گھر جنت کا نمونہ کیسے بنے؟ جہانزیب راضی

ازدواجی زندگی سے متعلق سیرت کے واقعات پڑھتا ہوں تو حیران ہوجاتا ہوں۔ آپ کمال ملاحظہ کریں چالیس چالیس دن تک نبی ﷺکے گھر میں کھانے کے لیے سوائے دو کالی چیزوں کے اور کوئی تیسری چیز نہیں ہے، لیکن بیویاں ہیں کہ آپ کا دامن تک چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

رسول خدا ﷺ سے بیچ محفل میں ایک صحابی ؓنے سوال کیا کہ آپ کو سب سے زیادہ کس سے محبت ہے؟ آپ ﷺنے بلاجھجک جواب دیا عائشہؓ سے۔ صحابی ؓنے پوچھا میرا مطلب تھا مردوں میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس کے باپ سے۔یہ دونوں جہانوں کے سردار ہیں، ان کے پاس ایک قافلے کے بعد دوسرے قافلے کو پیغام پہنچانے کی فکر دامن گیر ہے، اور دوسری طرف حضرت عائشہ ؓکو آٹا بھی گوندھ کر دیتے ہیں۔ اپنے کندھے پر تھوڑی رکھوا کر "تماشہ "بھی دکھاتے ہیں، کبھی اپنی زوجہ کا سر بھی دباتے ہیں اور کبھی ساتھ میں دوڑ بھی لگواتے ہیں۔

حضرت حفصہ ؓکسی بات پر ناراض ہوگئیں۔ گفتگو کے دوران ان کی آواز ذرا بلند ہوگئی۔ حضرت عمر ؓجو کہ ان کے والد بھی تھے، باہر ہی موجود تھے، بیٹی کی آواز سن کر اندر آگئے، چہرہ غصہ سے سرخ ہوگیا۔ چیخ کر بولے رسول خدا ﷺسے اس لہجے میں بات کرتی ہو؟ آپ حضرت حفصہ ؓکے سامنے آگئے اور فرمایا عمر! یہ میاں بیوی کا معاملہ ہے، تم باہر جاؤ۔ جب حضرت عمر ؓچلے گئے تو آپ نے حضرت حفصہ ؓکی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولے "دیکھا کیسا بچایا؟"

ہمارا معاشرہ اور اس معاشرے کا مرد اپنی بیوی کو پورے خاندان کے سامنے جھڑکنا لازم سمجھتا ہے۔ مرد کی عزت کی "شان" یہ ہے کہ جب تک اماں، بہنوں کے سامنے بیوی کو زور سے ڈانٹ کر بےعزت نہیں کریں گے تب تک مردانگی کا یقین کیسے آئے گا؟ حضرت علی ؓنے فرمایا "جس نے کسی کو اکیلے میں نصیحت کی، اس نے اسے سنوار دیا، اور جس نے کسی کو سب کے سامنے نصیحت کی، اس نے اسے بگاڑ دیا"۔ ہم ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی عورت کو اس کے سسرال والوں کے سامنے بے عزت کریں اور پھر اس سے محبت کی امید رکھیں تو سمجھیں کہ ہم احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔

رسول خدا ﷺ کا حضرت عمر ؓکے گھر کے باہر سے گزر ہوا تو ان کی زوجہ کی آواز آ رہی تھی، وہ حضرت عمر ؓ کی کسی بات پر ناراض ہو رہی تھیں۔ آپ مسکرائے اور مسجد تشریف لے گئے۔ جب حضرت عمر ؓآئے تو آپ ﷺنے مسکراتے ہوئے پوچھا، عمر ؓ! کیا بات ہے آج تمھاری بیگم کی آواز تم پر خاصی اونچی تھی لیکن تم خاموش تھے؟ حضرت عمر ؓنے فرمایا "یارسول اللہ ﷺ! وہ میرے بچوں کی تربیت کرنے والی ہے۔ میں اسے اس کے بچوں کے سامنے بھلا کیسے ڈانٹ سکتا تھا؟"

کہتے ہیں کہ جو اپنی عزت خود نہیں کرتا، معاشرے کی نظر میں بھی بے عزت ہوجاتا ہے۔ جب آپ "بیڈروم "کے جھگڑوں کو فخر جتانے کے لیے ہر کسی کے سامنے ذکر کرنے لگیں گے تو پھر بطور شوہر کون آپ کی عزت کرے گا؟ سب سے بڑا المیہ ہمارے معاشرے کے "بڑوں" کا بھی ہے۔ میں نے یہ سیکھا ہے کہ اگر بزرگی کے ساتھ "حکمت" نہ آئے تو پھر معاشرے اور گھر فساد کے کٹہرے بن جاتے ہیں۔ ہمارے بڑوں کو "بڑا" بننے کا شوق ضرور ہے لیکن بڑا بن کے دکھانے کا شوق نہیں ہے۔ انھیں اپنا "بڑا پن " ظاہر کرنا مشکل لگتا ہے۔ ہم ہمیشہ چھوٹوں سے معافی کی امید رکھتے ہیں، کبھی ان کو معاف کر کے دکھاتے نہیں ہیں کہ معاف کیا کیسے جاتا ہے۔ ان سے اپنی ہر بات منوانا لازم جانتے ہیں لیکن عفو، درگزر، دانائی اور حکمت کے ساتھ ان کی بےصبری کو "ڈیل" کرنا نہیں جانتے ہیں۔ حکمت اتنی بڑی چیز ہے کہ اللہ تعالی قرآن میں اسے "خیر کثیر" فرماتے ہیں اور حضرت لقمان کی تعریف کرتے ہوئے اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے اسے حکمت عطا کی تھی۔

اپنی عمر کے سالوں کو، اپنی سوانح حیات کو بار بار اپنے سے چھوٹے لوگوں کے سامنے تجربے کے نام پر بیان کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ آپ حکمت کے ساتھ معاملات کو سلجھانا سیکھیں۔ اختلافات کو نفرت، بغض اور دشمنی کی شکل دینے کے بجائے احترام دینا سیکھیں۔ ہماری نوجوان نسل میں صبر ختم ہوچکا ہے اور بدقسمتی سے بزرگوں میں حکمت کا فقدان ہے۔ یاد رکھیں اس کائنات کا اصول اللہ تعالی نے بڑا عجیب طے کر رکھا ہے۔ عزت، محبت اور معافی اللہ تعالی کی اس کائنات میں "ڈیمانڈ" سے کبھی بھی نہیں ملتی ہے۔ واصف علی واصف صاحب فرمایا کرتے تھے کہ "لوگوں سے دعا کا مت کہا کرو ، اپنے کرتوت ایسے کر لو کہ لوگ تمھیں دعا دینے پر مجبور ہوجائیں"۔ اور اقبال نے اسی کو یوں بیان کیا ہے کہ
مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
کہ ذرہ خاک میں مل کر گل و گلزار بنتا ہے

اپنے احسانات گنوا گنوا کر اپنے لیے عزت اور محبت مانگنے کے بجائے اپنے درگزر، شفقت اور حکمت کے ذریعے ان "نعمتوں" کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ جس طرح پیسہ کمانا پڑتا ہے ٹھیک اسی طرح عزت "کمانی" پڑتی ہے۔ میں نے بڑھاپے میں بزرگوں کو بالکل تنہا چارپائیوں پر آہیں بھرتے اور کروٹیں بدلتے دیکھا ہے۔ ان کی دس دس آوازوں کے بدلے ان کے بیٹوں، بہو اور پوتوں کو بیزاری سے "جی بولیں" کہتے سنا ہے۔ لیکن آپ یقین کریں مجھے اس پر تعجب نہیں ہے کیونکہ ان کی کڑوی کسیلی باتیں، سامنے والوں کی ہر بات میں مین میخیں نکالنا، گفتگو میں طعنوں کا کثرت سے استعمال اور لکڑیاں توڑتے جملوں کا صلہ بالآخر اسی انداز میں نکلتا ہے۔ لیکن مجھے تعجب بعد والوں پر ہوتا ہے کہ یہ سب دیکھ کر بھی ان کے رویوں میں تبدیلی نہیں آتی ہے۔

ہم "جوائنٹ فیملی سسٹمز" میں رہتے ہیں۔ اپنے بہو ، بیٹوں کے لیے بھی اتنا ہی بڑا دل گردہ کرلیں جتنا بیٹی داماد کے لیے کرلیتے ہیں۔ اگر گھر میں سکون چاہتے ہیں تو پھر صبر، برداشت، عفو، درگذر، حکمت اور محبت کے ساتھ ایک دوسرے سے نباہ کریں۔ گھروں میں تعاون کی فضا پیدا کریں ۔ گھر خودبخود جنت کا نمونہ بن جائیں گے۔