سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی چند اصطلاحات - عادل لطیف

سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی چند اصطلاحات جن پر ان کے طریقے کی بنیاد ہے۔
ہوش دردم، نظر برقدم، سفردروطن، خلوت درانجمن، یادکرد، بازگشت، نگہداشت، یادداشت۔
یہ آٹھ کلمات تو حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی رحمۃاللہ عليہ سے منقول ہیں۔ ان کے بعد تین اصطلاحیں وقوف زمانی، وقوف عددی، وقوف قلبی، حضرت خواجہ نقشبند بخاری رحمۃ اللہ عليہ سےمروی ہیں۔

ہوش دردم:
اس سے مراد یہ ہے کہ سالک ہر سانس کے ساتھ بیداری اور ہوشیاری رکھے کہ ذکرلسانی اور ذکرقلبی حضور دل سے ہو، غفلت سے نہ ہو، ہمیشہ بیدار اور جستجو میں لگا رہے کہ اس کا سانس خدا کی یاد میں گذرا یا غفلت میں۔ مبتدی کے لیے اس کی پابندی نہایت ضروری اور ازحد مفید ہے۔ حضرت خواجہ نقشبند رحمۃاللہ عليہ فرماتے ہیں کہ سلسلہ نقشبندیہ کا دارومدار ہی دم پر ہے، کوئی سانس اندر آنے اور باہر جانے اور ان کے بیچ کے وقفے میں اللہ کی یاد کے بغیر نہ گذرے، اس کو پاس انفاس بھی کہتے ہیں۔

یادکر:
اس سے مراد ذکر کرنا ہے، خواہ ذکر لسانی ہو یا قلبی نفی، اثبات ہو یا اسم ذات، سالک کو چاہیے کہ جس طرح وہ اپنے مرشد و مربی روحانی سے ذکر کی تعلیم و تلقین حاصل کرے، ہر وقت اس کی تکرار میں بلاناغہ دل کی محبت کے ساتھ بیدار اور ہوشیار رہے، یہاں تک کہ حق جل شانہ کی حضوری حاصل ہو جائے۔

نگہداشت:
اس کا مطلب یہ ہے کہ سالک نفس کی باتوں اور دل کے وسوسوں کو اپنے آپ سے دور رکھے اور وساوس کو دل میں جگہ نہ پکڑنے دے، اور اس کا بہترین اور مجرب علاج یہ ہے کہ اس وسوسے سے بےخیال اور فورا ذکراللہ میں مشغول ہو جائے۔

بازگشت:
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ذاکر خیال و تصور سے نفی اثبات (کلمہ طیبہ) کو طاق عدد کی رعایت کرتے ہوئے چند بار کہے تو اس کے بعد دل کی زبان سے مناجات کرے کہ یااللہ میرا مقصود تو ہی ہے اور تیری رضا ہے، مجھ کو اپنی محبت اور معرفت عطا فرما، اور کمال عاجزی اور انکساری سے مناجات کرے، تاکہ اگر غرور و فخر اور لذت میں گرفتار ہونے کا وسوسہ آئے تو اس دعا کی برکت سے نکل جائے۔

یادداشت:
اس سے مراد یہ ہے کہ توجہ صرف (جو الفاظ وخیالات سے خالی ہو) واجب الوجود یعنی ذات حق کی طرف لگائے رکھے تاکہ دوام آگاہی حاصل ہو جائے۔ حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ یادداشت سے آگے کوئی مرتبہ ہے ہی نہیں۔

سفردروطن:
اس سے مراد باطنی روحی سفر ہے یعنی سالک صفات خسیسہ و رذیلہ مثلا حسد، تکبر، غیبت، ریا وغیرہ سے صفات ملکیہ فاضلہ مثلا صبر، شکر، خوف، رجا وغیرہ کی طرف تبدیلی اور ترقی حاصل کرتا ہے، اس طرح سے کہ مراقبہ وتصور اور سنت پر عمل کرنے سے صفات بشریہ خسیسہ کو فنا کر کے صفات ملکیہ فاضلہ کی طرف ترقی کرتا اور مقامات سیر میں سفر کرنے لگتا ہے۔

خلوت درانجمن: اور یہ سفر در وطن پر متفرع اور مترتب ہے یعنی جب سفر در وطن حاصل ہو جائے تو خلوت در انجمن اس کے ضمن میں میسر ہو جائے گی، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ سالک کا دل اللہ کی یاد میں ایسا مشغول ہو کہ پڑھنے، کلام کرنے، کھانے پینے، چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے، سونے جاگنے، میں ذاکر رہے اور ذکر کا خیال ایسا پختہ ہو جائے کہ خواہ کیسی ہی مجلس اور ہجوم ہو مگر دل اللہ کی یاد میں مشغول رہے۔

نظربرقدم:
اس سے مراد یہ ہے کہ سالک پر واجب ہے کہ اپنے چلنے پھرنے کے وقت قدم کی پشت کے علاوہ کسی چیز پر نظر نہ ڈالے تاکہ نامحرم سے نظر کی حفاظت ہو سکے اور یہ کہ دوسری چیزوں کی طرف مشغول ہونے سے محفوظ رہے، کیونکہ مختلف نفوس اور متفرق محسوسات کی طرف لگ جانا سالک کی حالت کو بگاڑ دیتا ہے، اور دل کی جمعیت کو پریشان کرتا ہے، اور جس کی وہ طلب میں ہے اس سے روکتا ہے، اس لیے ہمارے دادا پیر حضرت خواجہ غریب نواز محمد فضل علی قریشی قدس سرہ العزیز فرمایا کرتے تھے کہ ہر وقت نظربرقدم رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم یعنی آپ کی شریعت وسنت مقدسہ پر ہو کہ تمام حرکات وسکنات واخلاق عین سنت نبویہ صلى اللہ عليہ وسلم کی میزان پر صحیح اتریں۔

وقوف زمانی:
اس سے مراد یہ ہے کہ سالک ہر وقت اپنے حال سے واقف رہے یعنی ہر آن ہر گھڑی یہ دھیان رکھے کہ غفلت تو نہیں آئی اور غفلت کی صورت میں استغفار کرنا اور آئندہ غفلت کے چھوڑنے پر ہمت باندھنی چاہیے۔

وقوف عددی:
اس سے مراد یہ ہے کہ سالک نفی اثبات میں طاق عدد کی رعایت رکھے۔

وقوف قلبی:
اس کا مطلب یہ ہے کہ سالک ہر وقت قلب صنوبری کی طرف جو بائیں پستان کے نیچے پہلو کی طرف دو انگل کے فاصلے پر ہے، اللہ کی یاد کا دھیان رکھے اور بیرونی خطرات کو دل میں جگہ مت دے، تاکہ آہستہ آہستہ توجہ صرف ذات الہی پر منحصر ہو جائے۔ حضرت خواجہ نقشبند رحمۃاللہ عليہ نے حبس دم کو ذکر میں لازم نہیں فرمایا مگر وقوف قلبی کو ذکر میں لازم فرمایا ہے۔ امام ربانی حضرت مجددالف ثانى رحمۃاللہ عليہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کو ذکر قلبی اثر نہ کرے، اس کو ذکر سے روک کر وقوف قلبی کا حکم کرنا چاہیے.