پرنٹ میڈیا کی اہمیت - عبدالمتین

ہمارے ذہنوں میں یہ سوال اکثر گردش کرتا رہتا ہے کہ رسائل و جرائد کے اس انبار میں پرنٹ میڈیا کی ضرورت و اہمیت شاید باقی نہ رہے، اور اس طرح یہ بھی اس انبار میں ایک اضافے سے زیادہ کچھ ثابت نہ ہوسکے، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ یہ احساس بھی شدت پکڑتا گیا کہ رسائل و جرائد کی اس قدر کثیر تعداد میں اشاعت مختلف موضوعات اور مختلف مقاصد کی وجہ سے ہے، اسی طرح تقریبا ہر جریدے کی رسائی ایک مخصوص حلقے تک رہتی ہے، اور ہر جریدہ اپنی حد تک کسی نہ کسی حلقے کی افادیت کا ذریعہ بن رہا ہوتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ بعض اوقات ہمارے ذہنوں میں یہ سوال اٹھنے لگتا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کے اس وسیع و عریض جال میں جس نے گھر گھر اور ہر فرد کی جیب میں جگہ بنالی ہے اور لوگوں کے دل و دماغ کو اس مضبوطی سے جکڑ لیا ہے کہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی مفقود ہوچکی ہے، ایسے موقع پر پرنٹ میڈیا کی حد تک کوئی کوشش کرنا بے سود اور کارگر معلوم نہیں ہوتا؟

یہ سوچ کر کہ اب پرنٹ میڈیا کا دور باقی نہیں رہا، اب صرف وہی کچھ پڑھا، سنا جاتا اور سمجھا جاتا ہے جو ٹی وی، موبائل، ریڈیو یا سوشل میڈیا کے توسط سے ہم تک پہنچتا ہے، اور کچھ تو یہاں تک کہہ جاتے ہیں کہ اب الیکٹرانک میڈیا کی بڑی مچھلی پرنٹ میڈیا کی چھوٹی مچھلی کو کھالے گی۔ اس روش کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم دور حاضر میں پرنٹ میڈیا کی اہمیت اور اس کی افادیت و وسعت سے ناواقف ہیں، اور صرف اسی خول میں گھوم رہے ہیں جو ہمارے سامنے ہے، جبکہ حقیقی صورت حال سے یکسر ناواقف ہیں، کیونکہ عالمی میڈیا کا ایک بہت بڑا حصہ اس وقت بھی پرنٹ میڈیا پر مشتمل ہے، بلکہ اسی کے ذریعے وہ اپنے بہت سے اداروں اور مختلف نظریات و تحریکات کی ترجمانی کر رہے ہوتے ہیں، جس کی پشت پناہی بڑی بڑی نیوز ایجنسیاں کر رہی ہوتی ہیں۔ نیشنل ریڈر شپ کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق نیوز چینلز کے بعد پرنٹ میڈیا میں دس فیصد اضافہ ہوا ہے اور ایک سروے رپورٹ کے مطابق جہاں تیرہ کروڑ لوگ پرنٹ میڈیا کو اہمیت دیتے تھے، وہاں اب یہ تعداد پندرہ کروڑ ساٹھ لاکھ کے اعداد و شمار کو پہنچ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پرانا دشمن پرانی کہانی - احسان کوہاٹی

ان میں سیاسی اخبارات، تجزیاتی رسالے، علمی تحقیقی ماہنامے، سہ ماہی رسائل، سماجی اور طبقہ نسواں سے متعلق رسالے، آرٹ، لٹریچر، تفریحی رسالے، نیز زراعت، سائنس، تجارت و اقتصادیات اور کھیل کے متعلق رسائل کا ایک لامحدود مواد ہے جو جگہ جگہ پھیلا ہوا ہے اور بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ان سب رسائل و جرائد کی اشاعت میں بلین ڈالرز تک کی لاگت آجاتی ہے، کیونکہ ان میں بہت سے رسالے ایسے بھی ہیں جن کی اشاعت ایک کروڑ سے بڑھ کر ہے، ان سب سے وہی راہ ہموار کی جاتی ہے جو میڈیا کے دیگر ذرائع سے ہوتی رہتی ہے۔

عالم عرب کے ایک معروف ادارے "موقع اللغۃ والثقافۃ العربیہ" نے ایک اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں پرنٹ میڈیا کی بڑھتی اہمیت کے سبب یہ تجویز دی ہے کہ وہ اپنے ہاں سے شائع ہونے والے مختلف رسائل و جرائد کو اپنے ہی شہروں کا نام دے کر شائع کریں تاکہ اس سے ترجمانی کے مزید اچھے نتائج حاصل ہوسکیں اور ان ممالک میں: اردن، امارات، بحرین، الجزائر، سعودی عرب، سوڈان، صومالیہ، عراق، کویت، یمن ، تیونس، شام، فلسطین، قطر، لبنان، مصر اور لیبیا شامل ہیں۔ جبکہ اعداد و شمار کی معروف ویب سائٹ www.statista.com کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق سال 2016ء تک صرف امریکہ میں 7،216 رسائل و جرائد کا اضافہ ہوا ہے جو کہ قارئین کی دلچسپی اور توجہات کی علامت ہے اور پڑھنے والوں میں بڑی تعداد ان افراد کی بھی ہے جو ان کا مطالعہ آن لائن کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ "یہودی پروٹوکولز" نامی مشہور کتاب کے بارہویں پروٹوکول میں ادب و صحافت کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے یہ دعوی کیاگیا ہے کہ "ہماری حکومتوں کی یہ کوشش ہوگی کہ وہ میڈیا کے بڑے حصے پر قابض ہوجائیں، اور اگر غیر یہودی دس اخبار و رسائل نکالیں گے، تو ہم ان کے مقابلے میں 30 اخبار و رسائل نکالیں گے، اس طرح ہم لوگوں کو ایسے جال میں پھنسا دیں گے جن کا انھیں تصور بھی نہیں ہوگا"۔

یہ بھی پڑھیں:   سقوط ڈھاکہ، جنرل نیازی اور جینیاتی انجینئرنگ - عبداللہ فیضی

پرنٹ میڈیا اور مطبوعات کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے اثرات گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں، معاشرے کے مختلف طبقات سے وابستہ لوگ ان کو پڑھتے ہیں، مستفید ہوتے ہیں، غور و فکر کا موقع زیادہ رہتا ہے، دوبارہ سہ بارہ پڑھا جاسکتا ہے، پڑھنے والا اس کو بلاواسطہ سمجھ سکتا ہے، ثقافتی اور اجتماعی وحدت پیدا ہوتی ہے، اس اعتبار سے یہ رسائل پیغامات اور مقاصد کو دل و دماغ میں پیوست کرنے میں زیادہ اہم اور بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے کہ ایک پیغام کو جب تکرار اور متعدد طریقوں سے پیش کیا جاتا ہے تو وہ ضرور اثرانداز ہوتا ہے۔

ان گزارشات کے بعد امید ہے کہ موجودہ دور میں بھی رسائل و جرائد کی اہمیت اور افادیت کا عقدہ حل ہو چکا ہوگا، اس ساری صور ت حال کو دیکھتے ہوئے شریعت کے پاکیزہ دائرے میں رہ کر صحافت کے اس اونچے شعبے کو خوب سے خوب کام میں لایا جائے تاکہ ہم اپنی ترجمانی کا حق خود ادا کرسکیں اور کسی اور کو اس میں ملاوٹ کا موقع نہ دیں اور پھر اسی کے ذریعے مختلف راہیں ہموار کی جاسکیں۔