قومی کرکٹ ٹیم کی مایوس کْن کارکردگی - امجد طفیل بھٹی

ہماری قوم کی خوبی سمجھیں یا پھر خامی جس چیز سے بھی لگاؤ رکھتی ہے اسکی پھر کوئی انتہا نہیں ہوتی ، ہمارے ملک کا قومی کھیل تو ہاکی ہے مگر ساری قوم کرکٹ سے وابستہ ہے ، کوئی کھیلنے کا شوقین ہے تو کوئی صرف دیکھنے کا شوقین ہے۔ بچوں سے لے کر بوڑھوں تک ، عورتوں سے لے کر نوجوانوں تک سب ہی کسی نہ کسی طرح کرکٹ کے کھیل اور کرکٹ کے کھلاڑیوں سے اْنسیت رکھتے ہیں مگر یہ اْنسیت بھی کارکردگی کی مرہون منت ہے ، کارکردگی اچھی ہوتی ہے تو ملک بھر جشن کا اور عید کا سا سماں ہوتا ہے جبکہ قومی کرکٹ ٹیم کی بْری کارکردگی مایوسی اور غم و غصہ کا باعث بنتی ہے۔ کچھ لوگ دل برداشتہ ہوکر کچھ عرصہ کے لیے کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں ، ہاں بعد میں ایک اچھی جیت پھر سے انکو واپس کھینچ لاتی ہے جبکہ کچھ لوگ کھلاڑیوں کو بْرا بھلا کہہ کر اپنا غم غلط کرتے ہیں ، کچھ لوگ سلیکشن کمیٹی کی سفارشی کھلاڑیوں پر مہربانیوں کو ناکامی کا سبب گردانتے ہیں تو کچھ لوگ حکومت کی پالیسیوں کو ہی کرکٹ کی تباہی کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ بحرحال ناکامی کی وجوہات جو بھی ہوں ذمہ داری قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی ناقص کاکردگی پر ہی عائد ہوتی ہے۔

حالیہ ایشیا کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی اسی مایوس کْن کارکردگی نے عوام کو پھر سے جذباتی کردیا ہے ، خاص طور پر بھارت سے مسلسل دو بدترین شکستوں اور بنگلہ دیش سے ہار نے تو پوری کی پوری ٹیم ماسوائے ایک دو کھلاڑیوں کے باقی سب کی سلیکشن پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے ، سارے ٹورنمنٹ میں جو دو فتوحات پاکستان کے حصے میں آئیں ایک ہانگ کانگ اور دوسری افغانستان کے خلاف تھی جبکہ افغانستان کے خلاف بھی جیت جس طرح قوم کی دعاؤں سے ممکن ہوئی وہ سب کے سامنے ہے۔ یقیناً اس مایوس کْن صورتحال کی گونج اقتدار کے ایوانوں تک بھی پہچی ہوگی جہاں ایک سابقہ کرکٹر اور کپتان ملک کے اعلیٰ ترین انتظامی عہدے پر اپنے فرائض انجام دے رہا ہے ، وزیراعظم عمران خان کی بطور کرکٹر پاکستان کے لیے خدمات کسی سے ڈھکی چھْپی نہیں ہیں بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ پاکستانی قوم کو کرکٹ جیسے کھیل سے لگاؤ کی وجہ بھی خود عمران خان ہی ہیں جو کہ 1992 کا ورلڈ کپ جیت کر ملک میں لے کر آئے اور جہاں سے ہماری قومی کرکٹ کی ایک نئی تاریخ شروع ہوئی یعنی کہ پاکستان کو بھی دنیائے کرکٹ میں اعلیٰ مقام حاصل ہوا۔ اور اب اگر عمران خان کے دورِ اقتدار میں بھی قومی کرکٹ ٹیم کی کاکردگی بدترین ہوجائے تو پھر کبھی بھی ٹیم سے جیت کی توقع نہیں رکھنی چاہئیے۔ ہاں اس وقت جب عمران خان ملک پر حکومت کررہے ہیں ملک کے مسائل کرکٹ سے کہیں زیادہ بڑے ہیں ، ملک شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے ، خارجہ پالیسی دوراہے پر کھڑی ہے ، لیکن اگر پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی قوم کی امیدوں کے مطابق ہو تو یقیناً ہماری قوم کا مورال بلند ہوگا اور پھر مایوسی کا بھی خاتمہ ہوگا کیونکہ جب ہر طرف سے مایوسی نظر آتی ہے تو نتیجتاًساری کی ساری تنقید حکومتی پالیسیوں پر ہی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سقوط ڈھاکہ سے سبق حاصل نہ کیا - موسیٰ غنی

اس وقت وزیراعظم عمران خان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے قیمتی اور مصروف وقت میں سے کم از کم اتنا وقت نکالیں کہ چند ایک مخلص اور نامور سابقہ کرکٹرز اور انتظامیہ کے افراد کی ایک میٹنگ بلائیں اور ایک ٹاسک دورس بنائیں جو کہ قومی کرکٹ ٹیم کی ناقص کاکردگی کی وجوہات کی جانچ پڑتال کرے اور مستقبل کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار کرے کیونکہ اگلے سال عالمی کرکٹ کپ کے سلسلے میں ابھی تک کچھ تیاری نہیں ہے ، نہ تو کپتان کی اپنی پوزیشن مضبوط ہے اور نہ ہی کوچ اور سلیکشن کمیٹی کا کوئی مستقبل نظر آ رہا ہے ، عمران خان چونکہ شروع سے ہی ڈومیسٹک کرکٹ پر کرکٹ بورڈ کی عدم توجہی کا گلہ کرتے چلے آئے ہیں اس لیے اب تمام تر اختیارات اور وسائل کے ہوتے ہوئے بھی اگر کرکٹ کا بنیادی ڈھانچہ ٹھیک نہیں ہوتا تو پھر شاید پاکستان کی قومی کرکٹ کا حال بھی قومی کھیل ہاکی جیسا ہی ہوگا کہ آج کسی ایک قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑی کو بھی کوئی نہیں جانتا۔

ایک PSL کے شروع ہونے سے کئی نوجوان اچھے کھلاڑی منظر عام پر آئے ہیں مگر قومی ٹیم تک رسائی کا طریقہ کار یقینا? ابھی تک پیچیدہ ہی ہے کیونکہ قومی ٹیم میں شامل ہونے کے لیے کارکردگی سے زیادہ شاید تعلقات اور جان پہچان ہی کام آتی ہے کیونکہ جو کھلاڑی اچھا پرفارم کررہے ہوتے ہیں وہ نظر نہیں آتے اور جو نظر آرہے ہوتے ہیں وہ پرفارم نہیں کرتے۔ ساری دنیا میں کرکٹ کو پیشہ سمجھا جاتا ہے یعنی کہ تمام کھلاڑی پروفیشنل ہوتے ہے جبکہ پاکستان میں کرکٹر حادثاتی طور پر کھلاڑی بنتے ہیں جنکی یا تو تعلیم ادھوری ہوتی ہے یا پھر کرکٹ کی تربیت ادھوری ہوتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان پر اس وقت ساری قوم کی نظریں ہیں کہ شاید اب کی بار ہماری قومی ٹیم میں میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے ہونگے کیونکہ عمران خان نے ہمیشہ سے سفارش ، رشوت اور کرپشن کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ سلیکشن کمیٹی کو آزاد اور بااختیار بنانے کا مقصد یہ ہر گز نہیں کہ سلیکشن کمیٹی کے اراکین اپنے اپنے بھانجے بھتیجوں کو نوازتے رہیں بلکہ جو نوجوان کرکٹر معیار پر پورا اترے اسے ہی میدان میں اتارا جائے ، قومی ٹیم کا کوچ مْلکی ہو یا غیر ملکی تمام کھلاڑیوں کے ساتھ یکساں رویہ اختیار کرے اور کھلاڑی بھی کوچ کی ہدایات پر عمل کریں ناں کہ ٹیم کے اندر دھڑا بندی اور سیاست کو پروان چڑھائیں تب جا کر کھیل میں بہتری کی توقع کی جاسکتی ہے۔