سید خالد جامعی صاحب کی خدمت میں - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سب سے پہلے تو تاخیر سے جواب کےلیے معذرت قبول کیجیے۔ مختلف مصروفیات کی وجہ سے ذہنی یکسوئی دستیاب نہیں ہے، جس کی وجہ سے اس طرح کی تفصیلی وضاحت نہیں کرسکا جیسی میں کرنا چاہتا تھا۔ تاہم زاہد مغل بھائی کی تحریر پر آپ کے رد عمل کے بعد محسوس ہوا کہ مختصر ہی سہی، وضاحت جلدی کرنی چاہیے۔ اس لیے یہ چند نکات پیشِ خدمت ہیں۔

کتاب "جہاد، مزاحمت اور بغاوت" کا پس منظر

جہاد، مزاحمت اور بغاوت ۔ اسلامی شریعت اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں
یہ پس منظر پہلے ایڈیشن کے مقدمے میں تفصیل سے واضح کیا گیا ہے۔ میں یہاں صرف دو باتیں واضح کرنا چاہوں گا۔ اس کتاب کے لکھے جانے سے قبل میں نے ایک تفصیلی مقالہ لکھا تھا جو "الشریعہ" میں اپریل 2007ء میں شائع ہوا۔ اس مقالے میں شروع میں یہ بتادیا تھا کہ یہ سوالات کن اہلِ علم کےلیے ہیں :
"ان تنظیموں اور افراد سے ہٹ کر جو مغرب کے ساتھ تصادم کو ناگزیر سمجھتے ہوئے معاصر بین الاقوامی قانونی نظام (Contemporary International Legal Order) کی جڑیں ہی اکھاڑنا چاہتے ہیں، بالعموم اہل علم کی اکثریت اس نظام کے اندر رہتے ہوئے جہاد کے مسائل پر بحث کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ جہاد کے متعلق مختلف جزئیات کا موجودہ بین الاقوامی قانون کے ساتھ موازنہ بھی کرتے ہیں اور ان میں مشترک اور مختلف امور سامنے لاتے ہیں۔ لیکن اس وقت ضرورت اس سے آگے بڑھ کر اس امر کی ہے کہ فقہاء کے وضع کردہ جہاد کے پورے نظریے کا موازنہ معاصر بین الاقوامی قانون کے پورے نظام کے ساتھ کیا جائے اور موجودہ نظام سے پیدا ہونے والے مسائل کا تجزیہ کیا جائے۔ اس طرح کے ایک عمومی تفصیلی جائزے کے بغیر ان مسائل کا حقیقی ادراک ممکن نہیں جو موجودہ نظام میں جہاد کے نظریے کے انطباق کے وقت پیش آتے ہیں۔ زیر نظر مقالے میں ایسے ہی چند اہم مسائل اہل علم کے غور و فکر اور تجزیے کے لیے سامنے لائے گئے ہیں۔ "

اس مقالے میں اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں یہ کتاب لکھی گئی۔ چنانچہ اس کتاب میں جہاں کہیں بھی بین الاقوامی قانون کی پوزیش پیش کی گئی ہے وہ یا تو خود بین الاقوامی قانون کے ماہرین کی پوزیشن ہے یا مسلمان اہلِ علم میں ان لوگوں کی پوزیشن ہے جو معاصر بین الاقوامی نظام کے اندر رہ بات کرنے کے قائل ہیں۔ ان دونوں گروہوں کی پوزیشن / پوزیشنز سے بارہا مجھے اختلاف رہا ہے اور اس کا اظہار کتاب میں ہی بیشتر مقامات پر تفصیل سے کیا گیا ہے۔ پس اس کتاب میں بین الاقوامی قانون کی پوزیشن کے متعلق یہ اصولی بات مد نظر رکھیے کہ یہ پوزیشن ضروری نہیں کہ میری ہو۔ ہاں! جہاں میں نے اپنی پوزیشن بیان کی ہے تو میں اس پوزیشن کو اون کرتا ہوں اور اگر مجھ پر اس کی غلطی واضح ہوجائے تو اس سے رجوع میں ایک لمحے کے تذبذب کا بھی اظہار نہیں کروں گا، ان شاء اللہ۔

پس منظر سے متعلق ایک اور نکتے کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ جس وقت یہ کتاب لکھی گئی (2007ء-2008ء)، اس وقت پاکستان میں اسلام کے نام پر خونریزی کا سلسلہ جاری تھا، اور مسلح تنظیموں کی پوزیشن سے بھی مجھے قدم قدم پر اختلاف رہا۔ اس لیے اس کتاب میں خصوصی طور پر کوشش کی کہ اسلامی قانون کی جزئیات اور اس کے اصولوں کی تفصیلی وضاحت کی جائے تاکہ معلوم ہو کہ ان تنظیموں کا استدلال کیوں غلط ہے؟ دار الاسلام کی بحث اس کی ایک مثال ہے۔ جو لوگ اس کے قائل ہیں کہ پاکستان میں شامل علاقوں کو دار الاسلام نہیں کہا جاسکتا، اور اس ضمن میں فقہی تراث سے استدلال کرتے ہیں، میں نے ان کے استدلال کی غلطی واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا "اسلامی ریاست" کی بحث سے تعلق جوڑنا ہی خلط مبحث کا باعث بنتا ہے۔ میرے نزدیک "اسلامی ریاست" کی ترکیب ہی غلط ہے کیونکہ ریاست نامی شخص اعتباری کا تصور ہی اسلامی قانون کے لیے اجنبی اور ناقابل قبول ہے (جب تک اس تصور میں کچھ بہت ہی بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں نہ لائی جائیں)۔ اس آخری بات کا خدانخواستہ ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں "سیکولرزم " کا قائل ہوں۔ حاشا و کلا! پوری صراحت سے سنیے کہ میرے نزدیک سیکولر ہیومنزم اس وقت اسلام کا سب سے بڑا دشمن ہے۔

(میرا موقف غامدی صاحب کے "جوابی بیانیے " سے کیسے مختلف ہے؟ عمار ناصر صاحب اور خورشید ندیم صاحب کی بعض غلط فہمیوں پر میں نے ایک پوسٹ لکھی تھی، وہ یہاں ضمیمۂ اول میں پیش کررہا ہوں۔)

کیا غامدی صاحب ریاست کے اعتباری شخص ہونے کی وجہ سے اس کے مذہبی ہونے سے انکاری ہیں؟
غامدی صاحب کے حلقے کے بعض احباب کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ریاست کے اعتباری شخص ہونے کی بحث سے غامدی صاحب کے مؤقف کی تائید ہو رہی ہے۔ ایسا نہیں ہے!

اس سلسلے میں اولین بات یہ نوٹ کریں کہ میرے نزدیک مسلمانوں سے، نہ کہ ریاست نامی فرضی اور خیالی تصور سے، شریعت کا مطالبہ یہ ہے کہ وہ انفرادی زندگی کی طرح اجتماعی زندگی بھی شریعت کے مطابق بسر کریں اور اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ زمین کے جس خطے میں مسلمانوں کا کنٹرول ہو، جسے آج کل اسلامی ریاست یا مسلمان ریاست کہا جاتا ہے، وہاں کا قانونی اور عدالتی نظام اسلامی شریعت کے مطابق ہو۔ اس اجتماعی دائرے کو اسلامی شریعت کے مطابق کرنے کے لیے کوشش میرے نزدیک مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے۔ البتہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ مطالبہ مسلمانوں سے ، یعنی حقیقی اشخاص سے، ہے نہ کہ اسلامی ریاست نامی فرضی شخص سے۔ میں ریاست کے مذہبی ہونے کی نفی کرتا ہوں تو اس وجہ سے کہ شخص اعتباری ثواب یا عقاب کا مستحق نہیں ہوسکتا، اس لیے میرے نزدیک یہ ذمہ داری مسلمانوں کی ہے جو حقیقی اشخاص ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ غامدی صاحب شریعت کا مخاطب افراد کو قرار دیتے ہیں ، ان کے جوابی بیانیے میں ریاست کو ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر مانا گیا ہے جبکہ میرے نزدیک "ریاست" ایک غیر حقیقی شے اور محض ایک خیالی تصور (fiction) ہے۔ چنانچہ وہ سوال قائم کرتے ہیں کہ "کیا اسلام اس طرح کی ریاست کو قبول کرتا ہے؟" جبکہ میرے نزدیک اسلام کے لیے یہ سوال ہی نہیں اٹھتا۔

گویا غامدی صاحب ریاست کے حقیقی وجود کے قائل ہیں، لیکن مسلمانوں کے لیے اجتماعی نظام کو اسلام کے مطابق کرنے کی ذمہ داری سے انکاری ہیں، جبکہ میں ریاست کو خیالی تصور مانتا ہوں اور اس کا قائل ہوں کہ اجتماعی نظام کو اسلام کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا مسلمانوں پر فرض ہے۔

اسی طرح وہ "قومی ریاست" کو ایک حقیقت مان کر اس کے تقاضے مسلمانوں کے لیے بیان کرتے ہیں جبکہ میرے نزدیک ریاست، قومی ہو یا اسلامی، محض ایک خیالی تصور ہے۔
مزید یہ کہ وہ یہ قرار دیتے ہیں کہ مسلمان مختلف "ریاستوں" میں رہ رہے ہیں، جبکہ میرے نزدیک مسلمان زمین کے مختلف "خطوں" میں رہتے ہیں۔

اسی طرح وہ کسی بھی "ریاست" میں رہنے کو خلافِ شریعت نہیں مانتے، جبکہ میرے نزدیک "ریاست" میں رہنے کا سوال ہی غلط ہے۔ میرے نزدیک سوال یہ ہے کہ جن خطوں میں مسلمان رہتے ہیں، وہ مسلمانوں کے کنٹرول میں ہیں یا غیر مسلموں کے کنڑول میں؟ (دونوں صورتوں میں سوال کا جواب شخص حقیقی کے ذریعے ہی متعین ہوتا ہے۔) دونوں صورتوں میں مسلمانوں سے شریعت کے کچھ مطالبات مشترک ہیں اور کچھ مطالبات پہلی صورت میں زیادہ ہیں۔ نیز دوسری صورت میں شریعت کے جو مطالبات ہیں ان میں سے بعض کے پورے نہ کرسکنے پرمسلمانوں کے لیے ان "خطوں" میں رہنا ناجائز ہوجاتا ہے اور ان پر وہاں سے ان خطوں کی طرف جانا واجب ہوجاتا ہے جو مسلمانوں کے کنٹرول میں ہیں۔

باقی رہا یہ سوال کہ جو خطے مسلمانوں کے کنٹرول سے باہر ہیں کیا ان کو کنٹرول میں لانا مسلمانوں پر لازم ہے یا نہیں ؟ یہ الگ بحث ہے اور اس کو زیر بحث موضوع کے ساتھ منسلک کرنے سے محض خلط مبحث ہی پیدا ہوتا ہے۔

زاہد مغل صاحب کے نام مکتوب میں اٹھائے گئے دو بنیادی سوالات کے جوابات

پہلا سوال : غامدی صاحب کا نظریۂ اتمامِ حجت
اس کے جواب میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ میں اس نظریے کو مسترد کرتا ہوں، اور اسے غامدی صاحب کی فکر کی بنیادی غلطیوں میں شمار کرتا ہوں۔ ضمیمۂ دوم کے طور پر اپنی ایک تحریر پیش کر رہا ہوں جس سے آپ کو کچھ اندازہ ہوجائے گا کہ میں اس نظریے کو کیسے دیکھتا ہوں۔ ضمیمۂ سوم بھی اتمامِ حجت کے نظریے کے ایک خاص پہلو سے متعلق ہے، اور یہ جہاد پر کتاب کے دوسرے اور تیسرے ایڈیشن میں شامل ہے۔

البتہ اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اتمامِ حجت کا تصور ایک خاص دائرے میں حنفی فقہاے کرام نے تسلیم کیا ہے اور میں اس حد تک اس کا قائل ضرور ہوں۔ مثال کے طور پر حنفی فقہاے کرام کی اتباع میں میں اسی کا قائل ہوں کہ عرب اور مرتدین سے جزیہ وصول نہیں کیا جاسکتا، نہ ہی ان سے ابدی امن کا معاہدہ ہوسکتا ہے، کیونکہ ان کے لیے بس دو ہی آپشن ہیں: اسلام یا تلوار۔ غامدی صاحب کے برعکس میں اس اصول کو عہدِ رسالت کے عربوں یا مرتدین تک محدود نہیں سمجھتا بلکہ اسے مستقل حکم سمجھتا ہوں۔ اسی طرح اسلام کی عالمگیر دعوت کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جائیں تو ان رکاوٹوں کے دور کرنے کےلیے جہاد کی فرضیت کا بھی میں قائل ہوں۔

یہ وضاحت میں نے جہاد پر کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں بھی مختصر کی تھی اور تیسرے ایڈیشن میں پھر اس کی مزید تفصیل دی ہے۔ چند اقتباسات یہیں ملاحظہ کیجیے:
"اگر غیر مسلموں کا نظم ِ اجتماعی اسلام کی دعوت کی راہ میں روڑے اٹکاتا ہے، یا وہ لوگوں کو اسلام قبول کرنے سے روک رہا ہے، تو اس رکاوٹ کا دور کرنا ضروری ہوجاتا ہے اور اگر اور کوئی راستہ نہ ہو تو اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے طاقت بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ یہ اسلام کو دین ِ برحق ماننے کا لازمی تقاضا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے معاصر دنیا میں حقوق ِ انسانی کی پامالی، عالمی امن کو خطرہ، جمہوریت کے فروغ اور اس طرح کے دیگر مغربی تصورات کی بنیاد پر اقوام ِ متحدہ اور طاقتور ریاستیں اپنے لیے اسے جائز سمجھتی ہیں کہ وہ ان اقدار کی راہ میں رکاوٹ بننے والی حکومتوں کا خاتمہ کردیں، بلکہ اگر کوئی اور راستہ نہ ہو تو ریاستوں ہی کی نئی تشکیل کردیں۔ مولانا مودودی کافرانہ نظام ِحکومت کے خاتمے کو مقصود بالذات قرار دے رہے ہیں اور یہیں سے مسلسل جنگ کا نظریہ جنم لیتا ہے۔ اس کے برعکس ہماری رائے یہ ہے کہ قتال کی علت محاربہ ہے اور کافرانہ نظام ِ حکومت بذات ِخود محاربہ کے مترادف نہیں ہے، لیکن جب یہ نظام ِحکومت واقعتا رکاوٹ بن جائے اور اس رکاوٹ کے دور کرنے کے لیے اور کوئی راستہ نہ ہو تو پھر ضرورت کی حد تک طاقت استعمال کی جاسکتی ہے، اور طاقت کا یہ استعمال اس بنیاد پر جائز ہوگا کہ اس طرح کی رکاوٹ ڈال کر مذکورہ نظم ِ اجتماعی اسلام کے خلاف محاربے کا ارتکاب کر رہا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔"

اس راے کا اظہار میں نے اپنے ایک انگریزی مقالے میں بھی کیا ہے جس میں مولانا مودودی، ڈاکٹر حمید اللہ اور ڈاکٹر وہبہ الزحیلی کے تصور دفاع کا موازنہ کر کے ان کی بعض الجھنوں پر تبصرہ کیا ہے، اور پھر دکھایا ہے کہ اسلامی قانون کا تصور دفاع معاصر بین الاقوامی قانون کے تصور دفاع سے بہت وسیع اور مختلف ہے، کیونکہ معاصر قانون میں دفاع سے مراد دفاعِ ریاست ہے، جبکہ اسلامی قانون میں دفاع سے مراد محض دفاعِ ریاست نہیں بلکہ دفاعِ امت اور اس سے بھی آگے بڑھ کر دفاعِ دین ہے۔ اس مقالے سے ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے:

This may seem strange today because of the paradigm shift referred to above. In the contemporary international legal regime, states do not express the right to use force against other states on the basis of denial of the right to preach a particular religion. However, other ‘values’ — such as the values of ‘human rights, freedom and democracy’ — are deemed so important that governments are toppled and states are occupied in order to promote these values. We also hear references to ‘rogue states’ harassing ‘human rights activists,’ or denying ‘equal rights’ to minorities or women. Ronald Reagan, the US President (1980–1988), launched a series of invasions under the notion of ‘regime change’ in various parts of the globe for ‘promoting democracy.’ His successor George Bush, the US President from 1989 to 1992, invaded Panama in 1989 to kidnap the ‘undemocratic’ and ‘criminal’ General Noriega. He also invaded Iraq in 1991 to ‘liberate’ Kuwait. His son George Walker Bush, the US President from 2000 to 2008, pronounced a ‘relentless’ war, even ‘crusade,’ against ‘terrorism.’ This so-called ‘global’ war on terror is deemed to be a war that knows no ‘frontiers.’ The whole world has been divided into ‘us’ and ‘them’ and values are also designated as ‘ours’ and ‘theirs.’ These should not be deemed as isolated instances or imperialistic doctrines of the super powers. This is because we also have the notion of ‘threat to international peace’ in the UN Charter, which forms one of the bases for the UN Security Council authorising the use of force against a state. Today, because of the paradigm shift, the threat to ‘international’ peace seems a valid basis for waging war. In the same way, it can be argued that it is justified to wage war against a state which puts hurdles in the way of the preaching Islam (read, promoting democracy or preserving international peace).
(“The Scope of Self-defense: A Comparative Study of Islamic and Modern International Law,” Islamic Studies 49:2 (2010), 155-194, at 175-176.)

دوسرا سوال: کیا میں انسانی حقوق کے منشور کو آفاقی، فطری اور قانونِ خداوندی سے اخذ شدہ سمجھتا ہوں؟
یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے جو میرے متعلق آپ کو لاحق ہوئی ہے اور جس اقتباس سے آپ کو یہ غلط فہمی لاحق ہوئی ہے، وہاں میں اپنا موقف پیش نہیں کررہا بلکہ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کا ہی موقف پیش کررہا ہوں۔ تاہم یہاں قصور میرے سوء تعبیر ہی کا ہوگا کہ میں اپنے اور دوسروں کے مؤقف میں فرق واضح نہیں کرسکا ہوں گا۔ اس لیے وضاحت کےلیے چند نکات پیشِ خدمت ہیں:

1۔ "عقل و فطرت" سے استدلال کو غامدی صاحب کی فکری غلطیوں کی بنیادی وجہ سمجھتا ہوں۔ خیر و شر کا تعین میرے نزدیک شرع سے ہوتا ہے، نہ کہ عقل سے، اور اس وجہ سے "فطرت" سے استدلال کو میں لغو سمجھتا ہوں۔ غامدی صاحب کے حلقے سے اس موضوع پر میری اور زاہد مغل بھائی کی تفصیلی بحثیں ہوچکی ہیں۔ ان میں سے چند اقتباسات میں ضمیمۂ چہارم میں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔

2۔ غامدی صاحب اور دیگر متجددین کے اس نام نہاد اصول پر میں نے اپنی ایک پرانی کتاب "حدود قوانین: اسلامی نظریاتی کونسل کی عبوری رپورٹ کا تنقیدی جائزہ" میں بھی تنقید کی تھی۔ تاہم میں آپ کی خدمت میں اس وقت میں اپنا ایک قریبی دور کا مقالہ پیش کررہا ہوں، جو لمز کے لا جرنل میں شائع ہوا ہے اور اس کا عنوان ہے:
Discovering the Law without A Coherent Legal Theory: The Case of the Council of Islamic Ideology
اسے درج ذیل لنک سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے:
https://sahsol.lums.edu.pk/law-journal/discovering-law-without-coherent-legal-theory-case-council-islamic-ideology

3۔ حقوقِ انسانی کے متعلق جو عام طور پر دو رائج مؤقف ہیں ان کو میں نے "شکست خوردگی " اور "عذرخواہی" کا نام دیا ہے۔ "دلیل" پر اس حوالے سے تحریر موجود ہے، جو درج ذیل لنک پر دیکھی جاسکتی ہے :
https://daleel.pk/2018/02/02/75273

4۔ جہاد کی کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں بھی وضاحت کی تھی اور تیسرے ایڈیشن میں بالخصوص واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے متعلق یہ "بیانیہ" کسی اور کا ہے، اور پھر اس کا جوابی بیانیہ پیش کیا ہے۔ اس جوابی بیانیے سے کچھ حصہ بعد میں اس محولہ بالا مضمون میں بھی شامل کیا گیا، جو دلیل پر موجود ہے۔

(جاری)

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.