ایموشنل ویمپائرز - محمد عامر خاکوانی

کالج کے زمانے میں ہمارا ایک دوست ہوا کرتا تھا، اب عرصہ ہوگیا اس سے رابطہ ہی نہیں رہا۔ اس کی خاص بات یہ تھی کہ جتنی دیر ساتھ بیٹھتا، ایک سے بڑھ کر ایک مایوس کن منفی تبصرہ کر ڈالتا۔ جس موضوع پر بات ہوتی، اس کا منفی اور تاریک ترین پہلو سامنے لے آتا۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اس کے جانے کے خاصی دیر بعد تک ہمیں اپنے آس پاس تاریکی، مایوسی اور فرسٹریشن کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دکھائی دیتا۔ آخر ہم نے اسے ایجنٹ آف ڈارک نیس (تاریکیوں کا نمائندہ) قرار دے کر اس سے یوں بچنا شروع کر دیا جیسے گلی محلوں میں بہت سے لوگ تبلیغی جماعت کے گشت کرتے گروپ سے آنکھ بچاکر نکل جاتے ہیں، جس گلی میں نظر آئیں، راستہ ہی بدل دیا جائے۔ اس طرح کے منفی سوچ رکھنے والے بہت سوں سے بعد میں بھی واسطہ پڑا، یاسیت اور قنوطیت ان کی زندگی میں یوں چھائی ہوئی تھی کہ کہیں سے امید اور روشن کی کرن جھانک ہی نہ سکے۔ بعض دوستوں کے قریبی رشتے داروں میں ایسے منفی، مایوس سوچ والے کردار ملتے ہیں۔ ان بےچاروں پر ترس آتا کہ کسی دوست سے تو ملنا جلنا کم کیا جا سکتا ہے، گھر کے بندوں سے کیسے بچا جائے؟

صحافت شروع کی تو لاہور کے ایک جریدے میں تین چار سال تک کام کرتا رہا۔ وہاں بہت سے لوگ اپنے مضامین وغیرہ دینے آتے، کچھ کتابوں پر تبصرے کے خواہش مند ہوتے۔ بھانت بھانت کے لوگوں سے رابطہ رہتا، کئی دلچسپ کردار دیکھے۔ ایک صاحب مہینے میں ایک آدھ بار ضرور چکر لگاتے ، عمدہ شاعر تھے، دو تین مجموعے بھی چھپ چکے تھے۔ خوش اخلاق ،شائستہ زبان آدمی، لاہور کی ادبی محفلوں کے شناور رہے، ستر اور اسی کے عشرے کے نامور ادیبوں سے ملاقاتیں رہیں، دلچسپ واقعات سناتے۔ ہر واقعہ مگر ان کے گرد گھومتا اور اس میں اس نامور شاعر یا ادیب نے ان کے کلام اور تحریر کی تعریف ضرور کی ہوتی۔ مثال کے طور پر فیض صاحب کا کوئی قصہ سنایا تو اس طرح کہ فیض صاحب بڑے بااخلاق آدمی تھے، جب ملتے کہتے یار اپنی فلاں غزل تو سناؤ، سن کر خوب داد دیتے یا میں جب ناصر کاظمی سے ملنے گیا تو انہوں نے کہا باقی باتیں بعد میں، مگر پہلے اپنی پنجابی نظم تو سناؤ جو فلاں مشاعرے میں پڑھی تھی۔ ان واقعات کے علاوہ بھی جو گفتگو ہوتی، اس میں لفظ ”میں“ سینکڑوں بار آتا۔ ہم بےبسی سے ان کا منہ دیکھتے رہتے کہ کس طرح جان چھڑائی جائے۔ کہتے ہیں شاعروں میں تعلی کا جذبہ فطری طور پر زیادہ ہوتا ہے، ہم نے تو یہ ہنرِ بےکمال فکشن نگاروں میں بھی کم نہیں پایا۔ جس کی کہانی چھپتی، وہ آ کر ڈینگیں مارتا کہ اس کی فلاں فلاں نے تعریف کی ہے اور کہتے ہیں کہ اسے تو ادب عالیہ میں شمار کیا جا نا چاہیے، وغیرہ وغیرہ۔ ایسے بھی لوگ تھے جن کی کوئی تحریر رسالے میں چھپ جاتی تو پھر کچھ دنوں بعد تعریفی خطوط آنے لگتے، جن میں مضمون یا کہانی کی حد سے زیادہ تعریف کی گئی ہوتی۔ کچھ ہی عرصے میں ہمیں اندازہ ہوگیا کہ یہ سب کون کرا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   طلباء میں ڈیپریشن : وجوہات اور علاج - حافظ محمد زبیر

ایک زمانے میں ایک پرانے صحافی کے ساتھ پریس کلب میں کچھ عرصے تک وقت گزارنے کا اتفاق ہوا۔ بڑے ذہین، صاحب علم مگر نہایت زود رنج اور بلا کے موڈی انسان تھے۔ ان دنوں گھر میں اکیلا تھا، شام کو پریس کلب چلا جاتا، ان کی میز پر دو تین گھنٹے بیٹھا رہتا۔ مزے کی چائے پلاتے اور بہت دلچسپ باتیں، واقعات سننے کو ملتے۔ کئی نئی باتوں کا علم ہوا، بہت سی چیزیں سیکھیں، مگر ایک بات محسوس کی کہ جب بھی وہاں سے اٹھ کر گھر کو روانہ ہوئے، مزاج میں عجب قسم کی یاسیت اور پژمردگی چھائی ہوتی۔ ایک اور نوجوان صحافی دوست بھی ہماری طرح ان محفلوں میں شریک ہوتے۔ آپس میں ڈسکس کیا اور غور کیا تو اندازہ ہوا کہ موصوف اپنے تمام تر علم و فضل کے باوجود دوسرے کی خود اعتمادی کو تباہ کرنے کے ماسٹر تھے۔ ایسے سوال پوچھتے جن کا جواب ہمیں معلوم نہ ہوتا، جواب نہ دینے پر شدید تنقید کی جاتی اور یہ احساس دلایا جاتا کہ نئی نسل کس قدر پھسڈی اور نالائق ہے۔ ہمارے ساتھ متاثر ہونے والے دوسرے صحافی ایک دن کہنے لگے، انہیں شائد یہ کمپلیکس ہے کہ ہم انہیں جینوئن دانشور نہیں سمجھتے، یار وہ ہم سے سرٹیفکیٹ لکھوا لیں، ان کے سکالر ہونے میں ہمیں کوئی شبہ نہیں، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم جاہل ہیں۔ چلیں اگر ان کے مقابلے میں جاہل ہیں بھی تو کیا ضروری ہے کہ ہر روز یہ سبق ہمیں یاد دلایا جائے۔

یہ سب کردار آج اس لئے یاد آئے کہ ان سب میں ایک مشترک چیز تھی۔، ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنے والا پہلے سے زیادہ پریشان، مایوس اور نڈھال ہوکر اٹھتا۔ یوں لگتا جیسے انسان کے اندر کی مثبت توانائی، امید ، حوصلہ اور کچھ کرگزرنے کا یقین ان لوگوں نے کسی نادیدہ کنکشن کے ذریعے چوس (Suck) لی ہے۔ پچھلے دنوں انٹرنیٹ پر ریسرچ کرتے ہوئے ایموشنل ویمپائر (Emotional Vampires) کی اصطلاح نظر سے گزری۔ اس کے بارے میں جاننے کی دلچسپی پیدا ہوئی، کچھ دیر میں خاصا کچھ مواد مل گیا۔ معلوم ہوا کہ یہ ایموشنل ویمپائرز وہ لوگ ہیں جو دوسروں کا خون چوسنے کے بجائے ان کی پازیٹو انرجی، امنگ، قوت عمل اور امید کو کھینچ لیتے ہیں۔ اس اصطلاح کو سمجھنے کے بعد ہہ ادراک ہوا کہ یہ سب کردار ایموشنل ویمپائرز ہی تھے۔

اس کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی تو یہ اندازہ ہوا کہ ”ایموشنل ویمپائرز“ والا معاملہ پاکستان جیسے ممالک میں بہت زیادہ ہے۔ ہمارے ہاں جوائنٹ فیملی سسٹم ہے، جس میں خاندان کے کئی لوگوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی برداشت کرنا پڑتا ہے، چھوٹے گھروں میں تو خاص طور پر چھپنے کی جگہ بھی نہیں ہوتی، جہاں کچھ وقت کے لئے پناہ مل سکے۔ دوسری بڑی وجہ تعلیم اور تربیت کا فقدان ہے۔ کم پڑھے لکھے لوگوں سے کیاشکوہ کریں، یہاں تو اچھے بھلے پڑھے لوگ بھی دوسروں کے معاملات، ان کی پرائیویسی میں دھڑلے سے مداخلت کرتے ہیں۔ کس نے کیا کپڑے پہنے، کیا ہیر سٹائل ہے، وزن زیادہ یا کم، کون سے مضمون پڑھنے ہیں، اپنی زندگی کے لیے کون سا کیرئیر منتخب کرنا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب نہایت ذاتی معاملات ہیں اور ہر آدمی کی پرائیویسی میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ ایموشنل ویمپائرز مگر ایسی کسی اخلاقی پابندی ، حدود کے پابند نہیں۔ جہاں اور جسے جی چاہا اس پر حملہ آور کر دیا۔ اس کی عزت نفس، خود اعتمادی پاش پاش کر دی۔ اسے باور کرایا کہ تم تو کچھ نہیں کر سکتے، تم میں تو اس کی صلاحیت ہی نہیں وغیرہ۔

یہ بھی پڑھیں:   طلباء میں ڈیپریشن : وجوہات اور علاج - حافظ محمد زبیر

سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا کا تجزیہ کریں تو یہاں بھی اس طرح کی مخلوق جگہ جگہ نظر آئے گی۔ میڈیا کا میں کچھ نہیں کہتا کہ بہت سے لوگ خواہ مخواہ سمجھ بیٹھیں گے کہ ہمیں ہدف بنایا ہے۔ قارئین خود تجزیہ کرسکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر البتہ ایموشنل ویمپائرز کے جتھے دیکھے ہیں۔ ہر دوسری وال پر کوئی ویمپائر بیٹھی دانت تیز کرتی دکھائی دے گی۔ ایک سے ایک مایوس کن تبصرہ، منفی تبصرے، تاریک منظرنامے کی پیش گوئیاں ملیں گی۔ ان کے سٹیٹس، کمنٹس کا نچوڑ یہی ہوگا کہ یہاں کچھ اچھا نہیں ہونا اور ملک برباد ہوچکا ہے، ملک میں حکمران آنے والا ہر شخص لٹیرا اورتمام سرکاری ملازم چور ہیں۔ ( تحریک انصاف، ن لیگ کی سیاسی تقسیم سے ہٹ کر بات کر رہا ہوں، براہ کرم اسے سیاسی پولرائزایشن کے تناظر میں نہ دیکھیے گا۔) بہت کم لوگ مثبت، اصلاحی، امید سے پر تحریریں لکھتے ملیں گے۔ جن کے پاس کوئی نیا آئیڈیا، تجویز یا پلان ہو، جو صرف تنقید کر کے وقت گزارنے کے بجائے عمل پر اکساتے ہوں اور ان کی تحریر پڑھنے کے بعد آپ اپنے اندر نئی توانائی محسوس کریں۔ ایسے اجلے، مثبت لوگ ہیں، خاصے ہیں، مگر ایموشنل ویمپائرز کی تعداد بھی کم نہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ جہاں کوئی مایوس کن واقعہ ہوا، ان ویمپائرز نے فرسٹریشن کا نل کھول دیا، کچھ ہی دیر میں اس مایوسی، غیر یقینی اور خودترسی کے جراثیم ہر جگہ پھیل جاتے ہیں۔ کہیں کسی بدبخت نے معصوم بچے کو درندگی کا نشانہ بنایا تو ایموشنل ویمپائرز نے یہ بات پھیلانا شروع کر دی کہ ہماری قوم تو ہے ہی ایسی، ہمیں تو زندہ رہنے کا حق ہی نہیں۔ کہیں کسی مظلوم کو پولیس یا سرکاری اہلکاروں نے نشانہ بنایا تو پھر ایک نئے انداز سے یہ مایوسیاں اور تاریکیاں بانٹنا شروع ہو جائیں گی۔ کوئی ان سے نہیں پوچھتا کہ بیس کروڑ آباد ی کا ملک ہے، جس کی مختلف تہیں، پرتیں ہیں، ایک جگہ کا ماحول دوسرے سے مختلف ہے۔ جہاں کہیں غلط ہو، اس کی نشان دہی ضرور کرو، احتجاج کرو، مظلوم کا ساتھ دو، مگر یہ سب کچھ قوم پر لعنت ملامت کیے بغیر بھی ہوسکتا ہے۔ انٹرنیٹ پر تھوڑی تلاش کی جائے تو ان ایموشنل ویمپائرز سے بچنے کے مختلف گر، تکنیک بتائی گئی ہیں۔ اپنی مثبت بیٹری خالی کرنے والی ان ویمپائرز سے فاصلہ رکھیں، جہاں رابطہ ناگزیر ہو، وہاں حکمت سے ہینڈل کریں۔ایک نصیحت تمام ماہرین نے کی کہ اپنے آپ پر یقین رکھیں، اعتماد نہ گرنے دیں اور مضبوطی مگر شائستگی سے بے جا مداخلت کرنے والے کو بتا دیں کہ آپ ان کی منفی باتوں میں دلچسپی نہیں رکھتے اور بن مانگے مشورے دینے کی زحمت نہ فرمائیں۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بہت ہی عمدہ کالم لکھا گیا ہے، یہ حقیقت ہے کہ ہم میں سے ہر دوسرا بندہ ایموشنل ویمپائر ز سے متاثر ہوا ہے۔