سوشل میڈیا پر غلط معلومات سے بچیں - محمد عمید فاروقی

دورِ حاضر میں سوشل میڈیا کی افادیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔گزشتہ ایک دہائی میں سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے آپس کے رابطوں کوانتہائی تیز اور آسان بنا دیا ہے ۔2017 میں دنیا بھر میں 2.4ارب سوشل میڈیا صارفین تھے ۔ایک اندازے کے مطابق 2019تک یہ تعداد 2.7ارب تک پہنچ جائے گی۔

سوشل میڈیاافراد پر کس قدر اثر انداز ہوتا ہے اس کا اندازہ یوں لگایا جاسکتاہے کہ سوشل میڈیا ہی کے ذریعے اس انقلاب کا آغاز ہوا تھا جس کے نتیجے میں مصر میں تیس سال سے بر سر اقتدار حسنی مبارک کا تختہ الٹا اور ملک میں جمہوری نظام نافذ ہوا۔یہ سوشل میڈیا کے اثرات کا ہی نتیجہ ہے کہ صارفین کی اکثریت سوشل میڈیا پر موجود کسی بھی خبر یا معلومات پر آنکھ بند کرکے یقین کر لیتی ہے۔

پاکستان میں سوشل میڈیا پر غلط معلومات اور خبروں کے پھیلنے کی کئی مثالیں موجود ہیں ۔گذشتہ دنوںسوشل میڈیا پر یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ امریکہ میں مقیم پاکستانی بزنس مین نے ڈیم فنڈ میں ایک ارب ڈالر عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔یہ خبر اتنی تیزی سے پھیلی کہ ذرائع ابلاغ نے بھی اسے نشر کرنا شروع کردیا ۔ بعد میں تاجر کی طرف سے خبر کی تردید کردی گئی۔
سوشل میڈیا پر غلط معلومات عام کرنے ایک طریقہ مشہور و معروف شخصیات کے جعلی سوشل میڈیا اکاونٹ بنانا بھی ہے۔ اس کی تازہ مثال اس وقت سامنے آئی جب وزیر اعظم کی جانب سے فرانسیسی صدر کا فون نہ سننے کے معاملے پر کسی نے فرانسیسی صدر کا جعلی ٹوئیٹر اکاونٹ بنایا اور اس پر پیشگی اطلاع کے بغیر فون کرنے پر معذرت کی ٹوئیٹ کردی۔اس ہی طرح کچھ عرصہ پہلے تک فیس بک پر ایک مشہور پاکستانی مصور اور ڈرامہ نگار کی ٹوئیٹس کی تصاویر شئیر کی جارہی تھیں جو کہ سیاسی حالات پر ان کا ردِ عمل ہوتی تھیں۔کچھ عرصے بعد انکشاف ہوا کہ وہ ٹوئیٹس جعلی ہیں اور اُن صاحب کا سرے سے کوئی ٹوئیٹر اکاونٹ ہی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ناک بند کرنے سے کیا تعفن ختم ہو جاتا ہے؟ تنویر شہزاد

یہی حال سوشل میڈیا پر موجود اردو شاعری کا بھی ہے ۔بعض اوقات اقبال اور غالب جیسے شعرا کے نام سے ایسے ناقص اشعار سوشل میڈیا کی زینت بنتے ہیں جنھیں دیکھ کر کوئی بھی صاحب ذوق شخص اپنا سر پیٹ لے۔ مثال کے طور پر یہ شعر ملاحظہ کیجیے۔
اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ
نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ

مذکورہ شعر سوشل میڈیا پرایک عرصے تک گردش کرتا رہا جس کا سبب یہ تھا کہ اس شعر کو علامہ اقبال کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ اشعار سے بہت آگے بڑھ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پرموضوع احادیث اور بعض اوقات قرآنی آیات کی غلط تشریحات و تراجم بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر افواہیں اور غلط معلومات پھیلانے یا ا ن پر عمل کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔ بھارت میں مئی 2017سے جولائی 2018 کے درمیان واٹس ایپ پر بچوں کے اغوا ہونے کی افواہیں گردش کر تی رہیں ۔اس کے نتیجے میں ایسے کئی واقعات رونما ہوئے جس میں عوام نے اجنبی افراد کو اغوا کار سمجھ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان واقعات میں تقریباََ 50افراد جاں بحق اور 100کے قریب افراد زخمی ہوئے۔

سوشل میڈیا کی افادیت کا اقرار کرتے ہوئے اس حقیقت کی جانب نشاندہی کرنا ضروری ہے کہ سوشل میڈیا معاشرے میں غلط معلومات پھیلانے کا سبب بن رہا ہے ۔صارفین کو چاہیے کہ سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط کریں ۔کسی بھی چیز پر یقین کرنے اوراسے آگے بڑھانے سے پہلے اس کے بارے میں تحقیق لازمی کریں ۔