نبی کریم ﷺ بحثیت تاجر - اورنگزیب

تجارت ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ کا انتظام و انصرام چلانے کے لئےانتہائی ناگزیر و ضروری ہے۔اﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ نے اسے اﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﺷﯽ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ پوﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏاہم ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ صلی اللہ علیہ وسلم ﻧﮯ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮐﻮ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺫﺭیعہ قرار دیا۔ حضور علیہ السلام ایک ماہر معلم،منتظم ، فاتح ، لیڈراور عظیم سپہ سالار ہونے کے ساتھ بے مثال تاجر بھی تھے۔ آپ علیہ السلام کی ذات مبارکہ کا ہر پہلو بنی نوع انسان کے لیے ہدایت و رہنمائ کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالی نے آپ کو رحمت للعالمین بنا کر مبعوث فرمایا ، اور آپ کےذندگی کو اسوہ حسنہ قرار دیا۔

تاریخ کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عرب قبائل کا ذیادہ تر رجحان تجارت کی جانب تھا۔ خصوصا قبیلہ قریش جو بعض وجوہات کے سبب قبائل میں بلند مقام رکھتے تھے, تجارت کی غرض سے دور دراز کا سفر کیا کرتے تھے۔ اور اپنی تجارت کو مزید ترقی دینے کے لئیے مختلف قبائل سےحفاظتی معاہدے کر رکھے تھے۔ اسطرح بلا روک ٹوک بیرون ممالک میں تجارتی سامان کی آمدورفت جاری رہتی تھی۔ قرآن پاک میں ''ایلاف قریش" اسی جانب اشارہ ہے۔

خاندان قریش کے ﺟﺪِ ﺍﻣﺠﺪ ﻗﺼّﯽ ﻧﮯ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮐﻮ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﺗﮏ پھیلایا۔ بلارﻭﮎ ﭨﻮﮎ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﺮﻭﺍﻧﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺌﮯ۔ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯچچا حضرت زبیر اور حضرت ابو طالب بھی تاجر تھے۔ یوںﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ نےبھی خاندانی پیشہ تجارت کو ہی منتخب فرمایا۔ آپ علیہ السلام کے والدین اور دادا ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻤﻄﻠﺐ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﭼﭽﺎ ﺍﺑﻮ ﻃﺎﻟﺐ ﮐﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﮨﻮئی ، جن کا پیشہ ﺗﺠﺎﺭﺕ تھا اوردﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻣﺎﻝ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﻣﯿﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﭘﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﻗﻠﯿﻞ ﺍٓﻣﺪﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﻤﺸﮑﻞ ﮔﺰﺭ ﺑﺴﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ نبی ﷺ ﻧﮯ ﭼﭽﺎ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﭩﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﭘﺮ ﺍﮨﻞ ﻣﮑﮧ ﮐﯽ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﭼﺮﺍﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ بھی ﮐﯿﺎ۔

12 سال کی عمر میں آپ علیہ السلام نے چچا ابو طالب کے ہمراہ شام کا سفر کیا۔ یہ ابتدائ اور تجرباتی سفر تھا۔ آپ علیہ السلام نے نہایت امانتداری،راست بازی، حسن معاملہ اور خوش اخلاقی سے تجارت فرمائ ۔ بہت جلد آپ لوگوں میں "صادق و امین" کے لقب سے مشہور ہو گئے تھے ۔ یوں ہر مالدار اور بڑے تاجر چاہنے لگے کہ آپ ان کے سرمایہ سے تجارت کریں۔آپ نے قیس بن سائب مخزومی کے سرمائے سے تجارت کی،اور ایک بہترین شریک تجارت کہلائے۔

آپ علیہ اسلام اپنے اوصاف حمیدہ کی بنا پر مشہور ہو چکے تھے۔ جس کے چرچے مکہ کی مالدار خاتون حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی سن چکی تھیں۔ انھیں اپنی تجارت کو پروان چڑھانے کے لئیے امانت دار شخص کی ضرورت تھی ۔

حضرت خدیجہ نے حضور علیہ السلام کو اپنا سامان تجارت شام لیکر جانے اور دوگنی اجرت دینے کی پیشکش کی۔ آپ علیہ السلام نے اسے منظور فرمایا اور مال تجارت شام لے گئے۔ جہاں آپ نےدیانتداری سے تجارت فرمائ،اور دو گنا منافع کمایا۔ اسی سچائ اور دیانتداری کے سبب آپ علیہ السلام کو نکاح کا پیغام بھی ارسال کیا۔ 25 سال کی عمر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ شادی کے بعد خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنا سارا مال حضور کے قدموں میں نچھاور کر دیا۔ ﻣﮕﺮ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺎﻝ ﻏﺮﯾﺒﻮں ، ﺑﯿﻮﺍﻭٔﮞ ﺍﻭﺭ ﯾﺘﯿﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻣﺪﺍﺩ ﭘﺮ ﺻﺮﻑ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻌﺎﺵِ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮐﻮ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﺎ۔ آپ نےمختلف ممالک کے تجارتی سفرفرمائے جن میں شام، بصرہ، بحرین، یمن اور مدینہ شامل ہیں۔ آپ مختلف میلوں میں سامان لے کر جایا کرتےتھے۔ جب آپ علیہ السلام کو اللہ تعالی نے 40 سال کی عمر میں نبوت سے سرفراز فرمایا تو آپ نے تجارت سے کنارہ کشی اختیار فرمالی۔ اور مکمل یکسوئی کے ساتھ دین اسلام کی ترویج و اشاعت میں مصروف ہو گئے۔

آپ علیہ السلام نے تجارت کے نہایت اعلی و بے مثال اصول وضوابط مقرر فرمائے۔ تجارتی امور میں سچائی،دیانت داری، نرمی،بھلائی اور حسن اخلاق کی تلقین فرمائی۔ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﺒﯽ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﻭ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﺫﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮨﮯ، ﺩﺭﺟﺎﺕ ﺑﯿﺎﻥ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﺗﺮﯾﻦ ﮨﮯ؟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ''ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺮﺣﻼﻝ ﻭ ﺟﺎﺋﺰ ﺑﯿﻊ۔‘‘

‏مزیدارشاد فرمایا:
'' ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺭﻭﺯ ﺗﺎﺟﺮ ﻓﺠﺎﺭ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ سوائے ﺍﺱ ﺗﺎﺟﺮ ﮐﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﻣﯿﮟ ﺧﺪﺍﺗﺮﺱ ﺭﮨﺎ، ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺣﺴﻦ ﺳﻠﻮﮎ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺮﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﭽﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺩﺍمن ﺗﮭﺎﻣﮯ ﺭﮐﮭﺎ۔‘‘

‏اسی طرح ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢﻧﮯﺧﺮﯾﺪ ﻭ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺴﻤﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
’’ ﺇﯾﺎﮐﻢ ﻭﮐﺜﺮۃ ﺍﻟﺤﻠﻒ ﻓﻲ ﺍﻟﺒﯿﻊ ﻓﺈﻧﮧ ﯾﻨﻔّﻖ ﺛﻢ ﯾﻤﺤﻖ‘‘ ﺑﯿﻊ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺴﻤﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﺣﺘﯿﺎﻁ ﺑﺮﺗﻮ؛ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺎﻝ ﺗﻮ ﺑﮏ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺑﺮﮐﺖ ﺟﺎﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔

سچے تاجروں کا صلہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ''امانت دار اور راست باز تاجر قیامت کے دن صدیقین اور شہدا کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔''
ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﺍﺣﺴﻦ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﻧﻔﻊ ﻣﻨﺪ ﻣﺎﻝ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮨﮯ۔ اورﺍﺭﺗﮑﺎﺯ ﺩﻭﻟﺖ،ذخیرہ اندوزی ﮐﯽ ﮨﺮ ﺷﮑﻞ ﮐﯽ ﻣﺬﻣﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﻮﻝ ﻭﻓﻌﻞ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮨﮯ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم وعدوں کو پورا فرماتے تھے۔ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﺳﺎﺋﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺟﺎﮨﻠﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﺮﯾﮏ ﺗﮭﮯ۔ ﮐﺘﻨﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺷﺮﯾﮏ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻧﮧ ﺷﻮﺭ ﺷﺮﺍﺑﮧ ﮐﺮﺗﮯ، ﻧﮧ ﮨﯽ ﺑﺤﺚﻭﺗﮑﺮﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺟﮭﮕﮍﺍ۔

ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻣﻼﻭﭦ ﺩﺟﻞ ﻭ ﻓﺮﯾﺐ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﻮﮐﮧ ﺩﮨﯽ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻗﺴﻢ ﮐﻮ ﻣﻨﻊ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ۔

ﮐﺴﯽ ﻋﯿﺐ ﺩﺍﺭ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﻋﯿﺐ ﮔﺎﮨﮏ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺳﮯ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
'' ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﯿﺐ ﺩﺍﺭ ﭼﯿﺰ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﺎﮨﮏ ﮐﻮ ﻣﻄﻠﻊ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮ ﺩﮮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻟﻌﻨﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ''

ﻧﺎﭖ ﺗﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﺑﯿﺸﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺨﺖ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﯽ ﻭﻋﯿﺪ ﺳﻨﺎﺋﯽ۔ ﺍٓﭖ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺎﺯﺍﺭ تشریف لے جا کر ﺍﻭﺯﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ.

آپ علیہ السلام کا ارشاد ہے ''ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ۔ ''

موجودہ دور کے ﺗﺎﺟﺮ ﺍﮔﺮ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﯽ ﺣﺪﻭﺩ ﻭ ﻗﯿﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﮐﺮ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے مطابق ﺭﺯﻕ ﺣﻼﻝ ﮐﯽ ﻧﯿﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮐﺮیں ﺗﻮ دنیا و آخرت میں کامیابی سے ضرور ہمکنار ہوں گے۔