اسلام اور چھٹی کا تصور - محمد اسماعیل ولی

دور حاضر میں "اتوار" اور ''ہفتہ" عالمی طور پر چھٹی کے دن کے طور پر مناے جاتے ہیں۔ مذہبی طور پر اتوار کے دن چھٹی کا تصور عیسائی عقیدے کے مطابق بائبل میں اس آیت سے ہے کہ چھ دن تخلیق کائنات پر کام کرنے کے بعد خداوند کو (نعوذ باللہ) آرام کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اب یہ بات طے نہیں کہ خداوند کو ہفتے کے دن چھٹی کی ضرورت محسوس ہوئی، یا اتوار کے دن، کیونکہ عیسائیوں کے مطابق 'اتوار" ہے، لیکن یہودیوں کے مطابق "ہفتہ" ہے۔

اس کے برعکس قرآن و حدیث میں چھٹی منانے کا کوئی لطیف اشارہ موجود نہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خدا جس کو آرام کی ضرورت محسوس ہو، خدا ہی نہیں ہو سکتا، اور یہ بات آیت الکرسی میں واضح کی گئی ہے۔ اس آیت میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ خدا کی ذات مکانی اور زمانی قیود و اثرات سے ماورا ہے۔ وہ "حی" اور "قیوم" ہے، اس کو نیند آتی ہے نہ اونگھ، کیونکہ نیند اور اونگھ تھکاوٹ کی علامات ہیں۔ انسان مخلوق ہے، اور مخلوق مکان و زمان میں مقید ہے، کام کرکے انسان تھک جاتا ہے، اس لیے اسے آرام کی ضرورت ہے۔

چونکہ چھٹی کی بات بائبل میں موجود ہے، اس لیے عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے اس کی بہت اہمیت ہے۔ چونکہ کاروباری دنیا پر ان کا قبضہ ہے، اس لیے چھٹی کے دنوں پر بھی ان کا قبضہ ہے۔ اسلام میں اگر چہ جمعہ کے دن کے فضائل بیان ہوئے ہیں، لیکن اس بات کا اشارہ کہیں موجود نہیں کہ جمعہ کو آرام کرنا یا چھٹی منانا کوئی خدائی ہدایت ہے، بلکہ سورہ جمعہ میں چھٹی یا آرام پر نہیں بلکہ کام پر زور دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
''اے ایمان والو! اگر جمعہ دن نماز کے لیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو، اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جان لو۔ جب نماز سے فارغ ہو جاؤ تو زمین میں پھیل جاؤ، اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ فلاح پاؤ۔''
اس آیت میں کہیں چھٹی کی طرف کوئی اشارہ موجود نہیں۔ نماز سے پہلے خرید و فروخت چھوڑنے کی بات ہے، اور نماز کے بعد بھی رزق کی تلاش میں پھیلنے کا ذکر ہے۔

واضح ہوا کہ ہفتے میں ایک دن چھٹی کا تصور یہودیت اور عیسائیت میں تو واضح طور پر موجود ہے، لیکن اسلام میں ا یسا کوئی تصور موجود نہیں۔ بدھ مت تہواروں کا ذکر ضرور موجود ہے، جن کا تعلق قمری دنوں سے ہے، اسی طرح مجوسیت میں بھی تہواروں کا ذکر پایا جاتا ہے، لیکن "خدائی چھٹی" کا تصور نہیں ملتا۔

اسلام میں جمعہ کے دن کی چھٹی کب سے شروع ہوئی، میرے لیے تحقیق طلب ہے، تاہم ایک محتاط اندازہ یہ ہے کہ اس چھٹی کا تعلق بچوں سے ہے۔ شاید اساتذہ کرام بچوں کو چھٹی دے کر جمعہ کی تیاری کرتے تھے، ہوتے ہوتے یہ چھٹی ایک ضروری رسم بن گئی۔ فقہ کی کتابیں بھی اس بات پر خاموش ہیں کہ اس چھٹی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور نہ کسی بڑے فقیہ نے اس پر بحث کی ہے۔ پیغمبر کی زندگی سے بھی یہ بات واضح نہیں کہ آپ یا صحابہ کرام جمعہ کے دن چھٹی کرتے تھے۔ البتہ یہ بات ثابت ہے کہ پیغمبر ؑ فارغ اوقات ضرور گزارتے تھے، مگر ان کا تعلق کسی خاص دن سے نہیں۔ اس تناظر میں کسی ایک دن کو چھٹی کے لیے مخصوص کرنا اور اس دن گھر پر یا ٹی وی کے سامنے بیکار وقت گزارنا اسلامی کے بنیادی اصولوں کے منافی لگتا ہے، خاص کر اس معاشی دوڑ کے زمانے میں۔ چھٹی کا مقصد بیکار وقت گزارنا ہے، اور بیکار وقت گزارنا مؤمن کا شیوہ نہیں۔

اقبال کو مسلمانوں کی کاہلی، سستی، بیکاری اور آرام پرستی کا بھر پور احساس تھا، اس لیے اس کی شاعری جہد مسلسل کا پیغام دیتی ہے، اور مسلمانوں کو کام پر ابھارتی ہے۔


یہی عین قدرت ہے، یہی اسلوب فطرت ہے

جو ہے راہ عمل میں گامزن، محبوب فطرت ہے

یہ زور دست و ضربت کاری کا ہے

مقام میدان جنگ میں نہ کر طلب نوائے چنگ

جرات ہو نمو کی تو فضا تنگ نہیں ہے

اے مرد خدا، ملک خدا تنگ نہیں ہے

Comments

اسماعیل ولی

بالائی چترال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اسماعیل ولی کی ایم-اے سے لے کر پی ایچ ڈی تک تمام ڈگریاں انگریزی زبان و ادب میں ہے۔ ان کا تحقیقی مقالہ ولیم شیکسپیئر کے ایک طربیے پر ہے جبکہ ایم فل مقالہ میتھیو آرنلڈ کی شاعری پر تھا۔ سرکاری ملازمت سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز، پشاور میں درس و تدریس کر رہے ہیں۔ اسلام، فلسفہ، مغربی ثقافت، نفسیات اور تصوف کا مطالعہ رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.