بھارت کا طبل جنگ، عمران خان کی ذمہ داری - شبیر بونیری

آشوک سلطنت موریہ کا حکمران تھا اور تاریخ نے اس کی شہرت کو دیکھتے ہوئے اکثر اس کو اشوک اعظم کے نام سے بھی یاد کیا ہے۔ جنگ و جدل آشوک کا سب سے محبوب مشغلہ تھا، تخت سے اسے بے پناہ محبت تھی اور یہی وجہ ہے کہ تخت ہی کی خاطر اس نے اپنے ننانوے بھائیوں کو قتل کر دیا تھا۔ اپنے دور حکمرانی میں اس کی جو سب سے بڑی خواہش تھی وہ کلنگ (اڑیسہ) کو فتح کرنا اور کلنگ کے رہائشیوں پر اپنی حکومت قائم کرنا تھی۔ یہ خواہش جنون کی حد تک پہنچ چکی تھی اور وہ اپنے مشیروں اور وزیروں کے ساتھ جب بھی بیٹھتا، کلنگ (اڑیسہ) کو فتح کرنے کی خواہش کا اظہار کرتا۔ خواہش جب جنون کی حد تک پہنچ گئی تو اس نے اپنی فوجوں کے ساتھ کلنگ پر چڑھائی کا فیصلہ کر لیا، لاکھوں لوگوں کا قتل عام کیا، انسانی کھوپڑیاں ہر طرف بکھری پڑی تھیں اور سلطنت موریہ کے گھڑ سوار ان کو روند رہے تھے۔ لشکر جشن منانے میں مصروف تھا اور فاتح بادشاہ کسی گہرے سوچ میں غرق تھا۔ سورج جب دن کے آخری پہر میں کائنات پر اپنی کرنیں بکھیر رہا تھا تو آشوک اپنے پاؤں تلے لاکھوں انسانوں کا بہتا خون اور قلم شدہ سر دیکھ رہا تھا۔ اس بھیانک منظر میں جب ٹھنڈی ہوائیں چلی تو آشوک کے دل نے پلٹا کھایا اور عین اسی لمحے اس نے تاحیات جنگ و جدل سے توبہ کرکے بدھ مت مذہب کی تعلیمات عام کرنے کا ارداہ کیا اور اپنے چودہ احکامات جاری کیے۔ ان چودہ احکامات میں صرف امن اور محبت ہی کا درس تھا اور تاریخ نے پھر دیکھا کہ اس نے مذہب کی خدمت کرکے ہی وفات پائی۔

ہم اگر دیکھیں تو ہندوستان ایک بہت بڑا جمہوری ملک ہے اور تصّور میں جب اس کا نام آتا ہے تو مندروں کی گھنٹیاں بجتی ہیں اور گنگا جمنا کا پانی بہتا ہے۔ یہ تصّور جب مزید طول پکڑتا ہے تو اس میں کرکٹ کے دیوتا، ہندوستانی فلموں کے ڈائیلاگز اور ہیرو ہیروئن کی فلمی ولن کے ساتھ محبت کے جنگ میں جیت کے لیے تگ و دو اور پس منظر میں خوب صورت اور دل آویز گانوں کی آمیزش نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ وہاں اور کچھ نہیں، بس اقلیتوں پر زندگی تنگ کرنے کا رواج اور غربت کی چکیوں میں پھنسے ہوئے مظلوم لوگوں کی دھاڑیں ہیں۔ نریندر مودی بھی اگر تاریخ میں آشوک کی کہانی ہی پڑھ لیں تو شاید اس کو تھوڑی بہت سمجھ آجائے کیونکہ سلطنت موریہ ہندوستانی تاریخ کی پہلی اور سب سے بڑی سلطنت تھی، لیکن آشوک کے جنگی جنون کی وجہ سے اس کا خاتمہ ہوا۔

بھارت میں ستر فیصد افراد بیس روپے روزانہ سے کم کماتے ہیں۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں غریب لوگوں کی آمدنی میں مستقل کمی آ رہی ہے۔ آمدنی میں اسی کمی کی وجہ سے بھارت میں ہر سال خود کشیوں میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق طلبہ کی خود کشیوں میں پوری دنیا میں بھارت کا پہلا نمبر ہے۔ اس سراسیمگی میں مذہبی انتہا پسندی اتنی عروج پر ہے کہ نہ مسلمان محفوظ ہیں اور نہ عیسائی۔ پوری دنیا میں خود کو ایک سیکولر ملک منوانے کی کوشش بھارت تو بہت کر رہا ہے لیکن گائے کے گوشت کو بہانہ بناکر اب تک بے شمار مسلمانوں کو قتل کردیا گیا ہے۔ اس عجیب صورتحال میں بجائے اس کے کہ بھارت کی حکومت زندگی کی بازی ہارنے والوں کی فلاح و بہبود پر پیسہ لگائے، بھارت صرف دفاعی بجٹ ہر سال بڑھانے پر اکتفا کر رہا ہے اور دنیا کے پانچ ان ملکوں میں شمار ہوتا ہے جو دفاعی بجٹ پر سب سے زیادہ پیسے خرچ کر رہے ہیں بلکہ بھارت نے اس ضمن میں برطانیہ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس تمام صورتحال میں بھارت اگر جنگی جنون سے باز نہ آیا تو پھر خود اپنے ملک کے اندر نریندر مودی کی حکومت کو شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ غریب اور مایوس عوام جب حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے تو پھر یہ ایک عجیب رد عمل ہوگا جس کی تلافی ناممکن ہوگی۔

عمران خان نے امن بحال کرنے میں پہل کرکے واقعی بڑے پن کا مظاہرہ کیا ہے، ہم لاکھ اختلافات کے باوجود اِس اقدام پر داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے، لیکن ہندوستان کی طرح پاکستان میں بھی یہی مسائل ہیں، جن کی وجہ سے پاکستان کا عام شہری الجھن کا شکار ہے۔ یہاں بھی چالیس فیصد آبادی غربت کا شکار ہے اور اوپر سے ان پر مہنگائی کی اس نئی لہر نے تو گویا بم گرایا ہے۔ انتہائی خوشی کی بات ہے کہ جب بھارت کے آرمی چیف نے ہرزہ سرائی کی تو پاکستان کے عوام یہ سب کچھ بھول گئے اور اس ملک کی خاطر اپنا سب کچھ لٹانے کا پکا ارادہ کرلیا۔ حکومت نے سوشل میڈیا پر اس جذبے کو دیکھا ہوگا، جس میں سیاستدان، نوجوان، بوڑھے حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جو ریاست سے انتہائی ناراض ہیں، لیکن انہوں نے بھی وطن کی خاطر سب کچھ لٹانے کا عہد کیا۔ جنگوں کے لئے تو ضروری چیز قوم کا ایک ہونا ہوتا ہے اور یہ پاکستانی ہر اس لمحے میں ایک قوم بن جاتے ہیں، جب بھی کوئی ملک دشمن اس وطن کو میلی آنکھ سے دیکھتا ہے۔ ہمارے کپتان کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جب قوم منتشر ہو اور حکمرانوں سے نالاں ہو تو پھر جنگیں نہیں جیتی جا سکتیں، لیکن جس قوم نے جنگ سے پہلے ہی صرف سوشل میڈیا پر ہندوستان کو چاروں شانے چت کردیا ہے، اس قوم کے لیے زندگی دن بہ دن اجیرن کیوں بنائی جارہی ہے؟

ان معصوموں کے لیے زندگی کی بنیادی ضرورتیں مہنگی ہوچکی ہیں اور ستم بالائے ستم اداروں میں بددیانتی کی انتہا نے ان کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ مالی، قانونی واخلاقی کرپشن کا بازار اتنا گرم ہے کہ پاکستان کی جڑیں ختم ہو رہی ہیں۔ ہمارے کپتان کا جذبہ قابل دید ہے اور ہم سب اس پر فخر بھی کرتے ہیں کہ برسوں بعد ہمیں ایک نڈر حکمران ملا ہے، لیکن کیا ہمارے کپتان کو یہ اندازہ نہیں کہ عشرے بیت گئے، لیکن ہم غربت، کرپشن، اور احساس کمتری کے خلاف جنگ مسلسل ہار رہے ہیں؟ عمران محنتی انسان ہے اور ہمیں یقین ہے کہ بیرونی جنگ میں کودنے کے بجائے اس اندرونی جنگ کا خاتمہ پہلے کرے گا۔ عمران خان کو چاہیے کہ پورے ملک میں غریبوں کا ڈیٹا نکال کر دیکھ لیں اور پھر ان لوگوں کا بھی ڈیٹا نکال لیں جو دن بہ دن امیر ہوتے جا رہے ہیں۔ اس ڈیٹا پر تحقیق کرنے کے بعد ہمیں یقین ہے کہ غربت کو شکست دینے کے لیے ایک بہترین پالیسی اور بہترین ٹیم تشکیل دی جا سکے گی۔ اس ملک میں جب یہ محرومی ختم ہوجائے گی تو پھر کسی میں جرات بھی نہیں ہوگی کہ پاکستان اور افواج پاکستان کی طرف میلی آنکھ اٹھا کر دیکھ سکے۔

عمران خان کو ٹیکسز کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ کیوں بیس کروڑ آبادی کے اس ملک میں صرف پندرہ لاکھ لوگ ٹیکس دے رہے ہیں۔ بجلی اور پانی کے اس بحران کو ٹیکنیکل بنیادوں پر حل کرنی کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے۔ بجلی چور اور ٹیکس چور کیوں اس ملک کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ کپتان جب ان سارے مسائل کے لیے اپنی کرکٹ ٹیم کی طرح ایک کمیٹڈ ٹیم بنائے گا تو پھر کوئی سرپھرا پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی نہیں کرسکے گا۔ ہم جب حقیقت میں ایک قوم بنیں گے تو پھر ہر باشندہ اس ملک کا فوجی ہوگا۔ عمران خان ایک نڈر انسان ہیں اور وہ حقیقت میں پاکستان کے لیے کچھ کرنا بھی چاہتے ہیں لیکن ساتھ عشروں کے مسائل بیچ میں آ رہے ہیں اور یہ سب مسائل اتنی آسانی سے حل بھی نہیں ہوسکتے، اس لیے انھیں حضرت عمر کی سیرت کا فی الفور مطالعہ کرکے ریاست مدینہ کی طرح ایک مظبوط ریاست کے لیے کوشش شروع کرنی چاہیے، جس میں وزیروں کی فوج اور ان کے لیے کروڑوں کی مراعات نہیں ہوا کرتی تھیں۔ ہمارے پاس دنیا کی بہترین فوج ہے اور اگر کسی نے اس ملک کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تورسوائی ان کا مقدر ہوگی، بس صرف اندرونی لڑائی کے لیے صفیں درست کرنے کی ضرورت ہے، جس میں ہمارا دشمن غربت، اقرباپروری، کرپشن، احساس کمتری، اداروں کی زبوں حالی، بےروزگاری، بدامنی اور عام پاکستانی کے وہ مسائل ہیں جس کی وجہ سے وہ ہر روز مرتا ہے۔ ہم جب یہ جنگ جیتیں گے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت ہمارے سامنے نہیں ٹھہر سکے گی ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com