فلورنس، اک شہر دلربا - سید عامر محمود

گئے سال بچوں کی مشہور فلم Mr Peabody & Sherman دیکھنے کا اتفاق ہوا، اس میں کچھ مناظر اٹلی کے شہر فلورنس کے بھی تھے، کافی اچھے لگے، اس شہر کا نام پہلے بھی سُن چکا تھا، تاہم اب انٹرنیٹ سے پڑھنا شروع کیا تو دلچسپی اور بڑھ گئی۔ فرخ سہیل گوئندی صاحب سے ملاقات ہوئی، انہوں نے ہمارا اشتیاق دیکھا تو مُہرثبت کی کہ جانا ہو تو بس فلورنس جائیں۔

یہ خواہش پوری ہوئی اور کچھ عرصہ قبل یورپ کے خوبصورت اور تاریخی شہر فلورنس جانے کا موقع ملا۔ جو خواتین و حضرات سیاحت کا شوق رکھتے ہیں، آرٹ، کلچر اور تاریخ میں دلچسپی لیتے ہیں، انھیں ضرور اس شہر کو دیکھنا چاہیے۔ مائیکل انجیلو، میکاؤلی، گلیلیو اور دانتے کا تعلق اسی شہر سے تھا اور ان مشہور عالم ہستیوں میں سے دانتے کے علاوہ سب کی آخری آرام گاہ بھی یہیں ہے۔ مائیکل انجیلو کا بنایا شاہکار مجسمہ ”ڈیوڈ“ جبکہ world famous پینٹنگ “برتھ آف وینس“ اوفزی (uffizi)گیلری میں آویزاں ہے۔

وینس کی طرح چھوٹا شہر ہونے کی بنا پر فلورنس کو آپ ہمیشہ سیاحوں سے بھراہوا پائیں گے۔ بدقسمتی سے پاکستان اور عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے امراء کی اکثریت آپ کو لندن کی آکسفورڈ سٹریٹ، پیرس کے شانزے لیزے اور نیویارک کےفیفتھ ایونیو پر مصروف شاپنگ نظر آئے گی، تاہم اس طرح کے مقامات کہ جہاں سے کچھ سیکھا جا سکتا ہو، ان کی نظر میں نہیں جچتے ہیں۔

فلورنس تک آپ بذریعہ جہاز، ٹرین اور کار بہ آسانی پہنچ سکتے ہیں۔ میرے ذاتی تجربے میں یورپ میں بالخصوص جہاں تک ممکن ہو ٹرین کے سفر کو اختیار کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ زیادہ آسان، پرلطف اور آرام دہ رہتا ہے۔ مجھے میلان سے نیپلز (Naples) جانے والی ٹرین لینی تھی، جو دو گھنٹے میں فلورنس کے سانتا ماریا ٹرین اسٹیشن پر پہنچ جاتی ہے، جبکہ فلورنس سے اٹلی کا دارالحکومت اور تاریخی شہر روم ایک گھنٹہ 30 منٹ کی مسافت پر ہے۔

فلورنس میں قدم قدم پر آپ کو میوزیم اور آرٹ گیلریز سے واسطہ پڑتا ہے۔ اگر آپ آرٹ اور آرکیٹیکچر سے لگاؤ رکھتے ہیں تو کم از کم تین دن اس شہر کو دیکھنے میں لگیں گے۔ مائیکل انجیلو کا مشہور مجسمہ ”ڈیوڈ“ Accademia آرٹ گیلری میں جبکہ اس کے دو شاندار Replica ٹاؤن ہال کے باہر اور شہر سے متصل پہاڑی پر ایستادہ ہیں۔ اس پہاڑی سے فلورنس شہر کا نظارہ آپ کے تجربہ میں تادیر محفوظ رہے گا اور آپ کو fascinate کرتا رہے گا۔

اس شہر کی سب سے نمایاں چیز اس کا کھتیڈرل (Duomo) ہے جبکہ اس کا انتہائی خوبصورت گنبد پورے شہر میں ہر طرف سے منظر نگاہ رہتا ہے۔ آپ بلامبالغہ اس کیتھڈرل کو یورپ کے خوبصورت کیتھڈرل میں شمار کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ موجود بیل ٹاور اور ٹاؤن ہال کے ٹاور سے آپ پورے فلورنس شہر کا نظارہ بھی کر سکتے ہیں۔ میرے پاس وقت کم تھا اور دل کا عارضہ بھی لاحق تھا، اس لیے صرف ٹاؤن ہال کے ٹاور کی سینکڑوں سیڑھیاں چڑھ کر اس خواہش کو پورا کیا۔

ایک خاص بات مزید یہ کہ آپ فلورنس شہر کی سیاحت کے ساتھ ساتھ مشہور زمانہ Pisa Tower بھی دیکھ سکتے ہیں۔ میرے پاس کچھ وقت تھا اور انٹرنیٹ پر کچھ دیر سرچ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ فلورنس کے ٹرین اسٹیشن سانتا ماریا سے پیسا سنٹرل کے لیے ہر گھنٹہ بعد ایک ٹرین روانہ ہوتی ہے جو 40 منٹ میں پیسااسٹیشن پر پہنچا دیتی ہے۔ ہم نے بھی ایسا ہی کیا اور ایک دن پہلے جا کر 16 یورو میں ریٹرن ٹکٹ لے لیا۔ ٹرین کی دو منزلیں تھیں، اُپر والی منزل پر ایک نشست سنبھالی اور تقریباً 40 منٹ میں اٹلی کے شہر پیسا (Pisa) پہنچ گئے۔ پیسا شہر دریائے آرنو ( Arno) پر واقع ہےاور وجہ شہرت مشہور زمانہ پیسا ٹاور المعروفLeaning Tower ہے۔ اسٹیشن سے پیسا ٹاور تک 30 منٹ تک کی پیدل واک ہے جس میں آپ دریائے آرنو اور پیسا شہر کے گلی کوچے دیکھ سکیں گے۔ پیسا ٹاور بنیادی طور پر بیل ٹاور ہے، کیتھیڈرل کا حصہ ہے اور دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے، عجائبات عالم میں شمار کیا جاتا ہے۔

فلورنس میں دریائے آرنو( Arno) پر موجود پرانے پل (old bridge) پر جائے بغیر آپ کی فلورنس کی سیاحت ادھوری رہے گی۔ میں فلورنس کے اس خوبصورت، قدیم اور تاریخی پُل کو دنیا کے حسین اور رومانوی پُلوں (Bridges) میں شمار کرتا ہوں۔ وینس کے مشہور پُل (Rialto Bridge) کی طرح اس پر بھی جیولری کی دیدہ زیب چھوٹی چھوٹی دکانیں موجود ہیں۔ شام ہوتے ہی ساز چھیڑ دیے جاتے ہیں اور سرخ گلاب کے پھول بیچنے والے آن وارد ہوتے ہیں۔ یورپ کی نشاہ ثانیہ کے زمانے کےاس خوبصورت شہر کے صدیوں پرانے پُل پر آپ ایک زندگی جی سکتے ہیں۔