پاکستان میں کالم نگاری - امجد طفیل بھٹی

پاکستان میں لکھنے والوں کو ہمیشہ تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اگر کوئی فوج کے حق میں لکھے تو وہ آمریت کا حمایتی کہلاتا ہے ، اگر کسی ایک سیاسی پارٹی کے حق میں لکھے تو جھکاؤ کا طعنہ اور اگر حکومت کے حق لکھے تو لفافہ یافتہ کہلانے کا سہرہ اپنے سر لینا پڑتا ہے۔ سالہا سال بلکہ بیشتر اوقات عشروں تک مفت میں اخبارات اور ویب سائیٹس کے لیے لکھ لکھ کر اس آس پہ وقت گزارنا پڑتا ہے کہ کبھی تو ہم بھی paid کالمسٹ بن جائیں گے۔یہ ہمارے پرنٹنگ میڈیا کا المیہ ہے کہ اس کے تو اپنے ملازمین مہینوں مہینوں تنخواہ کا انتظار کرتے ہیں اور تین چار مہینے بعد ایک مہینے کی تنخواہ ہی مقدر بنتی ہے۔ جب اپنے مستقل ملازمین کا یہ حال ہو وہاں پر اعزازی لکھنے والے جو کہ میلوں دور سے اپنی تحاریر اخبارات کو ارسال کرتے ہیں انکو کچھ ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ کئی لکھاری تو باقائدہ طور پر مختلف اخبارات اور ویب سائیٹس کے مصنفین کی لسٹ میں شامل ہونے کے باوجود بھی کسی بھی قسم کی اجرت کے حقدار نہیں ٹھہرتے۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں صحافت ایک مشکل ترین کام ہے اور اس کام کو سرانجام دینے کے لیے ہر قدم پھونک پھونک پر رکھنے کی ضرورت ہے بالکل اسی طرح یہاں کالم نگاری بھی ایک مشکل ترین کام ہے کیونکہ تحریر لکھتے وقت ہر بات ذہن میں رکھنی پڑتی ہے کہ کوئی لفظ کسی بڑے سیاستدان ، افسر ، عدالت یا کسی ادارے کو برا نہ لگ جائے۔ حقیقی معنوں میں ابھی تک پاکستان میں آزادء صحافت پر عمل درآمد نہیں کرایا جا سکا ہے ، شاید اسی وجہ سے یہاں ہر روز کسی نہ کسی صحافی کو زدوکوپ کیا جاتا ہے یا پھر جان سے مار دیا جاتا ہے۔

یہاں پہ ذکر چونکہ کالم نگاری کا ہورہا ہے تو کالم لکھنے والوں کے لیے کالم لکھنا اتنا مشکل کام نہیں ہوتا جتنا کہ کسی بڑے اخبار تک رسائی مشکل کام ہے۔ بعض اوقات بلکہ بیشتر اوقات تو ‘‘ جان پہچان ‘‘ ہی کام آتی ہے کیونکہ جب کسی کالم نگار کا کوئی جاننے والا کسی اخبار کے دفتر میں بیٹھا ہو تو پھر اس کا کالم پبلش ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے لیکن جس لکھنے والے کی کسی اخبار میں واقفیت نہ ہو تو پھر اسکے لیے اپنے کالم کی جگہ بنوانا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ بیسیوں کالم بھیجنے کے بعد اگر کسی اخبار کے ایڈیٹر کے دل میں آ جاتا ہے تو پھر اس کے کالم کو جگہ مل جاتی ہے ، بس اسی آس پر کہ آئندہ بھی اس کا کالم پبلش ہوگا مذکورہ کالم نگار مزید محنت سے لکھنا شروع کردیتا ہے لیکن پھر بھی حوصلہ افزا نتائج حاصل نہیں ہوتے ، بلکہ کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے لکھنے والے مایوس ہوکر لکھنا ہی چھوڑ دیتے ہیں کہ جب پبلش ہی نہیں ہونا تو پھر وہ لکھے ہی کیوں ؟
آج کل چونکہ مفاد پرستی اور کھینچا تانی کا دور ہے تو بعض اوقات کسی بھی اچھے لکھاری کے حاسدین بھی اس کا رستہ روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں بلکہ کئی بار تو اگر کسی اخبار میں کسی نئے کالم نگار کے کالم پبلش ہو بھی رہے ہوتے ہیں تو انکو بھی رکوا دیا جاتا ہے اور ہر اس اخبار میں جس میں حاسدین کی جان پہچان ہوتی ہے کو کہہ دیا جاتا ہے کہ اس کالم نگار کا کالم آپکے اخبار میں نظر نہیں آنا چاہئیے۔ یہ امر انتہائی افسوس ناک ہے کہ جب کوئی بھی شخص کسی بھی شخص کا مقابلہ نہیں کر سکتا تو پھر دوسرے ذرائع سے اس کا رستہ روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے جو کہ حاسدین کے لیے وقتی تسلی کا باعث تو بن سکتی ہے لیکن اندر ہی اندر اپنے آپ کو جلائے رکھنا ہی حاسدین کا مقدر بنتا ہے۔

لکھنے والوں کا استحسال نہ جانے کب تک جاری رہے گا ؟ اس بات کا اندازہ لگانا بہت مشکل کام ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں کالم نگاری کو باقائدہ پیشہ نہیں بنایا جا سکتا ہے کیونکہ اگر کوئی لکھنے والا صرف اور صرف مفت میں اخبارات اور ویب سائیٹس کے لیے لکھتا رہے گا تو اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کیسے پالے گا ؟ اسی لیے آج ہمیں جو بھی قابل ذکر کالم نگار نظر آتے ہیں وہ مختلف اخبارات سے منسلک ہیں کی تعداد بہت ہی کم ہے جبکہ اْن کالم نگاروں کی تعداد سینکڑوں میں ہے جو کہ اعزازی طور پر لکھتے ہیں۔جہاں تک نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کا تعلق ہے تو پاکستان میں ابھی بھی ایسے بہت سارے اخبارات ہیں جو کہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی خاطر ان کی تحاریر کو اپنے اخبار میں جگہ دیتے ہیں اور یہ ایک بہت مثبت پہلو ہے جس سے نئے لکھنے والوں کو مزید لکھنے کی جستجو پیدا ہوتی ہے۔اور یوں نہ صرف اچھے لکھاری اپنا کام جاری رکھتے ہیں بلکہ معاشرے کے زیادہ سے زیادہ مسائل منظر عام پر آتے ہیں۔ جبکہ پاکستان کے چند ایک بڑے اخبارات جو کہ پچھلے پچاس ، ساٹھ سالوں سے کام کر رہے ہیں ان میں تو چند ایک گنے چْنے نام ہی ہیں جو کہ مسلسل لکھتے جا رہے ہیں اور نئے لکھاری ان اخبارات میں جگہ بنانے میں کامیاب بھی اسی لیے نہیں ہوپاتے کیونکہ ‘‘ بڑے لکھاری ‘‘ نہیں چاہتے کہ اْن کی اجارہ داری ختم ہو۔

ہمارے ملک کے نامی گرامی اخبارات کے نامی گرامی کالم نگار اس قدر غرور میں مبتلا ہیں کہ برسہا برس سے اپنے لوگو کے نیچے اپنا ای میل ایڈریس لکھنے کے باوجود بھی عام آدمی کی ای میل کا جواب تک نہیں دیتے۔

اپنے ملک کے بڑے بڑے اخبارات چونکہ بہت لمبے عرصہ سے کام کر رہے ہیں اس وجہ سے ہر میڈیا گروپ کسی نہ کسی سیاسی پارٹی کی جانب جھکاؤ رکھتا ہے اسی لیے ہر بڑا اخبار اْن مخصوص لوگوں کی تحاریر کو ہی پبلش کرتا ہے جو کہ ان کے مفادات کا تحفظ کررہا ہو اور اپنے پسندیدہ سیاستدان یا سیاسی پارٹی کے خلاف لکھی گئی تحاریر کو ردی کی ٹوکری کے نذر کر دیتا ہے۔ چونکہ نئے لکھنے والے نیوٹرل ہو کر لکھ رہے ہوتے ہیں یعنی کہ ہر کسی کی خامیوں اور غلطیوں کو منظر پر لانے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں اس لیے بڑے میڈیا گروپ کے اخبارات ان کو مسلسل نظر انداز کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے نوجوان لکھاریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

Comments

Avatar

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */