زوجین کے نام ایک خط - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

میری اچھی بہن اور میرے اچھے بھائی!
اگر آپ دونوں یہ یاد رکھیں کہ نکاح کا بندھن دو نفوس کو ایک نہیں کرتا، بلکہ دو خاندانوں کو اور کبھی دو برادریوں، دو شہروں، دو ملکوں، دو فرقوں، یا دو مذاہب (اہل کتاب) کو بھی ایک ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ میاں بیوی نامحرم سے محرم ترین بن جاتے ہیں۔ مکمل اجنبی سے الفت، محبت، مودت، عزت اور غیرت کے رشتے میں اس طرح کھبتے ہیں کہ پھر جان نکلنا آسان اور انسان کا رشتے سے نکلنا مشکل ٹھہرتا ہے۔

دو اچھے لوگ جب ایک نئے رشتے میں جڑ کر ایک اکائی بن جائیں تو کثرت سے وحدت کے وقوع پذیر ہونے کا خود کھلی آنکھوں سے نہ صرف مشاہدہ کرتے ہیں بلکہ خود اس وحدت کی بنیاد بنتے ہیں۔ اس رشتے میں چند نکات جو دونوں کو یاد رکھنے ہیں، ان میں اپنی ذات سے بڑھ کر دوسری ذات کا سوچنا پہلا نکتہ ہے۔ اس کے پہلے سے موجود رشتوں کا قاطع نہیں بننا بلکہ ان رشتوں کی مزید مضبوطی کا باعث بننے کا عہد کرنا ہے۔

ایک دوسرے کا لباس ہونا یعنی پردہ پوش ہونا، زوجین کی آپس کی بات کا باہر نہ جانا، کمرے کی گفتگو کمرے میں چھوڑ کر باہر آئیں۔ محبت کرنے والوں کے درمیان تو ہوا کی موجودگی بھی ناگوار گزرتی ہے، سو دونوں کے باہمی معاملات کی بھنک بھی کسی اور کو نہ پڑے، یہ اس رشتے کی مکمل سرفرازی کے لیے پہلی اور بنیادی اینٹ ہے۔

اعتماد باہمی اور بات سمجھ نہ آنے یا شک اور الجھن پیدا ہونے کے باوجود دوسرے پارٹنر کو اسپیس اور وقت دینا۔ بہت سی الجھنیں فورا سلجھنے کے لیے نہیں ہوتیں، انہیں وقت پر چھوڑ دینا چاہیے۔ فوری حل پر اصرار انہیں مزید الجھاتا اور رشتے میں جھوٹ متعارف کرواتا ہے، جو اگر نبھ جائے تو جھوٹ کی مستقل عادت، دھوکہ دہی پر منتج ہوتی ہے۔ پس ایک چپ سو سکھ کی پالیسی اہم ہے۔

زوجین کا اپنے خاندان سے جیسا بھی تعلق ہو۔ ہر دو اپنے نصف بہتر کے لیے اپنے خاندان سے عزت کا خواہاں ہوتا ہے، اور اپنے شریک حیات سے بھی یہی توقع رکھتا ہے کہ اس کے خاندان کی عزت ہر مقام پر ملحوظ خاطر رکھے گا۔ اپنی فیملی سے اپنے شریک حیات کی عزت اپ نے کروانا ہے۔ آپ کا خاندان اور آپ کا شریک سفر ایک دوسرے سے آپ کے ذریعے جڑے ہیں۔ آپ کی کہی باتیں، آپ کا رکھ رکھاؤ، آپ کی گفتگو، آپ کی اپنے ساتھی کے متعلق رائے اور گھر کی کہی، ان کہی باتیں آپ کے فیملی ممبرز کے دلوں میں آپ کے شریک حیات کا ایک خاکہ تشکیل دیتی ہیں۔ جس کی روشنی میں بالآخر آپ کی خوش نصیبی یا بد نصیبی کا دنیاوی فیصلہ صادر کیا جاتا ہے۔ محتاط گفتگو اس کی کنجی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   شادی کے" میزبان " کی پہچان اور چند " خاص " مہمان - محمد عاصم حفیظ

غم و غصے کے وقت ایک دوسرے پر چلانا تو نہایت نامناسب بات ہے، یہ تو بالکل نہیں ہونا چاہیے، لیکن اسی غم و غصے کے وقت میں اپنے خاندان کے سامنے بھی دلی بھڑاس نہیں نکالنی۔ یہ کام بالکل منع ہے۔ "آپ بھول جائیں گے، خاندان نہیں بھولے گا"۔ زیادہ غصہ ہے، بہت گلہ ہے، تو اپنے ساتھی سے ہی کہیں وہی اس کا حل نکال سکتا ہے۔ تیسرا صرف بات سنے گا، چسکا لے گا یا پریشان ہوگا، لیکن ایک یقینی نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ کے شریک سفر کا خوبصورت خاکہ ٹوٹ جائے گا، دوبارہ کبھی نہ جڑنے کے لیے۔

یہ رشتہ ہر مشکل اور آسانی سے اکٹھے گزرنے کا نام ہے۔ آسانی میں شکرگزار رہیے، تاکہ مشکل میں شکرگزاری کی عادت پختہ ہو چکی ہو۔ مشکل وقت میں حوصلہ اور جذبہ توانا اسی صورت رہتا ہے، اگر پہلے سے پرامیدی کی عادت پختہ ہو۔ مشکل میں اچھا وقت یاد رکھیں اور اس کے لیے کوشش کریں۔ آسانی میں شکرگزار رہیں، ایک بار نہیں بار بار، بار بار، ہر بار ۔

چھوٹی بڑی غلطی نظرانداز کرنے کی عادت اور چھوٹی چھوٹی تعریف روزانہ کرنے کی عادت زندگی کو خوشگوار بنانے کے ٹوٹکے ہیں۔ ہاں بےجا تعریف اور تنقید دونوں سے بچیں تاکہ تصوراتی محل کے بجائے دنیاوی گھر میں بہتر زندگی گزار سکیں۔

والدین اور بہن بھائی ہمارا جذباتی اثاثہ ہوتے ہیں اور خون کے سگے رشتے بھی جو اللہ کریم نے ہمارا نصیب بنائے ہوتے ہیں۔ ان کی بدولت ہم آج وہ بن پائے ہیں کہ ہمارے شریک حیات نے ہمیں اپنے لیے چنا ہے۔ ہم اپنے خون کے سگے رشتوں کا جس طرح شکریہ ادا نہیں کر سکتے، بعینہ ہم اپنے شریک زندگی کے رشتوں کا احسان بھی نہیں چکا سکتے، جنہوں نے اپنا انمول "کوہ نور" ہمارے تاج کی زینت بنا دیا۔ شکرگزاری اور صلہ رحمی ہی اس کا حل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   چاندنی میں آئیو میاں بندڑے - سبرینا خان

اللہ کریم ہر جوڑے کو اولاد کی نعمت سے نوازے۔ اولاد، دو الگ خاندانوں سے تعلق رکھنے والے زوجین کو ایک سگے اٹوٹ خون کے بندھن میں باندھ دیتی ہے۔ بچوں کے ماں باپ سگے خونی رشتے دار ہو جاتے ہیں۔ پھر چاہے ماں اور باپ الگ ذات سے ہی کیوں نہ تعلق رکھتے ہوں۔ اب ان کی اپنی ذات غیر متعلق ہو کے صرف ایک ذات میں سمٹ آتی ہے، یعنی" اولاد"۔

کس کے نصیب میں کیسی اولاد ہے، یہ اللہ کے کن سے طے ہونے والا امر ہے۔ اس میں دونوں ساتھی ہی دعا کے مکلف ہیں، احتیاط، دعا، دوا، صبر ،حوصلہ، تعاون اور امید اس وقت سے گزرنے کے گر ہیں۔ اگر دیر ہو رہی ہو تو ایک دوسرے کا سہارا بنے رہیے، دنیا کی زبان کے نشتر عورت کو زیادہ سہنے پڑتے ہیں، یہاں مرد کی مضبوطی اسے بھی قائم رکھتی ہے۔ انسان کے اپنے بس میں ہو تو ساری کی ساری حسین و صحت مند اولاد اسی کا نصیب ہو جائے، لیکن اس معاملے میں مرد و عورت ایک سے ہیں، اللہ کی رحمت کے طلبگار اور نگاہ ناز کے نیاز مند۔ ایک دوسرے کو پیار اور حوصلہ دیں۔

یاد رکھیں بیٹی رحمت ہے اور بیٹا نعمت۔ دونوں کی قدر کریں، تاکہ مزید رحمت اور نعمت پائیں۔ رحمت اور نعمت کی ناقدری ان کو ہم سے دور لے جاتی ہے۔ سو قدردان بنیں، قدردان رہیں۔

اولاد سے محبت اور اس کی تعلیم و تربیت آپ دونوں کا فرض ہے، کسی ایک کا نہیں۔ دونوں مل کر خوشی سے نبھائیں، یہ وہ محبت ہے جو زوجین کی محبت کو تقسیم نہیں کرتی، بلکہ کئی گنا ضرب دے دیا کرتی ہے۔

سلامت رہیے شاد آباد رہیے۔

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • نہایت عمدہ اور مشعل راہ تحریر جو کہ خاوند اور بیوی دونوں کیلیے یکساں مفید ہے۔ بہت شکریہ، اللہ آپ کو اس کی بہتر جزا عطا فرمائے۔