میں اپنی بیٹی کی شادی نہیں کر سکتا - رضوان اسد خان

"میں اپنی بیٹی کی شادی آپ کے بیٹے کے ساتھ نہیں کر سکتا۔"
"وہ کیوں؟ کیا کمی ہے میرے بچے میں؟"
"وہ عیسائی ہے، اور ہمارا مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔"
"تو گویا آپ مذہب کی بنیاد پر انسانوں میں فرق کرتے ہیں؟ یہ تو ہیومن ازم کے خلاف ہے۔"
"یہ میرے اللہ کا حکم ہے۔"
"اللہ نے تو سب انسانوں کو برابر پیدا کیا ہے۔ کیا آپ اس بات کو نہیں مانتے؟"
"بالکل مانتا ہوں۔ لیکن اس سے یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کہ وہ مرنے تک برابر ہی رہیں گے؟ کیا آپ قانون توڑنے والے چور اور اس کی حفاظت کرنے والے سپاہی کو برابر کہیں گے؟"

"تو میرے بیٹے نے کون سا جرم کیا ہے؟ کیا تمھاری بیٹی کو پسند کر کے شریف لوگوں کی طرح شادی کا پیغام بھیجنا جرم ہے؟"
"میں نے تو محض مثال دی تھی۔ میں معذرت چاہتا ہوں، اگر آپ کو برا لگا۔ کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ہمارے مذہب کے مطابق ایک خدا کو ماننے والا اور تین خداؤں کو ماننے والا برابر نہیں ہیں۔"
"لیکن تمہارے لڑکے تو ہماری لڑکیوں سے شادی کر لیتے ہیں."
"ہاں! لیکن وہ استثنائی صورت ہے جس کی ہمارے نبی نے اجازت دی ہے۔ اصولی حکم وہی ہے جو میں نے بتایا ہے۔ اور اس شادی کے باوجود دین کی رو سے وہ میاں بیوی برابر نہیں ہوتے۔"
"تو آپ اس کو بھی استثنائی صورت بنا لیں۔"
"یہ میرے اختیار میں نہیں۔ میرے دین میں ایسی کوئی گنجائش نہیں۔"

"یہ کیا بات ہوئی؟"
"پہلی بات یہ کہ میں مسلم ہوں۔ میرا کام دین کے حکم پر سر تسلیم خم کرنا ہے، سوال کرنا نہیں، کہ مجھے سمجھ میں آئے گا تو مانوں گا ورنہ نہیں۔ آ پکی طرح یہ 'لگژری' ہمیں حاصل نہیں۔ البتہ آ پکو سمجھانے کے لیے بتاتا چلوں کہ اولاد کو باپ کا نام ملتا ہے اور بہت زیادہ امکان ہوتا ہے کہ وہ باپ کے مذہب پر چلے گی۔ اسی طرح بیوی بھی اکثر شوہر کا مذہب اختیار کر لیتی ہے۔ ہمارا دین ایسا کوئی ایک فیصد بھی امکان باقی نہیں چھوڑنا چاہتا۔"

یہ بھی پڑھیں:   عید قربان آ رہی ہے، " جھوٹی کہانیوں" سے آگاہ رہیں - محمد عاصم حفیظ

"ہمم. گویا آپ نہیں مانیں گے۔ ویسے آپ کی بچی 18 سال کی ہو چکی ہے۔ آپ اس سے تو پوچھ لیں۔ وہ خود اپنے فیصلے کرنے کیلئے قانونی طور پر آزاد ہے۔"
"وہ مان بھی جائے تو میری اجازت کے بغیر وہ اس معاملے میں شادی کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔ یہ بھی ہمارے دین کا قانون ہے جس کو ماننا اس کے لیے ضروری ہے۔"
"عجیب دین ہے آپ کا۔ ایک عاقل بالغ کی آزادی پر کیسے پابندی لگا سکتا ہے۔ اور اس ملک کا قانون آپ کے دین کے قانون کو نہیں مانتا۔ یہ ایک سیکولر ملک ہے۔ خان صاحب، یہ پاکستان نہیں، امریکہ ہے۔ یہ ایک لبرل ملک ہے اور شخصی آزادی پر یقین رکھتا ہے۔ یہ ہومن ازم کا علمبردار ہے۔ مذہب کی بنیاد پر کسی قسم کی تفریق کا قائل نہیں۔ میں کل کورٹ میں کیس کروں گا کہ تم انتہا پسند مذہبی جنونی ہو جو مذہب کے نام پر اپنی بالغ بیٹی کو اس کی اپنی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے سے زبردستی روکتے ہو۔"
"لیکن کیا سیکولرازم یہ نہیں کہتا کہ ہم شخص کو اپنے مذہب پر چلنے کی مکمل آزادی ہوگی؟"
"ہاں! لیکن اپنی بالغ بیٹی پر تم اپنا فیصلہ مسلط نہیں کر سکتے۔ اگر وہ کسی یہودی، عیسائی، ہندو، سکھ، دہریے، وغیرہ کسی سے بھی شادی کرنا چاہتی ہے تو اسے اس کا حق ہے۔ حتی کہ وہ کسی دوسری لڑکی سے بھی شادی کرنا چاہتی ہو تو بھی تم اسے نہیں روک سکتے۔ سی یو ان کورٹ۔"
.........
"یا اللہ! یہ میں نے پہلے کیوں نہ سوچا۔ اپنی اولاد کو ایسی آزادی کا عادی کیوں بنایا کہ وہ تیرے دین سے ہی آزاد ہو جائیں۔ اگر اس نے اس عیسائی سے شادی کر لی تو اس کی پوری زندگی کے زنا کا ذمہ دار میرے سوا کون ہوگا؟"

Comments

رضوان اسد خان

رضوان اسد خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان پیشے کے لحاظ سے چائلڈ سپیشلسٹ ہیں لیکن مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، مزاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان موضوعات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.