ذِلّت شاتمینِ رسول کا ازلی مُقدر ہے - سید اسرار احمد بخاری

روضہ رسول پر حاضری کے لیے بابُ السّلام سے داخل ہوتے ہی چال میں نرمی اور عاجزی اپنے آپ طاری ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ لوگوں کی زبانوں پر دھیمی دھیمی آواز میں درود شریف شہد کی مکھیوں کی سی بھنبھناھٹ کی مانند ماحول کا احاطہ کیے رکھتا ہے۔

جس طرح کعبےکا طواف چوبیس گھنٹےجاری رہتا ہے اور اس میں ایک لمحے کا بھی انقطاع نہیں ہوتا، بعینہ روضہ رسول پر بھی چوبیس گھنٹے بلا تعطُّل سلام اور درود پیش کرنےوالوں کا تانتہ بندھا رہتا ہے۔ کیا عربی کیا عجمی، کیا گورے اور کیا کالے، ایشیائی ہوں یا یورپی، افریقی ہوں یا روسی، دنیا کے ہر خطے، ہر رنگ و نسل کے لوگ قطار در قطار مسلسل روضے کے سامنے سے گزرتے رہتے ہیں، اور آنسوؤں کےساتھ نبی علیہ السلام کے حضور درود و سلام پیش کرتے رہتے ہیں۔ اس ادب اور محبت کے ماپنے کا کوئی پیمانہ نہیں کہ سنہری جالیوں کےقریب پہنچتے پہنچتےفرط جذبات سے آنکھیں اشک بار اور بارگاہ رسالت کی عظمت کےخیال سے قدم لڑکھڑانے لگتے ہیں۔

یہ عالی شان عظمت اور یہ بےمثل محبت اس ساقی کوثر کے نام ہے، جن کی اولاد نرینہ نہ ہونے کے سبب ان کے بارے میں مکّے کے ایک مُشرک سردار اوس بن وائل نے طعن کیا تھا کہ آپ بے نام و نشان اور معاذ اللہ 'ابتر' (یعنی جس کی نسل ختم ہوجائے) رہیں گے۔ یوں تو معاندین کی ہجوگوئی کےجواب میں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اشعار کی صورت جواب دیا کرتے تھے، لیکن اس بار اس مشرک سردار کے طعن کےجواب میں خود اللہ رب العزت نے سورۃ الکوثر نازل فرمائی اور آپ علیہ السلام کو "الکوثر" یعنی خیر کثیر عطا فرمانے کا اعلان کیا، اور فرمایا کہ بلاشبہ آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان رہےگا۔

حضرت ابن عباس کے ایک شاگرد نے وضاحت کی کہ خیِر کثیر سے مراد نبوت اور قرآن ہیں، یعنی آپ کو ایک صلبی وارث کے بجائے کروڑوں کی تعدادمیں دینی اور نظریاتی وارث حاصل ہوں گے۔ آپ کا لایا ہو دین دنیا کے طول و عرض میں پھیلے ہر رنگ و نسل کے لوگوں کو متاثر کرے گا اور جوق در جوق لوگ آپ کے دین میں داخل ہو کر آپ کے وفادار ساتھی بن جائیں گے۔ حتّٰی کہ مخالفین کی اپنی اولادیں بھی آپ کا کلمہ پڑھنےمیں فخر محسوس کریں گی۔ ایسی صورت میں "ابتر" کون ہوا، مخالفین یا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم؟

چشم فلک یہ نظارہ روز دیکھتی ہے کہ کس طرح آپ علیہ السلام کے کروڑوں پیروکار اور چاہنےوالے والہانہ آپ کے روضہ اقدس پر حاضر ہو کر آپ پر درود و سلام پڑھتے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی حصے سے کوئی بھی بدنصیب شاتمِ رسول جب بھی اپنی ناپاک زبان یا قلم کو نبی عربی علیہ السلام کے خلاف لکھنے کے لیے اٹھاتا ہے، دنیا کے طول و عرض میں مساجد سے بلند ہونے والی اشھد ان محمد رسول اللہ کی پرکیف صدائیں اس کی فی الفور تردید کر دیتی ہیں۔

معاندین کی کوئی سی قسم ہو یا مخالفین کا کوئی سا بھی گروہ، قیامت تک کے لیے ان کی ہجو اور سب و شتم کے منہ توڑ جواب کا ایسا شاندار اور آفاقی اہتمام جس ہستی کےحصے میں آیا، وہ پیغمبر عالی مقام جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات ہے۔ گویا ہر پتی اور ہر پھول سے ایک ہی اعلان نشر ہو رہا ہے کہ اے معاندین و مخالفینِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، ذِلّت تمہارا ازلی اور ابدی مقدر ہے، بےشک تمھارا ہی نام "ابتر" ہے، اور تم ہی ہمیشہ کے لیے بےنام و بے نشان رہوگے۔