یہ ریڈیو پاکستان ہے - امیرجان حقانی

''یہ ریڈیو پاکستان ہے" یہ الفاظ تیرہ اگست1947ء کی اخیر کو شب ہر اس دھڑکتے دل والے انسان کی سماعتوں سے ٹکرائے جواس انتظار میں بیٹھا تھا کہ وہ یہ الفاظ سنے۔ یہ ایک جملہ نہیں تھا بلکہ پاکستان اور نظریہ پاکستان سے محبت کرنے والے انسانوں کے لیے خوشی کا ایٹم بم تھا۔ یہ ایک ایسی خوشی تھی کہ اس کا تصور الفاظ اور معانی کے ذریعے بیان سے نہیں کیا جا سکتا۔ صرف محسوس کیا جاسکتا ہے۔آپ بھی سن لیجیے!
ــ’’السلام علیکم۔ پاکستان براڈکاسٹنگ سروس۔ ہم لاہور سے بول رہے ہیں، 13 اور 14 اگست سن 1947ء عیسوی کی درمیانی رات 12 بجے ہیں، طلوع صبح آزادی ۔۔۔۔ ‘‘

طلوع صبح آزادی جیسے الفاظ کی اصل معنویت وہ لوگ محسوس کرسکتے ہیں جنھوں نے غلامی کے دور کی تاریک تاریخ پڑھی ہو، جب ٹیپوسلطان کو شہید کیا گیا تو انگریز سمجھ بیٹھا تھا کہ اب ان کا ہندوستان پر مکمل قبضہ ہوگیا۔ پھر دہلی پر قبضہ کرکے انگریز نے حاکم وقت سے یہ لکھو ایا تھا: ''مخلوق اللہ کی ہے، ملک بادشاہ کا ہے اور حکم ایسٹ انڈیا کمپنی کا چلے گا"۔ اس تحریری سرنڈی کے بعد نظریہ اسلام آئینی طور پر دفن ہوچکا تھا۔ مگر شاہ عبدالعزیز دہلوی نے کمپنی بہادر کو بڑا دھچکہ دیا اور مسلم امہ میں بیداری کی لہر پیدا کی کہ تعلیمات الہی کی رو سے ملک بھی اللہ کا ہے اور حکم بھی اللہ کا چلے گا، لہذا انہوں نے انگریز کے خلاف جہاد کا فتوی صادر کیا اور حصول آزادی کی جدوجہد کا باقاعدہ منظم انداز میں آغاز کیا گیا۔ تب سے تیرہ اگست کی اخیر شب تک ہزاروں لاکھوں مرحلے آئے اور پھر طلوع صبح آزادی ممکن ہوئی۔

کتنی خوشی کی بات تھی کہ آل انڈیا ریڈیو کی شناخت سے اپنی نشریات پیش کرنے والے ادارے کے کچھ اسٹیشنوں اور ان کے نمائندوں نے پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس اور اس کے نمائندوں کے طور پر آن ائیر ہونا شروع کیا۔ مشرقی و مغربی پاکستان کے گوشہ گوشہ اور قریہ قریہ میں آزادی کی نوید سنانے والا ادارہ ریڈیو پاکستان ہی تھا۔

ریڈیو کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں اور نہ ہی ریڈیو پاکستان کی اہمیت و افادیت اور اس کے وسعت کار سے انکار کسی باخبر اور ذی شعور انسان کے لیے ممکن ہے۔ آج بھی ترقی یافتہ ممالک کے بڑے بڑے سرکاری ریڈیو سسٹم ہیں۔ ان کے صدور اور حکمران دیگر میڈیائی شعبوں کے بجائے ریڈیو سے ہی قوم کو خطاب کرتے ہیں۔ ریڈیو پاکستان نے اپنے قیام سے لے کر آج تک مملکت خداداد پاکستان کے تمام ایریاز بالخصوص قومی، بین الاقوامی، علاقائی اور مقامی نشریات میں جو کردار ادا کیا ہے، میڈیا کے تمام شعبوں نے مل کر ابھی اتنا کام نہیں کیا۔جب میرے گاؤں کی ایک پہاڑی چراگاہ سے مجھے عید مبارک کی اطلاع ملتی ہے اور میرے استفسار پر بتایا جاتا ہے کہ ہم نے ریڈیو پاکستان میں عید کے چاند نظر آنے کی خبر سنی ہے اور فضیلیتِ عید پر پروگرام بھی سنا ہے، تب سگنل والی جگہ پر آکر آپ کو کال کیا ہے۔ کیا اب بھی میرے جیسے پہاڑوں کے باسی اور تپتے صحراوں کے صحرا نشیں ریڈیوپاکستان کی اہمیت سے انکار کرسکتے ہیں۔ قطعا نہیں۔

ریڈیو پاکستان نے پاکستان بھر کی مقامی زبانوں کو زندہ رکھنے میں سب سے بنیادی، سب سے بڑا اور سب سے بہترین کردار ادا کیا ہے۔گلگت و چترال کی درجن بھر زبانیں ہوں یا ملک بھر میں موجود دور دراز علاقوں کی چھوٹی چھوٹی زبانیں، ان کو زندہ رکھنے میں تن تنہا ریڈیو پاکستان ہی تو کام کر رہا ہے۔ کیا میں یہ سوال کرسکتا ہوں کہ شینا، بلتی، وخی، کھوار، بروہی اور گوجری وغیرہ چھوٹی چھوٹی ناپید ہونے والی زبانوں میں کتنے اخبارات نکلتے ہیں؟ ڈیڑھ سو سے زائد پرائیوٹ ٹی وی چینلز میں ان زبانوں میں کتنے پروگرامات ہوتے ہیں یا خبریں نشر ہوتی ہیں؟ ان زبانوں میں کتنے ٹویٹ کیے جاتے ہیں یا پھر فیس بک میں کتنے اسٹیٹس اپ لوڈ کیے جاتے ہیں۔ صرف اور صرف یوٹیوب میں چند نغمے اور گانے ان زبانوں کے ملیں گے۔ وہ بھی یوٹیوب کی مرہون منت نہیں بلکہ موبائل سے کسی پروگرام کی ویڈیو بنائی گئی اور بس اپ لوڈ کی گئی۔ کیا ریڈیو پاکستان کے علاوہ پاکستان بھر کی تمام میڈیائی شعبوں میں ان مقامی زبانوں کو زندہ رکھنا کے لیے کچھ بھی بجٹ رکھا گیا؟ ریڈیو پاکستان واحد ادارہ ہے جو ہرمقامی زبان میں خبروں سے لے کر سیمینار اور پھر دین و دنیا کے لیے لازمی اور ضروری پروگرام نہ صرف نشر کروا رہا ہے بلکہ مقامی زبانوں کے اہل قلم، فنکار اور علما و فضلا کو بلا کر انھی زبانوں میں سب کچھ پیش کرنے کا اہتمام بھی کرتا ہے۔ کیا تب بھی ریڈیو پاکستان کی اہمیت و افادیت کو کم کیا جاسکتا ہے؟

ریڈیو پاکستان کی بیرونی نشریات کا جائزہ لیا جائے تو بھی دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔ مشرقی وسطی کے لیے ہوں یا مغربی یورپ اور برطانیہ کے لیے ہوں، یا پھر بنگلہ سروس، نیپالی سروس، مامل سروس، ہندی سروس، چینی سروس اور فارسی سروس وغیرہ، ریڈیو پاکستان ہر جگہ اپنے جھنڈے گاڑے ہوئے ہے۔ پاکستان کے خلاف کی جانے والی تمام ہرزہ سرائیوں کا جواب ریڈیو پاکستان ہی مدلل و مبرہن انداز میں دیتا ہے۔ ایمانداری سے بتایا جائے کہ پاکستان اور نظریہ پاکستان مخالف کی جانے والی ہفوات کا ریڈیو پاکستان سے بہتر کاؤنٹر ریپلائی کسی اور ادارے کے نصیب میں آیا ہے۔؟ ریڈیوپاکستان اسلام آباد کی بلڈنگ بین الاقوامی معیار کی بلڈنگ ہے جہاں بیرونی دنیا کے تعاون سے تمام ضروری لوازمات کو یقینی بنایا گیا ہے۔گمان یہی ہے کہ میڈیا کا دوسرا کوئی ادارہ ضروریات و لوازمات کی دنیا میں اتنا اپ ڈیٹ نہیں۔ باوجود اس کے کچھ ناہنجار، پاکستان براڈنگ کارپوریشن کو مٹانے یا اس کے دائرہ کار اور وسعت کو گھٹانے میں مگن ہیں۔ آپ تو سوشل میڈیا یا بڑے شہروں تک محدود ٹی وی چینلز پر اپنی سیاست بھی چمکائیں گے اور باخبر بھی رہیں گے، لیکن سیاچن کا محاذ ہو یا وزیرستان کے مخدوش علاقے، گلگت کے پہاڑ ہوں یا تربت، گوادر اور تھر کے صحرا، جہاں نہ آپ کے ٹی وی چینلز کی خبر پہنچتی ہے نہ سوشل میڈیا کی سائٹس اوپن ہوتی ہیں، اور نہ ہی کوئی اخبار پہنچتا ہے، اور نہ ہی موبائل سروس کی سہولت موجود ہوتی ہے۔ ایسے میں کروڑوں لوگوں کا باخبر رہنے، تفریح حاصل کرنے اور ایجوکیٹ ہونے کے لیے واحد ذریعہ ریڈیو پاکستان ہے۔ سوات کا سیلاب ہو، کشمیر کے زلزلے، یا پھر کسی دور دراز علاقے میں واقع ہونے والے قدرتی آفات، ریڈیوپاکستان کی ٹیم اولین فرصت میں پہنچتی ہے۔ اور خوش آئند بات یہ ہے کہ قدرتی آفات جو بڑے شہروں سے ہزاروں میل دور تپتے صحراؤں اور بلند و بالا پہاڑوں پرنازل ہوتے ہیں، پاکستان آرمی کے جوانوں کے ساتھ ہی گاڑی یا ہیلی پر ریڈیوپاکستان کی ٹیم بھی پہنچ چکی ہوتی ہے اور اولین درست اطلاعات سے قوم کو باخبرکر رہی ہوتی ہے۔

پاکستان صرف پانچ دس بڑے شہروں کا نام نہیں بلکہ قریہ قریہ اور بستی بستی اور صحراؤں سے لے کر پہاڑوں تک پھیلے گاؤں گاؤں اور پتھر پتھر کا نام ہے۔ اس نام کو کسی نہ کسی شکل میں ریڈیو نے زندہ رکھا ہوا ہے۔ عبدالخالق تاج نے کیا الہامی جملہ کہا۔ "والدین نے عبدالخالق پیدا کیا تھا، ریڈیو پاکستان نے "تاج" بنادیا"۔ یہی سچ ہے کہ پاکستان بھر میں ریڈیو پاکستان نے ہر سطح اور فیلڈ کے لوگوں کو تاج بنا دیا ہے۔ یہاں اہل علم و فضل نے علمی آبیاری کی ہے تواہل قلم نے قلم کی پرورش کی ہے۔ فنکار، اداکار، صدا کار، گلوکار اور شاعر نے اپنے جوہر دکھائے ہیں اور بام عروج کو پہنچے ہیں۔ میرے استاد محترم ڈاکٹر طفیل ہاشمی نے بتایا تھا کہ "بتیس سال مسلسل ریڈیو پاکستان سے دینی مسائل و معلوماتی پروگرام اور سینکڑوں لوگوں کے سوالات کے جواب دیے ہیں"۔ میرے ایک ایم فل اسکالر دوست نے ڈاکٹر طفیل ہاشمی سے کہا تھا کہ سر جب میں چھوٹا سا تھا، پنجاب کے کسی گاؤں میں بکریاں چراتا تھا تو ریڈیو ساتھ لے کر جاتا تھا۔ تب سے آپ کو سن رہا ہوں، حیرت کی بات یہ ہے کہ تب سے اب تک آپ کی دبنگ آواز میں فرق پیدا نہیں ہوا۔ واہ ریڈیو تجھ پر قربان۔ تب کہاں تھے دیگر سارے نشریاتی ادارے؟

یہ ذہن میں رہے کہ مجھے کسی بھی نشریاتی ادارے کی اہمیت و افادیت اور اس کے دائرہ کار اور کام سے نہ اختلاف ہے اور نہ ہی اختلاف کی گنجائش ہے، لیکن ریڈیو کی اپنی دنیا ہے۔ اور بہت عظیم دنیا ہے، اس کو باقی رکھا جائے۔ ریڈیوپاکستان گلگت کے ساتھ میرا واسطہ دس سالوں پر محیط ہے، جب میں بی اے کا طالب علم تھا۔ ریڈیوپاکستان سے سیرت مصطفی پر سیمینار ہو یا تاثراتی و معلوماتی پروگرام ہو، کیرئیر کونسلنگ پر تقریر ہو یا وادی وادی کا بیان ہو، اور مقدس ایام میں دینی موضوعات پر تقاریر ہوں، غرض بارہا آواز کی دنیا سے اپنا پیغام مقامی، علاقائی، قومی اور بین الاقوامی سطح تک پہنچانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ ریڈیو پاکستان گلگت کے ڈائریکٹرز ہوں یا پروڈیوسرز، بالخصوص جاوید باجوہ صاحب، ڈاکٹر شیر دل، واجد علی یاسینی، خورشید احمد، اسماعیل و دیگر احباب جن کی محبتوں سے گزشتہ دس سال سے محبتوں کا پیغام اپنی بساط کے مطابق شینا و اردو میں پہنچانے میں مصروف ہوں۔ واللہ مجھ جیسے لاکھوں لوگ ہیں جن کو ریڈیو نے عزت دی، نام کمانے کا موقع دیا، اپنی صلاحتیوں میں نکھار پیدا کرنے کا میدان دیا اور پھر کروڑوں سامعین ہیں جن کو بروقت ہر مقام پر درست اور صحیح معلومات ملیں۔ سچ یہ ہے کہ آج بھی لاکھوں دیندار گھرانے ٹی وی سے پرہیز کرتے ہیں۔ اور نہ ہی ان کے گھروں میں فحش رنگین اخبارات پہنچتے ہیں۔ ان کے لیے اطلاعات کا واحد ذریعے ریڈیوپاکستان ہی ہے۔ خود میرے گھر اور میری پوری فیملی کے پاس ٹی وی نہیں۔ف وری اطلاعات کے لیے ریڈیو پاکستان کا سہارا ہی لیتے ہیں۔ جس کے لیے کسی بجلی وغیرہ کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ کیا یہ معمولی بات ہے کہ ریڈیو پاکستان کی بدولت کروڑوں لوگ قرآن پاک بغیر کسی محنت اور تکلیف کے مسلسل سننے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں؟ ایسے میں دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ اللہ پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کا حامی و ناصر ہو۔

Comments

امیر جان حقانی

امیر جان حقانی

امیرجان حقانیؔ نے درس نظامی کے علاوہ کراچی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور جامعہ اردو سے ماس کمیونیکشن میں ماسٹر کیا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت کے ایم فل اسکالر ہیں۔ پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لیےپانچ سال سے مقالے اور تحریریں لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.