اردو میں تلفظ: معنویت اور مسائل - امتیاز شمیم

اردو میں تلفظ: معنویت اور مسائل
تالیف: ڈاکٹر محمد یوسف رامپوری
اشاعت: مرکزی پبلی کیشنز، نئی دہلی
قیمت: تین سو روپے
تبصرہ: امتیاز شمیم

اردو برصغیر میں بولی جانے والی کئی زبانوں میں سے ایک ہے، یہ ایک شیریں زبان ہے، اس میں بلا کی جاذبیت ہے جو نہ صرف اردوداں طبقے کو اپنا اسیربنائے رکھتی ہے؛ بلکہ اجنبی اور اردو سے نابلد افراد کو بھی اپنی طرف کھینچتی اور انہیں اس زبان کو سیکھنے، سننے اور بولنے پر آمادہ کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اردو جاننے والوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے اور اس کا دائرہ ہند و پاک کی سرحدوں کو پار کر کے خلیجی، یورپی، ایشیائی اور امریکی علاقوں میں بھی بہ تدریج وسیع ہوتا جا رہا ہے۔

دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اردو زبان و ادب کو تغیرات زمانہ کے ساتھ نت نئی مشکلات و مسائل کاسامناہے، تلفظ کا مسئلہ ان میں سرفہرست ہے جس کے تئیں یقینا بے توجہی و بے اعتدالی برتی جا رہی ہے، اہل زبان کو اس طرف توجہ دینے اور اردو داں حلقے میں آگہی لانے کی ضرورت ہے، تبھی اردو زبان کی وہ مٹھاس اورجاذبیت برقرار رہ سکتی ہے۔

حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی ’’اردو میں تلفظ: معنویت اور مسائل‘‘ اسی قبیل کی ایک کتاب ہے، جو اردو زبان و ادب کو تلفظ کے حوالے سے درپیش مسائل، ان کے اسباب اور تدارک کے موضوع پر بحث کرتی ہے۔ تقریبا ایک سال قبل 9/اکتوبر 2017ء کو مولانا فیروزاخترقاسمی نے مرکزی جمعیت علما کے زیراہتمام قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے اشتراک سے جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے نہروگیسٹ ہاؤس میں ایک سیمینار منعقد کیا تھا، جس کا عنوان تھا ’’اردو میں تلفظ کے مسائل: اسباب اور تدارک‘‘، اس میں ہندوستان کے طول و عرض سے پروفیسرز، ڈاکٹرز اور ریسرچ اسکالرز سمیت اردو کی کئی معروف شخصیات نے شرکت کی تھی اور تحقیقی مقالے پیش کیے تھے۔ زیرتبصرہ کتاب انہی مقالات و مضامین کا مجموعہ ہے، جمع و ترتیب کا کام ڈاکٹر یوسف رامپوری نے بہ خوبی انجام دیاہے، نیز انہوں نے کتاب میں دیگر اہل قلم سے لکھوا کر مزید مضامین کا اضافہ کیا ہے اور ’’اردو میں تلفظ کی اہمیت اور معنویت‘‘ کے عنوان سے ایک مفصل و مبسوط مقدمہ بھی لکھا ہے، جس میں متعلقہ موضوع پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے اور تلفظ درست کرنے کے چار مؤثر طریقوں کی طرف رہنمائی بھی کی گئی ہے۔

کتاب کے مقالات کی کل تعداد انیس ہے، سب سے پہلا مضمون ’’اردو تلفظ: چند مشاہدات‘‘ ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی کا لکھا ہوا ہے، ڈاکٹر صاحب چوں کہ سیمینار میں صدر کی حیثیت سے تشریف فرما تھے، سو انہوں نے اس مضمون میں بالاختصار سیمینار کے انعقاد کی وجہ اور اپنا تاثر پیش کیا ہے، پھر مشاہدات کی روشنی میں انہوں نے اردو میں تلفظ کے بارے میں تین اہم نکات کی طرف توجہ دلائی ہے، کتاب کے پانچ مضامین؛ پروفیسر علیم اشرف خان کا ’’اردو میں مستعمل فارسی و عربی الفاظ کا تلفظ و املا‘‘، آصف اقبال جہان آبادی کا ’’اردو تلفظ پر عربی صوتیات کے اثرات‘‘، ڈاکٹر جسیم الدین کا ’’اردو میں عربی الفاظ کا استعمال: ایک مطالعہ‘‘، فاروق اعظم قاسمی کا ’’اردو کا صوتیاتی نظام‘‘ اور ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی کا ’’اردو میں مستعمل عربی کی چند ترکیبیں اور ان کا صحیح تلفظ‘‘ ایسے ہیں، جو عام طور سے اردو زبان کے الفاظ و معانی اور تراکیب و صوتیات پر عربی زبان و ادب کے اثر پر روشنی ڈالتے اور اس سلسلے میں اردو لکھنے پڑھنے اور بولنے والوں سے جو غلطیاں سرزد ہوتی ہیں، ان کی نشان دہی کرتے نظرآتے ہیں، جبکہ تین مضامین خواجہ شبیرالزماں کا ’’اردو میں انگریزی الفاظ کی ادائیگی کا مسئلہ‘‘، نوجوان مصنف و اہلِ قلم نایاب حسن کا ’’سوشل میڈیا پر اردو تلفظ: مسائل، اسباب اور تدارک‘‘، اور شہاب الدین قاسمی کا ’’قومی میڈیا اور اردو زبان و تلفظ‘‘ اس اعتبار سے اہم ہیں کہ ان میں انفارمیشن ٹکنالوجی اور انگریزی زبان کی روزافزوں اہمیت و غلبہ کے سبب ہر لمحہ بدلتے حالات میں اردو کے سامنے تلفظ اور لفظیات کے حوالے نئے نئے چیلنجز تشفی بخش گفتگو کی گئی ہے۔ حبیب سیفی نے اپنے مقالے میں اردو زبان کی تشکیل و تعمیر میں کھڑی بولی کے اثرات کوبیان کرتے ہوئے تلفظ کے پہلو پر بات کی ہے، ڈاکٹر محمد اطہر مسعود خان نے رئیس رامپوری کی تیارکردہ اردو لغت روہیلکھنڈ کا تلفظ کے حوالے سے تحقیقی جائزہ لیا ہے اور اس کی اہمیت و افادیت کو واضح کیا ہے، ریسرچ اسکالر امیر حمزہ نے اردو لغت کی مشہور کتابوں فیلن کی ڈکشنری، فرہنگ آصفیہ، فرہنگ عامرہ اور جامع فیروزاللغات میں اردو تلفظ کی صورت حال پر گفتگو کی ہے، اور ان میں موجود کمیوں و خامیوں سے قاری کو آگاہ کیا ہے، غلام نبی کمار کا مضمون ’’کشمیر میں اردو تلفظ کی صورت حال‘‘ بھی دلچسپ اور مفید ہے، ڈاکٹر سعد مشتاق حصیری کا مضمون ’’تلفظ اور اس کے استعمالات: فضلائے یونیورسٹیز اور مدارس کے تناظر میں‘‘ فارغین مدارس اور فارغین جامعات و کالجز کے درمیان تلفظ کے فرق کو بیان کرتاہے، اس کے علاوہ عبد الباری قاسمی کا ’’عہد جدید میں تلفظ کی صورت حال‘‘، ارشاد سیانوی کا ’’اردو تلفظ: تحفظ اوربازیافت‘‘، نازیہ کا ’’حروف تہجی اور اردو تلفظ‘‘ بھی گراں قدر اور معلومات افزا مقالے ہیں، سیکڑوں الفاظ پر مشتمل دو فرہنگ بھی شامل کتاب ہے، پہلا ڈاکٹر مشتاق قادری کا ہے، اس میں بعض وہ الفاظ ہیں، جن کے غلط تلفظ سے معنی بدل جاتے ہیں، دوسرے میں اردو میں زیادہ استعمال ہونے والے عربی الفاظ کو جمع کیا گیا ہے، یہ مقالہ مرتب ڈاکٹر محمد یوسف رامپوری کا ہے۔

بہرحال مجموعی طور پر کتاب کے تمام مضامین تحقیقی ہیں اور بہ قول مرتب یہ ’’نئے اور غیر مطبوعہ مضامین کا مجموعہ‘‘ ہے، گرچہ اس سے قبل بھی تلفظ پر کئی کتابیں زیور طبع سے آراستہ ہوچکی ہیں، مگر ان میں سے زیادہ تر کئی دہائیوں سے پہلے کی صورت حال کا نقشہ کھینچتی نظر آتی ہیں، جبکہ اس کتاب میں نئے حالات اور نئے تقاضوں کو سامنے رکھ کر تلفظ پر بات کی گئی ہے۔ کتاب کی نشرواشاعت کا اہتمام مرکزی پبلی کیشنز نئی دہلی نے کیا ہے، طباعت شاندار اور ٹائٹل معیاری ہے، 462 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 300 روپے موزوں ہے۔ امید کرتا ہوں کہ کتاب عوام وخواص کے ہاں مقبول ہوگی اور تلفظ کے حوالے سے دوسرے لوگوں کو کام کرنے کی تحریک ملے گی۔