خبیب بمقابلہ کونر میک گریگر - احسن سرفراز

مکس مارشل آرٹس MMA فائٹنگ سپورٹس کی وہ قسم ہے جس میں باکسنگ، کراٹے، جوڈو اور ریسلنگ کی ٹیکنیک کو ایک ہی سپورٹ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ دنیا میں اس وقت MMA ایک انتہائی مقبول کھیل بن چکا ہے، اور امریکن کمپنی "الٹی میٹ فائٹنگ چیمپئن شپ UFC" کے عنوان سے اس کے مقابلے کروانے کے لیے انتہائی معروف ہے۔ اپنی خونریزی اور انتہائی تیز سپیڈ سے ہونے والے UFC کے مقابلے شائقین کو اپنے سحر میں مبتلا کر لیتے ہیں۔ یو ایف سی میں مقابلے مختلف وزن کلاس کے تحت منعقد کروائے جاتے ہیں، جن میں فیدر ویٹ سے لے کر اوپر ہیوی ویٹ تک مختلف ویٹ کلاسز ہیں۔ اسی میں لائٹ ویٹ مقابلوں میں 145 تا 155 پاؤنڈ یعنی 66 تا 70 کلوگرام ویٹ کلاس کے کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔ اسی ویٹ کلاس میں چھ اکتوبر کو امریکہ کے شہر لاس ویگاس میں ایک انتہائی اہم مقابلہ منعقد ہونے جا رہا ہے جس میں مستقبل کے لائٹ ویٹ عالمی چیمپئن کا تعین ہوگا۔

لائٹ ویٹ کلاس کے موجودہ ورلڈ چیمپئن ایگل کے نام سے مشہور تیس سالہ خبیب نرماگیدوو ہیں جو اس کھیل کے پہلے مسلمان ورلڈ چیمپئن ہیں، ان کا تعلق امام شامل کی سرزمین داغستان سے ہے، جو روس کے زیرانتظام ایک ایسی مسلم ریاست ہے جو لمبے عرصہ سے روسی استبداد کے مقابلے میں جہاد کرتی چلی آئی ہے۔ خبیب بہادروں کی اس سرزمین کے سپوت ہیں جہاں بچپن ہی سے بچوں کو کشتی اور کراٹے سے خاص شغف ہوتا ہے، خبیب کو بھی مارشل آرٹ سے محبت اپنے والد ہی سے ورثہ میں ملی، جنہوں نے ابتداء ہی سے خود اسے مارشل آرٹ کی تربیت دینا شروع کی۔ خبیب اپنے بچپن میں سدھائے ہوئے ریچھ کے ساتھ کشتی کی ٹریننگ کے لیے زور آزمائی کیا کرتے تھے۔

آہستہ آہستہ خبیب روس بھر میں مکس مارشل آرٹ کے حوالے سے مشہور ہو گئے، ایک کے بعد ایک مضبوط حریف کو پچھاڑ کر خبیب کی مقبولیت روس سے باہر بین الاقوامی سطح پر UFC تک بھی پہنچ گئی اور انھوں نے خبیب کے ساتھ اپنے ہاں کھیلنے کا معاہدہ کر لیا۔ خبیب ابھی تک وہ واحد MMA پلیئر ہیں جو نہ صرف 26 مقابلوں کے بعد ناقابل شکست ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر کوئی بھی حریف خبیب کو آج تک کسی بھی مقابلے کے ایک راؤنڈ میں بھی شکست نہیں دے پایا۔ خبیب کے سٹائل کی خاص بات ان کی کشتی میں خصوصی مہارت ہے، مقابلہ شروع ہوتے ہی خبیب چیتے کی پھرتی سے اپنے حریف پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور ان کے کشتی کے داؤ پیچ کا حریف کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ خبیب نے ایک مقابلے میں اپنے حریف کو اکیس بار پٹخا جو کہ MMA کی تاریخ کا ایک اور منفرد ورلڈ ریکارڈ ہے۔ اپنے چھبیس مقابلوں میں خبیب نے آٹھ بار اپنے حریفوں کو ناک آؤٹ سے ہرایا اور آٹھ ہی بار ایسا داؤ لگایا کی حریف ہار ماننے پر مجبور ہو گیا اور اس نے خود ہاتھ ہلا کر مقابلہ روکنے کی درخواست کی جبکہ دس مقابلوں میں خبیب کو تمام ججز کی طرف سے پوائنٹس پر فاتح قرار دیا گیا۔ صوم و صلوٰۃ کے پابند اور ایک سچے مسلمان کی زندگی گذارنے والے خبیب ان تمام کامیابیوں کے بعد بھی انتہائی منکسر المزاج اور نرم لہجے کے مالک ہیں، اور اپنے مداحوں سے انتہائی محبت سے بات کرتے ہیں۔ خبیب کو ایک مثالی کردار کا عالمی چیمپئن قرار دیا جاتا ہے۔ خبیب کو تمام ویٹ کلاسز میں اب تک آٹھویں درجے کا فائٹر قرار دیا جاتا ہے۔

خبیب کا مقابلہ دو مختلف ویٹ کلاسز میں ورلڈ چیمپئن شپ جیتنے کا منفرد اعزاز رکھنے اور اس وقت مکس مارشل آرٹ کی تمام ویٹ کلاسز میں نمبر دو رینک کے کھلاڑی تیس سالہ آئرش کونر میک گریگر سے ہے۔ کونر کو اگرچہ اپنے ابتدائی کچھ مقابلوں میں دوبار ہار ماننے کی ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا لیکن جلد ہی کونر نے اپنی خامیوں پر قابو پا کر ایک خطرناک کھلاڑی کا روپ دھار لیا۔ کونر اب تک 24 مقابلوں میں سے اٹھارہ مقابلے ناک آؤٹ سے, ایک میں مخالف کو ہار منوا کر اور دو پوائنٹس کی بنیاد پر جیت چکے ہیں اور تین میں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کونر کے کھیل کی خاص بات ان کی کراٹے اور بالخصوص باکسنگ میں مہارت ہے، کونر اپنے فولادی بائیں ہاتھ سے مضبوط سے مضبوط حریف کو بھی دھول چٹا چکے ہیں۔ ان کا بائیاں ہاتھ جب کسی حریف پر پڑتا ہے تو اسے یوں لگتا ہے کہ جیسے اس پر کسی نے ہتھوڑے سے وار کیا ہو اور اس کے بعد اکثر حریفوں کے چراغوں میں روشنی نہیں رہتی۔ کونر ایک دلچسپ شخصیت کے مالک ہیں جو مقابلوں سے پہلے عظیم محمد علی کی طرح اپنے حریفوں کو دلچسپ چٹکلوں اور چرب زبانی سے نفسیاتی مار مارتے ہیں، ان کے دل میں مقابلے سے پہلے خوف اور بے یقینی پیدا کرتے ہیں یا پھر حریف ان کی زبان کے حملوں سے اس قدر زچ ہو جاتا ہے کہ نفرت میں مقابلے کے دوران غلطیاں کر جاتا ہے جس سے فائدہ اٹھانے میں کونر کبھی نہیں چوکتے۔

کونر نے UFC میں مقابلوں کا آغاز فیدر ویٹ کلاس جو کہ 135 تا 145 پاؤنڈ وزن کے کھلاڑیوں کی ہوتی ہے، سے کیا۔ ایک کے بعد ایک حریف کو پچھاڑتے ہوئے بالآخر کونر چیمپئن شپ فائٹ کے لیے اس وقت کے چیمپئن آلڈو کے آمنے سامنے تھے، اپنے روایتی انداز میں کونر نے مقابلے سے پہلے آلڈو کو شدید زچ کر دیا اور کہا کہ وہ پہلے ہی راؤنڈ میں آلڈو کو ناک آؤٹ کر دے گا۔ چنانچہ اپنے وقت کے ریکارڈ کراؤڈ کے سامنے جونہی مقابلے کا آغاز ہوا، آلڈو زخمی شیر کی طرح کونر پر لپکا، آلڈو کے تابڑ توڑ مکوں کو بچاتے ہوئے کونر نے آگے بڑھتے ہوئے آلڈو کو اپنا فولادی بایاں مکہ رسید کیا، جس نے ایک ہی وار میں آلڈو کو چاروں شانے چت کر دیا۔ کراؤڈ حیران تھا، ایک نیا ورلڈ ریکارڈ معرض وجود میں آ چکا تھا اور کونر محض تیرہ سیکنڈز میں اپنے حریف کو پچھاڑ کر نیا فیدر ویٹ چیمپئن بن چکا تھا، کونر نے پہلے ہی راؤنڈ میں اپنے حریف کو پچھاڑنے کا دعویٰ سچ کر دکھایا۔

اب کونر نے ایک اور چونکا دینے والا اعلان کیا کہ وہ اپنا وزن بڑھا کر لائٹ ویٹ کلاس کا بھی چیمپئن بنے گا اور اس وقت کے لائٹ ویٹ چیمپئن رافیل انجوز کو ہرا کر ایک ہی وقت میں دو ویٹ کلاسز کا چیمپئن بننے کا منفرد ریکارڈ بنائے گا۔ کونر نے اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے تیاری شروع کردی اور جلد ہی لائٹ ویٹ چیمپئن شپ کے لیے انجوز اس کے سامنے تھا۔ لیکن بد قسمتی سے مقابلے سے چند دن پہلے انجوز اپنا پاؤں زخمی کروا بیٹھا۔ مقابلے کے ٹکٹ بک چکے تھے اور وہ UFC کی تاریخ کا سب سے بڑا مقابلہ ہونے جا رہا تھا۔ لیکن انجوز کے زخمی ہونے سے رنگ میں بھنگ پڑ گئی۔ اب کمپنی نے دوبارہ سابق فیدر ویٹ چیمپئن آلڈو کو کونر سے مقابلے کی دعوت دی لیکن آلڈو نے مقابلے کی تیاری کے لیے کم وقت کا عذر پیش کر کے معذرت کر لی، اب ویلٹر ویٹ کلاس کے ایک کھلاڑی نیٹ ڈیاز جو کہ سابق لائٹ ویٹ چیمپئن شپ مقابلے کے حریف رہ چکے تھے، نے کونر سے مقابلے کے لیے خود کو پیش کر دیا۔ اب مشکل یہ تھی کہ ڈیاز کا وزن 170 پاؤنڈ کے قریب تھا جبکہ کونر کا وزن 155 پاؤنڈ تھا۔ کونر نے ڈیاز کے حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے ڈیاز کو کہا کہ تم اتنے کم عرصہ میں وزن کم کر کے کمزوری میں مبتلا ہو سکتے ہو تو زیادہ بہتر ہے کہ میں اپنا وزن بڑھا کر تم سے مقابلہ کروں، لہذا کونر نے پندرہ پاؤنڈ وزن بڑھا کر خود کو مقابلے کے لیے پیش کر دیا۔

مقابلے کا آغاز خاصہ دھماکہ خیز تھا، دونوں حریف تابڑ توڑ حملے کرتے رہے، ڈیاز ایک سخت اور کونر کی شہرت سے بالکل نہ گھبرانے والا حریف ثابت ہوا۔ پہلے راؤنڈ میں کونر نے 27 اور ڈیاز نے 23 کامیاب حملے کیے اور نقادوں کے مطابق پہلا راؤنڈ کونر کے نام رہا۔ دوسرا راؤنڈ پہلے سے بھی زیادہ دھماکہ خیز ثابت ہوا، ڈیاز مخالف پر مقابلے کے دوران آوازیں کسنے اور زچ کرنے کی کونر کی ترکیب اسی پر استعمال کرتا رہا، جبکہ کونر بھی ترکی بہ ترکی جواب دیتا رہا۔ ڈیاز ایک کے بعد ایک تابڑ توڑ مکے برساتا رہا جبکہ کونر کو بھی جب موقع ملا، وہ ڈیاز پر وار کرنے سے نہ چوکا۔ پھر اچانک مقابلے میں ایک ایسا موڑ آیا کہ ڈیاز نے پینترا بدلتے ہوئے کونر کو گردن جکڑنے والا مشہور زمانہ داؤ لگا ڈالا، یہی وہ داؤ تھا کہ جس کی زد میں آکر اپنے کیرئیر کے آغاز کونر دو بار ہار مان چکا تھا۔ ڈیاز کے فولادی شکنجے میں کونر کو اپنی گردن ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی اور بالآخر اس کے سامنے ہار ماننے کے سوا کوئی چارا نہ بچا، اور یوں کونر کو اپنے پروفیشنل کیرئیر کی تیسری ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے خواب بکھر چکے تھے اور شکست کی ہزیمت نے اس کے بلند بانگ دعوؤں کی قلعی کھول دی تھی۔

کونر نے مردوں کی طرح ہار کو قبول کیا، ڈیاز کو سراہا اور کہا کہ دو حریفوں کے مقابلے میں ایک کو ہارنا پڑتا ہے اور اس بار بدقسمتی سے ہار میرے نصیب میں تھی، میں ایک جنگجو ہوں اور ایک دفعہ پھر اپنے سے ہیوی ویٹ کلاس میں ڈیاز کا مقابلہ کر کے اس سے اپنی شکست کا بدلہ لوں گا۔ چنانچہ ایک دفعہ پھر ڈیاز اور کونر کے درمیان دوسرے مقابلے کی تاریخ طے کر دی گئی اور دونوں کھلاڑیوں نے مقابلے کی تیاری شروع کر دی۔ مقابلے کی تاریخ آ پہنچی اور شائقین کی دلچسپی نے UFC کی تاریخ کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ ڈالے تھے۔ پہلے ہی راؤنڈ میں اندازہ ہوگیا کہ آج کی شام دونوں کھلاڑیوں کے لیے خونی ثابت ہونے والی ہے۔ کونر کی کہنی کے وار نے ڈیاز کی آنکھ کے قریب ایک گہرا کٹ لگا دیا تھا، جس سے خون بہہ بہہ کر ڈیاز کے منہ اور میٹ کو رنگین کر چکا تھا۔ لیکن اس ضرب نے بھی ڈیاز کا حوصلہ پست نہ کیا اور وہ دوسرے راؤنڈ میں زخمی شیر کی طرح کونر پر ٹوٹ پڑا اور ایک وقت ڈیاز کے مکوں کی بارش کے آگے کونر بالکل بے بس محسوس ہوتا تھا۔ تیسرے راؤنڈ میں کونر نے خود کو سنبھالا اور دوسرے راؤنڈ کا حساب خاصہ چکتا کیا، جبکہ چوتھے اور آخری پانچویں راؤنڈ کی لڑائی نے بھی دیکھنے والوں کو مبہوت کیے رکھا۔ بالآخر موت کے اس کھیل کی اختتامی بیل بجنے پر دونوں کھلاڑیوں نے اطمینان کی سانس لی، دونوں ہی اپنی کارکردگی سے مطمئن اور جیت کے لیے پر امید تھے۔ ججز نے اپنا فیصلہ سنایا جس کے مطابق دو ججز نے 47 کے مقابلے میں 48 پوائنٹس کے ساتھ کونر کو فاتح قرار دیا جبکہ ایک جج کے مطابق مقابلہ 47، 47 پوائنٹس کے ساتھ برابر رہا تھا، یوں اکثریتی فیصلے سے کونر نے اپنی سابقہ شکست کا بدلہ لے لیا تھا۔

اب کونر کی نظریں ایک دفعہ پھر لائٹ ویٹ چیمپئن شپ جیت کر ایک وقت میں دو بیلٹیں جیتنے کے ریکارڈ پر مرکوز تھیں۔ اب کی بار لائٹ ویٹ چیمپئن الواریز کی شکل میں ایک مضبوط حریف تھا۔ لیکن مقابلے کے دوسرے ہی راؤنڈ میں کونر نے اپنے بائیں مکے کی ضرب سے الواریز کو دھول چٹا دی اور یوں وہ UFC کی تاریخ میں بیک وقت دو ویٹ کلاسز کا عالمی چیمپئن بن چکا تھا۔ اب کونر کی نظریں کچھ مزید منفرد کرنے پر تھیں، اس نے ایک دھماکہ خیز اعلان کرتے ہوئے پروفیشنل باکسنگ کے سابق ورلڈ چیمپئن اور انچاس مقابلوں میں ناقابل شکست رہنے والے فلائیڈ مے ویدر کو مقابلے کا چیلنج دے ڈالا۔ اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کر چکنے والے چالیس سالہ مے ویدر نے اسے بھرپور پیسہ کمانے کا ایک مناسب موقع جانا اور کونر کا چیلنج قبول کر لیا۔ کونر نے اپنے روائتی انداز میں مے ویدر کو پریس کانفرنسز میں اپنی چرب زبانی سے پریشان کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن تجربہ کار اور جہاندیدہ مے ویدر جانتا تھا کہ ایک مختلف سٹائل کی فائٹ کا تجربہ رکھنے والا کونر باکسنگ کے مقابلے میں اس کے سامنے ٹک نہ پائے گا۔ کونر نے مے ویدر کو پہلے ہی کچھ راؤنڈز میں ناک آؤٹ کرنے کا دعویٰ کر ڈالا اور مے ویدر اس کے اس دعوے پر ہنستا رہا۔ کونر کے غصے میں اب اضافہ ہو چکا تھا کہ اس کے زبانی حملوں کا مے ویدر پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا اور کونر دل سے سمجھتا تھا کہ وہ اس عمر رسیدہ سابق چیمپئن کو اپنے فولادی مکوں سے ہرا دے گا۔ بہرحال مقابلہ شروع ہوا اور کونر نے پہلے ہی کچھ راؤنڈز میں تابڑ توڑ حملوں سے خود کو تھکا ڈالا جبکہ مے ویدر جانتا تھا کہ مکس مارشل آرٹس کے پانچ راؤنڈ کے مختصر مقابلے لڑنے والا کونر باکسنگ کے بارہ راؤنڈ نہ جھیل پائے گا۔ لہذا اپنے گیم پلان کے عین مطابق مے ویدر نے اپنی مشہور زمانہ دفاعی حکمت عملی سے کونر کو خوب تھکایا اور جب تھکن کے آثار کونر کے کھیل سے نمایاں ہونے لگے تو اب مے ویدر کی باری تھی، مے ویدر نے اب کونر کی خوب دھنائی شروع کی، مے ویدر کے بارش کی طرح برستے مکوں کے سامنے کونر بالکل بے بس ثابت ہوا، لہذا دسویں راؤنڈ میں کونر کو مزید پٹائی سے بچانے کے لیے ریفری کو فائٹ روکنا پڑی اور یوں مے ویدر اپنے پچاسویں مقابلے میں بھی ناقابل شکست ثابت ہوا۔

بہرحال کونر نے اپنے پہلے ہی پروفیشنل باکسنگ مقابلے میں ناقابل شکست سابق ورلڈ چیمپئن کے سامنے دس راؤنڈ تک ٹک کر بھرپور حوصلے اور جرات کا مظاہرہ کیا، جس سے پتہ چلتا تھا کہ کونر ایک عظیم فائٹر ہے۔ اپنی بیوی کی زچگی کے دوران کونر کو مقابلوں میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے اپنی دونوں ویٹ کلاس کی بیلٹوں سے رولز کے مطابق دستبردار ہونا پڑا اور بعد ازاں لائٹ ویٹ کی بیلٹ پر خبیب نے اپنا حق ثابت کر دیا۔ اب کونر دوبارہ مقابلے کیلیے بالکل تیار ہے اور اس کے سامنے اب تک کا سب سے سخت حریف ناقابل شکست خبیب ہے۔ خبیب اور کونر کا مقابلہ مکس مارشل آرٹ کے دو سٹائلوں کی بالا دستی کی جنگ بن چکا ہے، ایک طرف خبیب ہے جو کشتی کے داؤ پیچ سے حریف کو پٹخ پٹخ کر مارنے کے لیے مشہور ہے اور دوسری طرف کونر ہے جو باکسنگ کے ذریعے اپنے حریفوں کو ناک آؤٹ کرنے کے لیے انفرادیت رکھتا ہے۔ اگر خبیب کا گردن توڑ داؤ کونر پر چل گیا تو کونر کو ایک دفعہ پھر ہار ماننا پڑے گی اور اگر کونر کا فولادی مکہ خبیب کے منہ پر سیدھا جا پڑا تو کون جانے کہ خبیب اس کے بعد اٹھ بھی پائے یا پھر ناک آؤٹ جیت کونر کا مقدر ٹھرے۔

کونر اور خبیب کی میچ سے پہلے کی پریس کانفرنس دونوں کی شخصیات کا مختلف رنگ دکھاتی رہیں۔ ایک طرف متحمل مزاج خبیب اپنی مسحور کن مسکراہٹ کے ساتھ موجود تھا اور خبیب کی آنکھیں اس کے اعتماد اور حریف سے بے خوفی کی غماض تھیں جبکہ دوسری طرف اپنے روائتی بڑبولے پن کے ساتھ کونر خبیب کو نفسیاتی مار مارنے کے لیے اوٹ پٹانگ جملے اچھالتا رہا۔ مقابلے سے پہلے کی ایک خاص بات کونر کی ٹیم کے ٹریننگ ممبر اور اس کے گہرے دوست کی خبیب سے کسی بات پر زبانی جھڑپ تھی، جس پر کونر شدید سیخ پا ہوا اور اسے اپنی بے عزتی پر محمول کیا، کونر جو اس وقت آئرلینڈ میں تھا، وہ اپنے پرائیویٹ جہاز میں اپنے باڈی گارڈز کے ساتھ امریکہ پہنچا اور کھلاڑیوں کی بس جس میں خبیب سوار تھا، پر آہنی ٹرالی سے حملہ کر دیا، جس پر کونر کو کورٹ میں معمولی سزا کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ پریس کانفرنس کے دوران کونر بس پر حملے کے دوران خبیب کو باہر نہ نکلنے پر بزدلی کے طعنے دیتا رہا جبکہ خبیب جواباً کہتا رہا کہ اگر تمھیں مجھ سے کوئی مسئلہ تھا تو مجھے کہتے، میں اکیلا تمھارے پاس آتا، بزدل تو تم ہو جو چالیس باڈی گارڈز کے ساتھ میری بس پر چڑھ دوڑے۔ کونر پریس کانفرنس کے دوران اپنے ساتھ اسے سپاسنسر کرنے والی شراب کی بوتل بھی لایا اور اس کے پیگ بنا کر خود بھی پیتا رہا اور خبیب کو غصہ دلانے کے لیے اسے بھی شراب پیش کی، جسے خبیب نے یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دیا کہ میں ایک سچا مسلمان ہوں اور میرا دین مجھے نشہ کرنے سے منع کرتا ہے۔ درحقیقت تم نشے کی آڑ میں اپنے ڈر کو چھپانا چاہتے ہو۔ خبیب سے جب سوال کیا گیا کہ اگر کونر اس کی ریسلنگ کے داؤ کو نہ لگنے دے تو خبیب کیا کر پائے گا؟ خبیب نے جواب دیا کہ ایسا ہونا ناممکن ہے کہ کونر میرے داؤ کو روک پائے، میں ایک نہیں مسلسل حملے کروں گا اور کونر کب تک ان حملوں کی تاب لا پائے گا؟ بالآخر میں اسے پٹخ پٹخ کر ماروں گا۔ جبکہ کونر کے مطابق اس کے فولادی مکے دنیا کو دکھا دیں گے کہ خبیب ایک شیشے کی تھوڑی کا مالک ہے اور یہ مکہ پڑتے ہی خبیب کے ہوش اڑ جائیں گے۔

اب دنیا کو چھ اکتوبر کا انتظار ہے جب محمد علی اور جارج فورمین کے مقابلے کی طرح اپنے وقت کے دو عظیم فائٹر میدان میں اتریں گے، ناقدین کے مطابق خبیب کو اپنے حریف پر برتری حاصل ہے جو 26 مقابلوں کے بعد بھی اب تک ایک راؤنڈ بھی نہیں ہارا، جبکہ کچھ ماہرین کے مطابق کونر کے فولادی بائیں ہاتھ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بہرحال ایک مسلمان کی حیثیت سے میری دعائیں خبیب کے ساتھ ہیں، اللہ خبیب کو سدا کامیابیوں سے نوازے اور وہ اپنی شہرت کے ذریعے محمد علی کی طرح دین کی دعوت دنیا کو پہنچانے کا باعث بنے اور اپنی اچھی عادات اور شخصیت کی وجہ سے اسلام کا بہترین سفیر ثابت ہو۔ آمین

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.