طلاق، خلع اور ہمارا معاشرہ - بشارت حمید

نکاح اور شادی ہر انسان کی زندگی کا بہت اہم سنگ میل ہوتا ہے، جب وہ اپنے ہم سفر کا انتخاب کرکے اسے باقی زندگی کےلیے اپنا شریک حیات بناتا ہے۔ دو مختلف ماحول میں پیدا ہو کر جوان ہونے والے مرد و عورت میاں بیوی کے رشتے میں بندھ جانے کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بسر کرنا شروع کرتے ہیں تو بہت سے معاملات میں ان کی سوچ ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ ایک کے نزدیک کوئی کام بہت اہم ہوتا ہے تو دوسرے کے نزدیک وہ ایک معمولی بات ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں اس طرح کے چھوٹے چھوٹے اختلافات پر کمپرومائز کرنا سیکھ لیں تو زندگی کی گاڑی امن و سکون سے رواں ہو جاتی ہے، لیکن اگر چھوٹے معاملات کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا جائے اور ہمیشہ دوسرے سے ہی توقع رکھی جائے کہ وہ میری بات اور میری رائے ہی کو درست مان کر قبول کرے تو پھر معاملات میں بگاڑ آنا شروع ہو جاتا ہے۔

روٹین کی زندگی میں اگر ہم بس ٹرین یا جہاز کا سفر کرتے ہیں اور ساتھ والی سیٹ پر کوئی ایسا شخص بیٹھ جائے جس کی حرکات و سکنات ہمیں ناگوار گزر رہی ہوں تو سفر کے چند گھنٹے وہاں گزارنا مشکل ہو جاتا ہے اور کہاں پوری زندگی ایک ایسے شخص کے ساتھ گزارنا جس کی عادات یا معاملات انسان کو پسند ہی نہ ہوں، اپنی زندگی کو دنیا میں ہی جہنم بنانے والی بات ہے۔

ہم کیونکہ ہندو تہذیب کا ماضی رکھتے ہیں تو یہاں بیٹیوں کی شادی کرتے وقت ان کی رائے لینا ضروری ہی نہیں سمجھا جاتا، اگر رائے لی بھی جاتی ہے تو غیر محسوس دباؤ کے تحت ہر صورت ہاں سننے کے لیے ہی لی جاتی ہے۔ کم ہی والدین ایسے ہوتے ہیں جو اپنے بچوں کی آزاد مرضی کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ ٹھیک ہے کہ بچوں کی شادی کرنا والدین کی ذمہ داری ہے لیکن جس نے کسی بندے یا بندی کے ساتھ پوری زندگی کے لیے منسلک ہونا ہے، اس کی مرضی بھی تو معلوم کر لینی چاہیے۔ بے جوڑ رشتے قائم کرکے پھر بیٹی کو تلقین کرنا کہ اب اس گھر سے تمہارا جنازہ ہی اٹھے یہ کہاں کا انصاف اور کہاں کی عقلمندی ہے۔ اگر بیٹی کی زندگی اس کے شوہر نے جہنم بنا رکھی ہے تو وہ کیوں ساری عمر یہ جبر سہتی رہے۔ کیوں نہ خلع لے کر کسی معقول بندے کے ساتھ باقی زندگی بسر کرنے کا سوچے۔

یہ بھی پڑھیں:   خوشگوار ازدواجی زندگی کے دعویدار - محمودفیاض

کس دین کا یہ حکم ہے کہ ہر صورت اسی بندے کے ساتھ ساری زندگی رہنا ہے جس کی عادات و اطوار عورت کو پسند نہیں ہیں، جو عورت کو پاوں کی جوتی سمجھتا ہے، عورت کو اپنا غلام خیال کرتا ہے، اس پر جبر اور تشدد کرتا ہے، اس کے حقوق پورے نہیں کرتا۔ اس کو یہ سزا کس لیے دی جائے کہ وہ ہر حال میں اسی حیوان نما انسان کے ساتھ ہی گزارا کرے۔

اسلام نے نباہ نہ ہونے کی صورت میں طلاق اور خلع کا راستہ کھلا رکھا ہے۔ رشتہ طے کرنے سے پہلے ہر ممکن کوشش کی جائے کہ ہم کفو اور ہم پلہ خاندان ہو، دیندار لوگ ہوں، حریص اور لالچی نہ ہوں، لیکن اگر شادی کے بعد نباہ کرنا اور مزید آگے چلنا مشکل لگ رہا ہو، تو علیحدگی اختیار کر لی جائے، بجائے اس کے کہ پھر زندگی کی گاڑی کو چلانے کی بجائے گھسیٹنا پڑ جائے اور سکون ملنے کے بجائے پریشانیاں زیادہ ہو جائیں۔

اس معاشرے میں رہتے ہوئے ہم لوگ بھی طلاق یا خلع یافتہ عورت کو ہی قصور وار ٹھہراتے ہیں کہ اس نے ہی کوئی مسئلہ کیا ہوگا، جب ہی علیحدہ ہوئی ہے۔ یہ سوچ ہرگز درست نہیں ہے۔ ہر معاملے میں مرد ہی معصوم عن الخطا نہیں ہوتا اور عورت ہی ہر جگہ قصوروار نہیں ہوتی۔ مزید برآں طلاق اور خلع یافتہ عورت کو یہاں لوگ داشتہ اور گرل فرینڈ بنانا تو جائز سمجھتے ہیں، لیکن اس سے نکاح کرکے اسے تحفظ دینا اس کی پاکدامنی کا سامان مہیا کرنا بہت بڑا عیب سمجھا جاتا ہے۔ کوئی کنوارا نوجوان کسی ایسی لڑکی کو اپنانے کے لیے تیار نہیں ہوتا جس کی علحیدگی ہو چکی ہو، نہ ہی اس کے والدین اسے بہو بنانے پر راضی ہوتے ہیں۔ ہاں اگر وہ گرل فرینڈ بننے پر راضی ہو تو پھر کسی کو کوئی مسئلہ نہیں لگتا۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان میں جعلی شادیاں 51 چینی باشندے

اب اس کلچر کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی شادی شدہ مرد صاحب حیثیت ہے تو وہ بھی اس طرح کی خواتین کے ساتھ دوسرا نکاح کرکے ان کو تحفظ دینے میں آگے بڑھے۔ طلاق لینا بذات خود کوئی جرم نہیں ہے۔ جب لائف پارٹنر ایسا بندہ ہو جس کے ساتھ رہنا مشکل ہو تو اس سے الگ ہو جانے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ البتہ طلاق یا خلع کو کھیل تماشا نہیں بنا لینا چاہیے کہ معمولی سی بات پر نوبت علیحدگی تک پہنچا دی جائے، اس رجحان کو پسندیدہ قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن اگر بحالت مجبوری اس آپشن کو استعمال کرنا پڑ ہی جائے، تو اللہ سے خیر کی دعا اور یہ امید کرنی چاہیے کہ وہ اس کا بہترین متبادل عطا فرمائے گا۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.