اقوام متحدہ میں وزیرخارجہ کا خطاب حبیب الرحمن

اقوام متحدہ کے 73 ویں جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ نے پاکستان کی قومی زبان اردو کو ذریعہ اظہار بنایا جو ایک خوش کن خبر ہے۔ اقوام متحدہ کی اسی قسم کے اجلاسوں میں اکثر یہ بات نوٹ کی جاتی رہی ہے کہ بھارت کے نمائندے تو ہندی زبان کو ذریعہ اظہار بناتے رہے ہیں لیکن پاکستان کے مندوبین ہمیشہ انگیزی ہی کو اظہار خیال کے طور پر استعمال کرتے چلے آئے ہیں۔ انگریزی ہو یا اردو، دونوں ہی میڈیاز میں کوئی برائی تو نہیں، لیکن پاکستان کی ایک بہت بڑی آبادی بہر کیف انگلش زبان کا فہم نہیں رکھتی اس لیے وہ کی جانے والی بات چیت سے بے خبر ہی رہ جاتی ہے۔ اقوام متحدہ میں اردو میں خطاب اور پاکستانی مؤقف کا سامنے آنا پاکستانی عوام کے لیے ایک اچھی خبر ہے اور امید کی جاتی ہے کہ پاکستان سے باہر جہاں جہاں بھی اور جس جس فورم پر پاکستان کا مؤقف بیان کیا جائے گا ،اب اس کا ذریعہ اظہار اردو زبان ہی ہوا کرے گا۔

ایک بات سامنے آئی کہ اردو کو ذریعہ اظہار بنانے کی پیشگی اطلاع اقوام متحدہ کے منتظمین کو نہیں کی گئی جس کی وجہ سے اس تقریر کو تمام شرکا کے لیے نشر نہیں کیا جا سکا۔ اگر یہ بات درست ہے تو پاکستان کے لیے یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے، اس لیے کہ ہندوستان یا برصغیر سے تعلق رکھنے والے چندممالک کے مندوبین (شرکا) کے علاوہ پاکستان کے مؤقف کو شاید ہی کوئی دوسرا ملک بروقت سمجھ سکا ہو۔ اگر ایسا قدم اٹھانے سے قبل منتظمین کو آگاہ کر دیا جاتا تو دنیا کا ہر ملک پاکستان کے وزیر خارجہ کی تقریر کو نہ صرف سن پاتا، بلکہ ممکن ہے کہ وہ اس پر بر وقت اظہار خیال بھی کرتا جس کی وجہ سے کئی ممالک کی تائید پاکستان کے حق میں جا سکتی تھی۔

وزیر خارجہ کے خطاب کی جو جو خاص باتیں سامنے آئی ہیں ان کو سامنے رکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ انھوں نے پاکستان کے عوام کے جذبات کی بہت حد تک ترجمانی کی ہے جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔

بھارت روز بروز جس قسم کا سخت لہجہ اختیار کرتا جارہا ہے اور آنے والے ہر دن کو جنگ و جدل کی جانب دحکیلتا ہوا نظر آرہا ہے اس پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے بھارت کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ " بھارت ہمارے صبر کا امتحان نہ لے، بھارت نے اگر سرحد پر کوئی مہم جوئی کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا"۔ یہ ایک بروقت اور دلیرانہ مؤقف ہے جس سے پاکستان نے بھارت کو آگاہ کر دیا ہے۔

پاکستان بھارت کے مقابلے میں ایک کمزور ملک ہی سہی لیکن بھارت کو معلوم ہونا چاہیے کہ جنگیں فقط ہتھیاروں کی کثرت سے ہی نہیں جیتی جایا کرتیں۔ فتح کے لئے عزم و حوصلہ بڑی سے بڑی طاقت کو بھی شکست پر مجبور کر دیتا ہے۔ امریکہ کی "ویتنام اور افغانستان" میں اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی اس بات کا ایک بہت واضح ثبوت ہے۔

اقوام متحدہ کا کوئی سا بھی فورم ہو یا دنیا میں کوئی بھی فورم، پاکستان ہر مقام پر کشمیر پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کا ذکر ہمیشہ بہت ہی پر زور الفاظ میں کرتا چلا آیا ہے۔ اس اجلاس میں بھی کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کو نہایت شدت سے اجاگر کیا گیا ہے بلکہ گزشتہ ادوار کے برعکس اس مرتبہ زیادہ مؤثر انداز اختیا کیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ نے کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے وہاں ہونے والے مظالم کا نہ صرف تفصیل سے ذکر کیا بلکہ مطالبہ کیا کہ "مسئلہ کشمیر میں قتل و غارت پر اقوام متحدہ ایک آزاد کمیشن تشکیل دے"۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ "سمجھوتہ ایکسپریس میں جاں بحق ہونے والے بےگناہ پاکستانیوں کوکبھی نہیں بھولیں گے جن کے قاتل بھارت میں آزاد پھر رہے ہیں"۔

دنیا مسلمانوں کے جذبات نہ صرف مجروح کرتی آئی ہے بلکہ وہ مسلمانوں کے نبی آخرالزماں حضرت محمد (ص) کی توہین بھی کرتی آئی ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ مسلمان اپنے اوپر ظلم و زیادتی تو برداشت کر سکتے ہیں اور ہر قسم کی زیادتوں کو بھی معاف کر سکتے ہیں لیکن وہ کبھی اس بات کو گوارہ نہیں کر سکتے کہ کوئی ان کی نبی (ص) کی شان میں کسی بھی قسم کی کوئی توہین آمیز بات یا حرکت کرے۔ گزشتہ کسی برسوں سے دنیا ان کے جذبات سے کھیلتی آرہی ہے اور حالیہ دنوں میں ہالینڈ میں بننے والے ایک منصوبے میں اس بات کی کوشش کی جارہی تھی کہ وہاں آپ (ص) کے بیہودہ کارٹون بنا کر سوشل میڈیا پر نشر کئے جائیں۔ اس اطلاع پر پوری دنیا اور خاص طور پر پاکستان میں شدید رد عمل پایا گیا جس کی وجہ سے ہالینڈ کی حکومت نے ایسی گستاخانہ منصوبہ بندی کو مؤخر کرادیا۔ یاد رہے کہ کہ ایسی مذموم حرکت کو صرف مؤخر کیا گیا ہے اس کو منسوخ نہیں کیا گیا ۔گویا ایسا کچھ پھرکسی وقت بھی کیا جاسکتا ہے۔ مؤخر کردیا اور تلف کردیاجانے میں بہت واضح فر ق ہے اس لئے ایسی کسی بھی مذموم حرکت کے ہر امکان کا ختم ہوجانا بہت ضروری ہے ورنہ مسلمانوں کے جذبات کسی بھی وقت اس حد تک بھڑک سکتے سکتے ہیں جن کو قابو میں کرنا دنیا کے کسی بھی مسلم ملک کے بس میں نہیں رہے گا۔ اسی بات کو سامنے رکھ کروزیر خاجہ شاہ محمود قریشی نے ہالینڈ کو خبردار کرتے ہوئے اقوام عالم سے کہا ہے کہ اس قسم کی کارروائیاں بند ہونی چاہئیں تاکہ مسلمانوں کی دل آزاری نہ ہو۔

وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ "آج دنیا ایک دوراہے پر کھڑی ہے، دنیا کے بنیادی اصول متزلزل دکھائی دے رہے ہیں،برداشت کی جگہ نفرت اور قانون کی جگہ اندھی اور بے لگام طا قتیں غلبہ پارہی ہیں، دنیا میں نئے راستوں کی جگہ رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں ، نفرتوں کی فصلیں اگائی جارہی ہیں، سامراجیت کی نئی شکلیں پروان چڑھ رہی ہیں۔ تجارتی جنگ کے گہرے بادل افق پر نمودار ہوچکے ہیں، دوسری جنگ عظیم کے بعد بین الاقوامی اتفاق رائے کی جگہ ایک مبہم عسکری سوچ نے لے لی ہے یہ عمل عالمی امن کے لیے خطرناک ہے،عالمی تنازعات کے ساتھ ساتھ نئے تفرقات جنم لے رہے ہیں، مسئلہ فلسطین آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ناموس رسالت (ص)کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سب کے سامنے ہے، دیگر مذاہب کی جانب سے جہاں برداشت کے نظریات ہونے چا ہئیں وہاں اب نفرتوں نے جنم لیا ہے"۔

وزیر خارجہ نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ " پاکستان کو تنہا کرنے کی قوتیں غالب ہوتی نظر آرہی ہیں، پاکستان اپنے قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ہم اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کی مدد سے تہذیبوں کے درمیان تصادم روکیں گے اور اسلام دشمنی کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔ بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات اور سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے تمام تنازعات کا حل چاہتے ہیں، اقوام متحدہ کے اس اجلاس میں پاک بھارت متوقع ملاقات ایک اچھا موقع تھا جس میں تمام معاملات پر بات چیت ہوتی لیکن مودی حکومت نے منفی رویے کی وجہ سے موقع تیسری بار گنوا دیا۔ بھارتی قیادت نے امن پر سیاست کو فوقیت دی، ایک ڈاک ٹکٹ کو بنیاد بنایا جو مہنیوں پہلے جاری ہوا، بھارت نے مذاکرات کی میز پر آنے سے انکار کردیا جو ایک افسوسناک بات ہے۔ بھارت جان لے مذاکرات ہی واحد راستہ ہے جس سے دیرینہ مسائل حل ہوسکتے ہیں۔”۔

وزیر خارجہ نے کشمیر کے مسئلے کی جانب اقوام متحدہ کی توجہ مبزول کراتے ہوئے کہا کہ "مسئلہ کشمیر خطے کے امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جسے 70 سال ہوگئے، یہ امن اس وقت تک قائم نہیں ہوگا جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا، یہ مسئلہ انسانیت کے ضمیر پر ایک بدنما داغ ہے۔ کشمیر کے باشندے 70 سال سے انسانی حقوق کی پامالی سہتے آئے ہیں، یو این او کی حالیہ رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہیں جس میں کشمیر میں ریاستی جبر کا مکروہ چہرہ دکھایا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج نے کیا کیا مظالم ڈھائے۔ دہشت گردی کی آڑ میں اب بھارت کشمیر میں منظم قتل و غارت کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکے گا، ہم کشمیر میں قتل و غارت پر ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں جو ذمہ داروں کا تعین کرے، اب یہ عمل ناگزیر ہوگیا ہے، امید کرتے ہیں کہ بھارت بھی کمیشن کو تسلیم کرے گا۔ کشمیر میں قابض افواج کی درندگی سے نظر اٹھانے کے لیے بھارت ایل او سی پر فائرنگ کرتا ہے، بھارت کو ہمارے صبر کا امتحان نہیں لینا چاہیے، اگر وہ ہم پر حملے کی غلطی کرتا ہے تو اسے پاکستان کی جانب سے بھرپور رد عمل کا سامنا کرنا ہوگا"۔

یہ سب وہ نقط ہیں جو ہر پاکستانی کے دل کے تر جمان ہیں۔ اس بات کو سامنے رکھا جائے تو پاکستان کے وزیر خارجہ نے ہر وہ بات اقوام عالم کے سامنے رکھ دی جس کی خواہش ہر پاکستانی کو تھی۔ اب یہ کام اقوام عالم کا ہے کہ وہ پاکستانی وزیر خارجہ کے بیان کردہ ہر ہر نقطے کا بخوبی جائزہ لے۔ اگر دنیا خطے میں امن کی واقعی خواہش مند ہے تو اسے ہر ہر بات کا خوب اچھی طرح جائزہ لینا ہوگا، فوری، مثبت اور بھرپور اقدامات اٹھانے ہونگے۔ بھارت اور پاکستان کو مذاکرات کی میز پر لانا ہوگا۔ پاکستان تو بھارت کو مذاکرات کرنے کی ہر ممکن کوشش کر چکا لیکن بھارت مذاکر پر کسی صورت راضی نہیں۔ پاکستان اپنا مؤقف دنیا کے سامنے رکھ چکا ہے اب دیکھنا یہ ہے اقوام عالم اس سلسلے میں کیا کردار ادا کرتی ہیں۔

پاکستان نے امریکہ کا نام لئے بغیر اقوام متحدہ کے سامنے یہ بات بھی بڑی خوبی سے رکھ دی کہ پاکستان گزشتہ کئی دھائیوں سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے۔ اپنے اسی موقف کو اقوام متحدہ کے سامنے رکھتے ہوئے وزیر خاجہ کا کہنا تھا کہ "ہم 17 سال سے دہشت گردی کی جنگ سے نبرد آزما ہیں، دو لاکھ افواج کی مدد سے دنیا کا سب سے بڑا آپریشن کیا، آج بھی ہمارا مشرقی ہمسایہ دہشت گردوں کی مالی مدد اور معاونت کررہا ہے اور ہزاروں جانوں کا ضیاع اس کا نتیجہ ہے، ہم پاکستان میں ہونے والے حملوں میں ہندوستان کی معاونت کو نہیں بھول سکتے"

پاکستان نے دنیا کے سامنے اپنی بات بہت وضاحت کے ساتھ رکھ دی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے لیے دنیا کیا مؤقف اختیار کرتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ایک آزمائش سے گزر رہا ہے۔ اپنی جانب سے تو پاکستان کی کوشش یہی ہے کہ دنیا اور خصوصاً بھارت کے ساتھ کوئی ٹکراؤنہ ہو لیکن پاکستان نے دنیا اور بھارت پر واضح کر دیا ہے کہ اگر بھارت کی جانب سے کو حماقت کی گئی تو اسے اس حماقت اور بیوقوفی کی سخت سزا ملے گی۔ دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان کے عوام ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنا خوب طرح کرنا جانتے ہیں۔