پاکستان اور پانی - حافظ یوسف سراج

کچھ باتیں آپ کو حیران کر دیتی ہیں اور اگر آپ میں سوچ و فکر کا مادہ ہو تو پریشان بھی۔ فرض کریں بہت ٹھونک بجا کے آپ اپنے لیے ایک با صلاحیت ، با اعتماد اور مہنگے ڈاکٹر کا انتخاب کرتے ہیں۔ اپنی صحت کی ساری ذمے داری آپ اسے سونپ دیتے ہیں ،صحت کے حوالے سے آپ اپنا سب کچھ اس کے اختیار میں دے دیتے ہیں ،یہاں تک کہ اپنی مالیات بھی۔ تقاضا آپ کا بس یہ ہے کہ وہ جو چاہے کرے مگر آپ کی صحت کا بخوبی خیال رکھے۔ بات طے ہو جاتی ہے ۔ وہ ڈاکٹر آپ کی عطا کردہ ساری سہولیات استعمال کرتا ہے۔ وہ ہر وقت آپ کو خوش اور تروتازہ رکھتاہے ،وہ آپ کے لیے جوسز اور غذاؤں کے انتخاب میں بڑی پھرتی اور سرگرمی دکھاتا نظر آتا ہے۔ آپ مطمئن اور شاد ہو جاتے ہیں ۔ البتہ ایک دن پھر ایسا بھی آتا ہے کہ جب اچانک وہ یہ اعلان فرما دیتا ہے کہ آپ انتہائی خطرناک موذی مرض کا شکار ہو چکے ہیں اور اب اگر آپ کو زندہ رہنا ہے تو ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہونے کے بعد انتہائی ہنگامی نوعیت کے کئی ایک اقدامات کرنا ہوں گے ، ورنہ اللہ کے فضل و کرم سے آپ کے قبر میں اترنے کو کوئی ڈاکٹر تو کیا ، دنیا کی کوئی طاقت بھی نہیں روک سکتی۔ یہ ہوشربا اطلاع سن کر یقینا آپ صدمہ سے سن ہو جائیں گے ۔آپ کو سوچنا پڑے گا کہ کیا اسی ایک اعلان کے سننے کے لیے آپ نے اس ڈاکٹر کی شہ خرچیاں اور ناز و نخرے برداشت کیے؟

اس دن آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ڈاکٹر بس آپ کے میک اپ مین جتنی خدمات ہی سر انجام دیتا رہا، اس کے سوا اس نے دوسری کوئی خدمت سرانجام نہیں دی۔ بے شمار بیماریاں اس کے علم میں تھیں ، ان کا علاج کرنے کے بجائے ، ڈاکٹر صاحب کا کردار مگر صرف یہ رہا کہ وہ جگر پر طاری ہونے والی بیماری کا اثر چہرے پر ظاہر نہ ہونے دے۔ ہڈیوں میں اترتے کینسر کو وہ طاقت کی گولیوں سے دباتا رہے۔ پگھلتے پھیپھڑوں کے علاج کے بجائے وہ سٹیرائیڈ کے ذریعے آپ کو چلتا پھرتا دکھاتا رہے۔ شاید آپ اس ڈاکٹر کو کبھی معاف نہ کر سکیں ، غفلت نہیں یہ پیشہ ورانہ طور پر مجرمانہ سرگرمی کہلائے گی۔ شروع میں جب اچانک ہمارے معزز چیف جسٹس صاحب نے ایک دن ڈیم بنانے کا اعلان کیا تو ہم حیرت زدہ رہ گئے۔ کیونکہ ہمارا تجربہ تھا کہ معزز چیف جسٹس کے لیے خود ان کے اپنے ادارے میں بہت کام باقی ہے، چنانچہ وہ کس طرح ڈیم بنانے کی طرف اپنی قیمتی توجہ مبذول کر سکتے ہیں۔ اس پر لیکن جب حقائق سامنے آئے تو حیرت کو بھی شدید صدمہ پہنچا۔ یہ واقعی چیف جسٹس کا کام نہ تھا، مگر صورتحال عین ایسی ہوگئی تھی کہ کسی ایک کو تو بہر حال بولنا چاہیے تھا، یہ کچھ ایسی ہی صورتحال تھی کہ مثلاً چیف جسٹس کسی بچے کو کنویں میں یا آگ میں جاتے ہوئے دیکھ رہے ہوں اور یہ بھی دیکھ رہے ہوں کہ ایسا ہوتے بچے کے والدین بھی خاموشی سے دیکھ رہے ہیں تو کیا محض اس بنیاد پر چیف جسٹس کو چپ رہنا چاہیے؟ بچے کو کھائی میں گرنے دینا چاہیے؟ ہرگز نہیں ، ضرور چیف جسٹس کو چلا کے بچے کو خبردار کرنا چاہیے کہ تم کھائی سے ٹھیک ایک لمحے کی دوری پر ہو۔ یہاں تو بات ایک بچے کی نہیں ایک قوم کی تھی۔

خدا اس ملک کے ناخداؤں کو عقل دے۔ اعداد و شمار، اور یہ ہمارے اپنے اداروں کے نہیں ، عالمی اداروں کے اعدادو شمار، جو ازراہِ کرم انھوں نے ہمیں مرحمت فرما دیے ہیں، وہ ہلا کے رکھ دینے والے اعداد و شمار ہیں۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کسی صد ی کی نہیں ، پانی کے کربلا کا سامنا کرنے کی مہلت ہمارے پاس صرف چھ سے سات سال کی باقی رہ گئی ہے۔ یعنی جب ہم وہ لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس سکتے ہیں، جن کے پاس خوفناک سیلاب کے طوفان اٹھا دینے جتنا وافر پانی موجود ہے۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ ، ہمارا واپڈا جس کی تصدیق کرتا ہے، کے مطابق پچھلے تیس سال سے ، ہر سال ہم پورے اکیس ارب امریکی ڈالروں جتنی مالیت رکھتا پانی سمندر میں بہا دیتے ہیں۔ یعنی ایک بے پناہ اور سنگدلانہ غفلت سے اپنی تقدیر پانی میں گھول رہے ہیں۔ پانی کی ذخیرہ اندوزی کے عالمی پیمانے کے مطابق کسی بھی ملک کے پاس اپنی ضرورت کے مطابق ایک سو بیس دنوں جنتا پانی موجود رہنا چاہئے۔ ہم نے اگرچہ بڑے پل بنائے اور بہت سڑکیں بھی بنائیں، مگر ہم پانی صرف تیس دنوں کا ذخیرہ کرنے کے قابل ہو سکے ہیں۔ ایوب خان کے بعد اور منگلا اور تربیلا کے بعد گویا اپنی لائف لائن کے لیے ہماری کل یہی کمائی ، یہی سنجیدگی اور یہی تدبر ہے۔ بھاشا ڈیم کی آواز ایک ایسے وقت میں اٹھائی گئی، کہ جب ہم پانی کے ہاتھوں غرقاب ہونے ہی والے تھے۔ اس پر چیف جسٹس کا اس قوم کو شکریہ ادا کرنا چاہئے، اس لمحے کا بھی جس میں چیف جسٹس کو اس گھمبیرتا کا ادراک ہوا اور انھوں نے پکارنے کا فیصلہ کیا۔ ایسا نہیں کہ گذشتہ حکومتوں کو اس سنگینی کا ادراک نہ ہو سکا، کہنا چاہئے احساس نہ ہو سکا۔ مثلا اس ڈیم کے متعلق پرویز مشرف حکومت سے لے گذشتہ حکومت تک سب نے کچھ نہ کچھ کام کیا، نواز حکومت نے سب سے زیادہ ، جس طور مگر چاہئے تھا، اس طور ہر گز نہیں۔اس ایک ڈیم سے ناصرف پاکستان کے لیے پانی کی ذخیرہ اندوزی میں اضافہ ہوگا، بلکہ اس وقت جتنا پاکستان کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے ، یعنی چار سے چھ ہزار میگا واٹ بجلی کا اس کے قریب قریب یعنی ساڑھے چار ہزار میگا واٹ بجلی بھی حاصل ہو سکے گی۔ مزید برآں اس سے تربیلا میں گرتی مٹی میں کمی آنے سے اس کی عمر میں بھی اضافہ ہو سکے گا۔ آخری بات یہ کہ یہ ہماری زندگی ، قومی زندگی کا معاملہ ہے ، مذاق کا ہر گز نہیں۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.