اتنی جلدی بھی کیا ہے یار - ارشد علی خان

تم جیتو یا ہارو۔ ہمیں تم سے پیار ہے۔ یہ جملہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے حوصلے بلند رکھنے کے لیے بولا گیا تھا جو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا اور اپنی ٹیم سے پیار کرنے والے ہر بندے نے اس کواپنی فیس بک اور ٹوئٹر پر پوسٹ کیا، تاہم قومی کرکٹ ٹیم کی مسلسل خراب کارکردگی نے آخرکار کسی من چلے، یہاں من جلے لکھنا زیادہ بہتر ہوتا، کادماغ خراب کر دیا اور اس نے سوشل میڈیا پر اپنی بھڑاس یہ کہہ کر نکالی کہ تم جیتو یا ہارو، ہمیں تم سے پیار ہے، مگرچولیں تو نہ مارو ۔

یہی حال آج کل عمرانی حکومت کا ہے جسے سب کچھ ٹھیک کرنے کی انتہائی جلدی ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو لکھے گئے خط کی خبر اہل پاکستان کو بھارتی میڈیا کے ذریعے ملتی ہے کیونکہ اپنی میڈیا کو بریف کرنے کے لیے وقت جو نہیں، یا پھر قومی میڈیا کے ذریعے اپنی عوام کو باخبر رکھنا اپنی توہین سمجھا جا رہاہے۔ وزیراعظم عمران خان کے بھارتی ہم منصب کو خط لکھنے اور دہشت گردی سمیت تمام حل طلب مسائل پر بات چیت کرنے کی خواہش کی بریکنگ نیوز انڈین میڈیا پر چلنے کے بعد دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل کو یاد آیا کہ اس حوالے سے بھی ایک ٹویٹ کر دینی چاہیے تاکہ ملکی عوام باخبر ہوسکے۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں بھارتی میڈیا پر پاکستانی وزیراعظم کے نریندر مودی کو خط لکھنے کی خبروں کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ عمران خان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے مبارکباد کے خط کے جواب میں لکھے گئے خط میں مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا ہے، اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دونوں ممالک کے وزارئے خارجہ کی ملاقات پر زور دیا ہے۔

ڈاکٹر فیصل کی تصدیق کے بعد بھارتی وزارت خارجہ نے بھی بیان جاری کیا جس میں سشما سوراج کی پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کی تصدیق کی گئی، تاہم خبر میں ملاقات کے ایجنڈے یا مذاکرات کے حوالے سے خاموشی اختیار کی گئی۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ مذاکرات کے حوالے سے بھارتیوں کا رویہ انتہائی سرد ہوتا ہے، لیکن پھر بھی ہماری حکومت اور دفتر خارجہ نے اس ملاقات سے مذاکرات کی بحالی کی توقع رکھی، جبکہ سوشل میڈیا پر بیٹھی ہوئی انصافی فوج نے تو اس ملاقات سے مسئلہ کشمیر سمیت دیگر متنازعہ مسئلوں کے حل تک کی امیدیں لگا لیں۔

بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے دونوں وزارء خارجہ کی ملاقات کی منسوخی کے بیان نے مذاکرات بحالی کے غبارے سے ہوا نکال دی۔ بیان کے مطابق ملاقات کی منسوخی کی وجہ بھارتی فوجیوں کے قتل میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے عناصر کا ملوث ہونا ہے۔ بھارتی بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات او ر دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ پاکستان ایک جانب مذاکرات کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب برہان وانی جیسے دہشت گردوں کے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کرتا ہے، جو ایک دہشت گرد کو ہیرو بنا کر پیش کرنے کے مترادف ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں وزیراعظم عمران خان کے لئے بھی نہایت عامیانہ الفاظ استعمال کئے گئے ۔ جس کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے ٹویٹ کیا کہ بھارت کا منفی اور متکبرانہ رویہ باعث افسوس ہے ۔بھارتی وزیراعظم کا نام لئے بغیر انہوں نے کہا کہ پوری زندگی میں ادنی لوگوں کو بڑے عہدوں پر قابض ہوتے دیکھا ہے، یہ لوگ بصارت سے عاری اور دور اندیشی سے یکسر دور ہوتے ہیں۔ اگر چہ پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کے لیے یہ ڈاک ٹکٹ 24 جولائی کو جاری کئے گئے تاہم ملاقات منسوخی کے لیے بھارتی وزارت خارجہ کو برہان وانی کے ڈاک ٹکٹ اب یاد آئے ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ملاقات منسوخی کے بعد بھارتی آرمی چیف جنرل بپن روات بھی جاگ اٹھے ہیں ۔انہوں نے پاکستان کو کارروائی کے لئے تیار رہنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بھی وہی درد محسوس کرنے کے لئے تیار رہے جو ہمارے فوجیوں نے سہا ہے۔

بھارتی آرمی چیف کی دھمکیوں کا جواب ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور اور وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنے اپنے انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان امن کا خواہش مند ضرور ہے، تاہم امن کی اس خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ جارحیت کے جواب کے لیے پاکستانی فوج ہمہ وقت تیار اور چوکس ہے ۔ وزیراطلاعات نے اپنے بیان میں بڑی اچھی بات کہی ہے کہ دنیا پاکستان کو پارٹ آف دی پرابلم سمجھ رہی تھی، مگر اب پاکستان پارٹ آف دی سلوشن ہے۔

وزارت عظمی کے منصب پر براجمان ہونے کے بعد عمران خان کو معلوم ہوا ہوگا کہ ملک چلانا اور اپوذیشن کرنا دوبہت مختلف باتیں ہیں۔ یہی عمران خان تھے جنہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ پاکستان پر سب سے زیادہ تنقید کی تھی۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف اور نریندر مودی کے رازدارنہ انداز کو بھی ہدف تنقید بنایا تھا، تاہم خود وزیراعظم بننے کے بعد مذاکرات کی بحالی کے لیے خط لکھ دیا جس کی خبر بھی پاکستانی عوام کو بھارتی میڈیا کے ذریعے ملی۔
میرے خیال میں جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہوجاتا تب تک وہ کسی بھی صورت اور کسی بھی فورم پر پاکستان سے مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوگا اور اقوام متحدہ جیسے بڑے فورم پر تو بالکل نہیں، چاہے وزیراعظم میاں نواز شریف ہوں یا عمران خان ،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے اجتناب کی ایک وجہ آئندہ سال مئی یا اپریل میں ہونے والے انتخابات بھی ہیں۔ بی جے پی اور نریندر مودی نے پچھلے انتخابات مسلم دشمن پالیسی اپنا کر ہی جیتے ہیں اور اب نریندر مودی کی نظر یں آئندہ الیکشن پر مرکوز ہیں۔ اگر آج تصفیہ طلب مسائل پر پاکستان سے مذاکرات شروع کئے جائیں تو اگلے انتخاب میں بھارتی عوام کے سامنے کس منہ سے جائیں گے۔ مودی کے دور حکومت میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویداروں نے بھارتی مسلمانوں پر ظلم وستم کے پچھلے تمام ریکارڈ پیچھے چھوڑ دئیے ہیں اور یہی ہتھیار نریندرمودی اگلے الیکشن میں بھی استعمال کرے گا۔