایسی طالبات اپنے مدرسوں سے نکل کر بنا غور و فکر اور تجزیہ کے رٹی رٹائی باتیں عوام الناس تک پہنچاتی ہیں تو ان کا فائدہ اسلام کے فروغ کو کم اور ان مراکز کو زیادہ ہوتا ہے جن کے مؤقف کا اظہار وہ کتب ِمدرسہ پڑھ کر کر رہی ہوتیں ہیں۔ وہ اپنے اپنے اداروں کے فرقوں کو فروغ دیتی ہیں، دین اسلام کو نہیں۔

ایک عورت کا کردار زندگی کے ہر پہلو پر اثرانداز ہوتا ہے۔ تاریخ ِ اسلام سے ہی اگر مثال لی جائے تو جب حضرت خدیجہ ؓ کئی ممالک پر محیط کاروباری سرگرمیاں احسن طریقے سے انجام دے سکتی تھیں، اور اگر حضرت عائشہؓ احادیث کا بہت بڑا ذخیرہ مرتب کرنے کی استعداد رکھتی تھیں، تو آج کی عورت معاشرے میں اپنا ایک مثبت کردار ادا کیوں نہیں کر سکتی؟ کیا آج کی عورت کو دنیاوی تعلیم کے حصّول سے روکنے میں عورت کا ہی ہاتھ ہے، یا معاشرے کا مرد طبقہ یہ سوچ رکھتا ہے کہ لڑکیوں کو دنیاوی تعلیم اور جدید علوم و ٹیکنالوجی سے دور رکھنا ہی بہتر ہے؟

بعض لوگ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے لیے صرف دینی تعلیم ہی کافی ہے کیونکہ حالات گوارا نہیں کرتے اور ان کی غیرت انہیں اجازت نہیں دیتی کہ لڑکی دنیاوی تعلیم کی غرض سے گھر سے باہر نکلے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر لڑکیاں تعلیم حاصل نہیں کریں گی یا ڈاکٹرز نہیں بنیں گی تو ایسے لوگ اپنی بہوؤں، بیٹیوں یا بیویوں کے علاج و معالجہ اور معائنہ کے لیے مرد ڈٖاکٹروں سے رجوع کریں گے؟ یہاں ان کی غیرت گوارا کرے گی؟ ایسے لوگ دین اسلام کے نام پر اپنی ذہنیت تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر اس چیز کو جو ان کی دسترس میں نہ ہو حرام، ناجائز اور مکروہ قرار دے دیتے ہیں۔ ایسے لوگ دوسروں کی نظر میں اسلام کو تنگ نظر ثابت کرتے ہیں اور اسلام کا ایک غلط تصور پیش کرتے ہیں، جبکہ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے سب سے پہلے عورتوں کے حقوق اور ان کی تعلیم پر زور دیا ہے، جب دوسرے مذاہب عورت کو ایک ملعون، گناہگار اور حقیر چیز سمجھتے تھے، اور زمانہ جاہلیت میں اسے سامان کی سی حیثیت دیتے تھے، جس کا وراثت میں کوئی حصہ نہ تھا جبکہ اسے وراثت کے طور پر ورثاء (بیٹوں، بھائیوں) کے حوالے کر دیا جاتا تھا۔ اسلام نے عورت ذات کو ایک طاقت بخشی، اسے نہ صرف تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا بلکہ جہاد میں بھی مردوں کے شانہ بشانہ لا کھڑا کیا، نیز اسلامی تاریخ کے اوراق عورت ذات کی جرأت و بہادری کے ان واقعات سے بھرے پڑے ہیں

آج ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے زیادہ ہے اور مزید بڑھ رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ اب لڑکی اور لڑکے میں فرق نہیں سمجھا جاتا۔ دونوں کی تعلیم وتربیت کے لیے علیحدہ اور مخلوط دونوں طرح کے ادارے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں، لیکن ان سب کے باوجود ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو مذہب کے نام پر، پردے کے نام پر، غیرت کے نام پر اور لڑکی ذات ہونے کی وجہ سے عزت کی نیلامی کے نام پر، لڑکیوں کو ان اداروں میں بھیجنے کے بجائے مدارس کے حوالے کر دیتا ہے۔ ہم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو دنیاوی تعلیم چھڑوا کر مدارس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں، بنا یہ جانے کہ وہ قوم کی بیٹیوں کو دین ِ اسلام سیکھا رہے ہیں یا ان کے ذریعے نسلوں میں فرقہ وارانہ فسادات کا زہر گھولنے اور اپنی جماعتوں کے امیروں اور ان کے گدی نشینوں کی اطاعت و پیروی کرنا سکھا رہے ہیں، جبکہ ہماری یہی بیٹیاں فرمانِ خداوندِ تعالیٰ اور نبی ﷺکے ارشادات کو پسِ پردہ رکھتے ہوئے ان کے فرمان و ارشادات فخریہ انداز میں نسلوں تک منتقل کر رہی ہیں، انہیں نہ اس چیز کا احساس ہے اور نہ کبھی ہوگا۔ یہ تنقید کسی ایک گروہ پر نہیں بلکہ تمام گروہوں پر ہے جو فرمانِ خدا و رسول ﷺ کے بجائے اپنے امیروں کے ارشادات اور قصے کہانیوں کو دین اسلام سے جوڑتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ قرآن و حدیث کا حوالہ دیں، قرآن ترجمہ و تفسیر کے ساتھ سکھائیں، فقہی علوم ومسائلِ اسلام سے واقفیت، اجماع و اجتہاد کا درس، کفار سے جہاد کر کے اسلام کی سربلندی و اشاعت کے لیے کوشاں ہوں اور اگر اس انداز سے یہ اپنے مدارس کا کام آگے بڑھائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

عصر حاضر میں معاشرے کی اصلاح اور نسلوں میں ایک مثبت سوچ پیدا کرنے کے لیے لڑکیوں کی جدید علوم اور ٹیکنالوجی سے واقفیت بہت ضروری ہے اور جو لوگ لڑکیوں کو پڑھانے کے حق میں نہیں ہیں، میری نظر میں وہ انسان ہی نہیں ہیں۔