بیک وقت طلاق ثلاثہ کا مسئلہ - رانا اعجاز حسین چوہان

گزشتہ روز پاکستان میں نافذ قوانین کو اسلامی شریعت کے مطابق ڈھالنے کے زمہ دار آئینی ادارے، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیک وقت تین طلاقیںبڑا معاشرتی مسئلہ بن چکا ہے،بیک وقت تین طلاق دینے کی سزا پر علماء و قانونی ماہرین سے مشاورت جاری ہے۔ جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے جامع طلاق نامہ بنانے پر بھی اتفاق کیا گیاہے،یہ طلاق نامہ نفاذ کے لئے وفاقی حکومت کو بھیجا جائے گا، اور جلد ہی اس معاملے پر اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے کانفرنس بھی بلائی جائے گی‘‘۔

بیشک ایسی حالت میں جب کسی صورت میاں بیوی کا نبھاہ نہ ہو سکے، اسلام نے مرد کو طلاق کا حق تو دیا ہے مگر اس کو سخت نا پسندیدہ فعل قرار دیا ہے۔ آج کل کے معاشرے میں جہاں عدم برداشت اور قدم قدم پر فرائض کی ادائیگی کے بجائے صرف حقوق کی بات کی جاتی ہے ان حالات میںطلاق کی شرح بہت زیادہ ہوگئی ہے۔ جبکہ غصے کی حالت میں اٹھائے گئے بیک وقت طلاق ثلاثہ کے قدم سے جہاں دو خاندان تباہ ہوجاتے ہیں وہاں ننے معصوم بچوں کی باقی ماندہ زندگی بھی اجیرن ہوجاتی ہے۔ اس سخت قدم کے بعد لوگوں کے پاس سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں رہ جاتا۔ ایسے حالات میں لوگ علمائے کرام سے رابطہ کرتے ہیں اور مختلف عذرام پیش کرتے نظر آتے ہیں کہ جناب بچے چھوٹے ہیں ، غصے کی حالت میں طلاق دے دی ہے،جبکہ ایسا اکثر غصے کی حالت میں ہی ہوتا ہے پیار میں طلاق کون دیتا ہے۔ پھر کبھی ایک مسلک کے عالم سے کبھی کسی دوسرے مسلک کے عالم دین سے رابطہ کرکے کوئی حل نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ان گھمبیر حالات میں جب معاشرے میں طلاق کے مسائل روز بروز بڑھ رہے ہوں حکومت پاکستان اور اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان سے ایسے مسائل کے تدارک کے لیے ٹھوس قانون سازی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے، تاکہ کوئی بھی شخص غصے کی حالت میں ایسا فیصلہ نہ کرسکے جس سے کسی کی زندگی برباد ہوجائے اور مطلق کو بھی بعد میں پچھتانا پڑے۔ واضع رہے کہ سال 2015 ء میں بھی اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے اس وقت کے چیئرمین جناب مولانا محمد خان شیرانی نے اپنے زیر صدارت اجلاس میں متعدد سفارشات کی منظوری دی تھی جن میں ایک اہم شفارش یہ تھی کہ’’ بیک وقت تین طلاقیں غیراسلامی اور شریعت کے منافی ہیں۔ اور خاوند کی جانب سے بیک وقت بیوی کوطلاق ثلاثہ ، قابل سزا جرم سمجھا جائے ‘‘۔ مولانا محمد خان شیرانی کا کہنا تھا کہ ’’شریعت میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق خاوند اپنی بیوی کو ایک وقت میں ایک ہی طلاق دے سکتا ہے‘‘۔ اس طرح پاکستان میں نافذ قوانین کو اسلامی شریعت کے مطابق ڈھالنے کے ذمہ دار آئینی ادارے اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک وقت میں اکٹھے تین طلاقوں کی حوصلہ شکنی کے لیے اس فعل کو قابل سزا جرم قرار دینے کی سفارش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’مطلق کے ساتھ ساتھ جو شخص اسٹامپ پیپر پر بھی اکھٹی تین طلاقیں لکھے اسے بھی سزا دی جائے‘‘۔اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان نے مذکورہ بالا فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ’’ مرد اپنی بیوی کو تین الگ مجالس میں یونین کونسل یا عدالت کے ذریعے طلاق کے نوٹس بھجوائے گا اور اس کے بعد دونوں کے درمیان علیحد گی ہوسکے گی‘‘۔ مولانا شیرانی نے اکھٹے تین طلاقیں دینے والے خاوند کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے قید یا جرمانے کی صورت میں کوئی سزا تجویز نہیں کی تھی، بلکہ اس کو متعلقہ عدالتوں پر چھوڑ ا تھا کہ وہ جو چاہیں سزا دے سکتی ہیں۔ عوامی و سماجی حلقوں اور مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں کی جانب سے اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے اس فیصلے کو بہت سراہا گیا تھا، جبکہ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کا حالیہ فیصلہ بھی لائق تحسین ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیائی شادیاں، معاملہ کہاں رکے گا - محمد نورالہدیٰ

بیک وقت طلاق ثلاثہ کی وجہ سے بڑھتے مسائل کے حل کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ ملک کے جید علمائے کرام اور قانونی ماہرین کی مشاورت کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل کے ان فیصلوں کو قانونی شکل دے دی جائے، اور قرار دیاجائے کہ جیسے نکاح خاندان کے لوگوں اور گواہان کی موجودگی میں ہوتا ہے اسی طرح طلاق بھی گواہا ن کی موجودگی میں ، اور تین الگ مجالس میں ہو تاکہ بعد میں پچھتانا نہ پڑے، اور اس پرفتن دور میں ہر قسم کے سقم اور شک و شبے سے بالاتر ہو۔ افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ملک میں سیاسی شخصیات کے تحفظ کے لئے تو قانون سازی کی جاتی ہے مگر عوامی مسائل یکسر نظر انداز کردئے جاتے ہیں۔ جبکہ معاشرے میں پھیلے مسائل کا تدارک ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہونی چاہیے تاکہ معاشرہ اسلامی اقدار کے مطابق پھل پھول سکے۔