جماعت احمدیہ کے جواب میں - ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

جماعت احمدیہ کے ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صاحب نے میرے گزشتہ مضمون میں اٹھائے گئے چند امور میں سے ایک کا جواب روزنامہ پاکستان میں دینے کی کوشش کی ہے۔ ساتھ ہی ایک نیا مسئلہ بھی کھڑا کر دیا جس کا ذکر بعد میں کیا جائے گا۔ ڈاکٹرمرزا کا یہ مضمون بھرپور حوالوں سے مزین ہے لیکن جو حوالے انہوں نے دیے ان کی نوعیت بعینہٖ ان اصولوں پر ہے جن پر یہ پوری جماعت اور اس کے خودساختہ نبی کی ’’نبوت‘‘ کھڑی ہے۔ مثلاً یہ کہ جماعت احمدیہ نے کہا تھا: ’’جماعت احمدیہ کا مرکز ہونے کی وجہ سے ان وجوہات کی بنا پر قادیان کو مغربی پنجاب میں شامل ہونا چاہیے۔‘‘ اب قارئین خود فیصلہ کر لیں کہ اس حوالے میں میرے دعویٰ کا استرداد کہاں سے ثابت ہو رہا ہے۔ آگے بڑھنے سے قبل دو ایک وضاحتیں کر دی جائیں تو تفہیم مبحث میں آسانی رہے گی۔ پڑھنے والے جانتے ہیں کہ میرا گزشتہ مضمون ایک احمدی کی بےسروپا باتوں کے جواب میں تھا کہ یہ لوگ خود تو دلائل سے خوب مسلح ہوتے ہیں۔ ادھر پڑھنے والے معصوم مسلمان بزعم خود پڑھے لکھے کہلوانے کا شوق رکھتے ہیں۔ نہ ان کو تاریخ کا پتہ ہوتا ہے، نہ مذہبی امور کا۔ جب میں نے اس مذکورہ احمدی کے دلائل دیکھے اور ساتھ ہی قارئین کے تبصرہ جات اور سوالات بھی پڑھنے کو ملے تو معلوم ہوا کہ کسی علمی سوال کا جواب دینے کے بجائے موصوف احمدی ، معترض یا سائل کو اِن باکس میں آنے کو کہہ دیتے ہیں۔ جہاں کسی نے سنجیدہ سوالات اٹھائے تو وہ احمدی صاحب دم سادھ لیتے۔ گویا یہ مضمون ایک پھندا تھا جس سے چند معصوم افراد ہاتھ آئیں تو عاطف میاں کی اگلی قسطیں آنے کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں۔ یہ تھا وہ پسِ منظر جس کے باعث مجھے فوراً ردِعمل ظاہر کرنا پڑا۔ اس ردِعمل میں کوئی تحقیق پیشِ نظر نہیں تھی جس کی طرف ڈاکٹر مرزا مجھے اب لے جا رہے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ اخبارات میں کتابوں کے حوالے اور اقتباس دینے کا عمل بڑی حد تک ناروا تکلف ہوتا ہے بلکہ عام قاری کو ان سے دلچسپی نہیں ہوتی۔ میری اس بات کا مطلب ڈاکٹر مرزا یہ نہ سمجھ لیں کہ کتب کے حوالہ جات کوئی نامناسب عمل ہے۔ حق تو یہ ہے کہ حوالہ جات ہی سے دعاوی کی صحت ثابت ہوتی ہے۔ واوین کے اندر جماعت احمدیہ کے نقطۂ نظر کے حوالے سے دو ایک جملے البتہ یہ تاثر رہے تھے کہ یہ کوئی اقتباس ہے، ایسا نہیں تھا بلکہ وہ میرے اپنے الفاظ میں احمدی نقطۂ نظر کا بیان تھا۔ ڈاکٹر مرزا صاحب کا میں شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس طرف توجہ دلائی۔ اس ضمن میں میری رائے مزید پختہ ہو گئی ہے کہ اِن تمام امور پر میں ٹِک کر لکھوں۔ اخباری صفحات ا یسے امور کے نفسِ مضمون کا حق ادا نہیں کرتے۔ ڈاکٹر صاحب خاطر جمع رکھیں، یہ اُن کا میرے اوپر قرض ہے جس پر میں بھرپور انداز میں لکھ کر ان کی خدمت میں کچھ پیش کروں گا۔

جس انداز سے البتہ ڈاکٹر صاحب نے جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ اس سے قارئین بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ حسبِ روایت انہوں نے اصل مسئلے سے توجہ ہٹا کر اسے مسئلہ ماننے ہی سے انکار کر دیا۔ الفاظ ملاحظہ ہوں: ’’احمدیت کسی مسئلہ کا نام نہیں، ایک مسلک کا نام ہے۔ مضمون نگار، پڑھنے والے اس سے متفق ہیں یا اختلاف رکھتے ہیں، اس سے قطع نظر ’احمدیت‘ ایک عقیدہ یا مسلک تو کہلا سکتا ہے لیکن ڈاکٹر صاحب نے کس بنا پر اسے ’مسئلۂ احمدیت‘ کا نام دے دیا ہے۔‘‘ اندازہ کیجیے احمدیت کے لب و لہجے کا سفر اس نہج پر آ چکا ہے کہ موصوف اسے مسئلہ جیسا نرم اور علمی لفظ بھی ماننے سے منکر ہیں۔ کیوں؟ اور یہی کیوں میرے سوہان روح ہے۔ کیا یہ جملہ، ضیا الحق کو تو چھوڑیں، غلام اسحٰق خان کے عہدِ صدارت میں بھی لکھا جا سکتا تھا؟ کیا ابھی حالیہ تاریخ میں اسے ’’مسئلہ قادیانیت‘‘ اور ’’فتنہ قادیانیت‘‘ اور’’دجالی فتنہ‘‘ سے موسوم نہیں کیا گیا ہے اور لوگ اب تک کر رہے ہیں۔ یہی میرے سارے دعوے کی بنیاد ہے کہ یہ لوگ اس ملک میں اس قدر طاقت پکڑ چکے ہیں کہ اب ان کے نزدیک یہ مسئلہ ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں ان کے ضمنی مباحث کو فی الحال نظرانداز کر کے اسی ایک مسئلے پر توجہ مرتکز کر رہا ہوں۔ اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ تقسیمِ ہند کے وقت انہوں نے کیا کہا تھا۔ مسئلے کی جڑ یہ ہے کہ یہ لوگ ایک نئے نبی پر ایمان رکھتے ہیں، جس کی اسلام میں قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہمارا ان لوگوں سے صرف یہی مطالبہ ہے کہ آپ اپنے ایک نئے نبی کے پیروکار ہو۔ اس کی پوجا کرو، اسے رسول کہو، اسے مسیح موعود کہو، آپ کا مسئلہ ہے۔ ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ یہ مان لو کہ آپ احمدی ہو، احمدی مسلم نہیں، ہم مسلمانوں سے مطلقاً دور ہو۔ ہمارا آپ کا تعلق ختم ہو چکا ہے۔ اگر یہ مان لیتے ہو تو آپ کے حقوق و فرائض وہی ہیں جو شریعت محمدی اور آئین کے تحت مسلمانوں، ہندوؤں اور دیگر مذاہب کے ہیں۔ آپ کی جان، مال اور آبرو محترم ہے، علاوہ ازیں بھی محترم ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ محترم ڈاکٹر مرزا صاحب سے یہ گفتگو جاری رہے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ میں احمدی اور دیگر غیرمسلم افراد کے بارے میں اسلام کا وہ نقطۂ نظر واضح کر دوں جسے میں اپنے ایمان کا حصہ سمجھتا ہوں۔

ڈاکٹر مرزا، آٹھویں جماعت تک میں نے انگریزی زبان ایک احمدی استاد سے پڑھی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے مالی حالات اچھے نہیں تھے۔ میں طبیعت پر جبر کر کے یہ سطریں لکھ رہا ہوں کہ میں اپنی بساط کی حد تک ان کی زندگی میں ان کی مدد کرتا رہا۔ وہ تو رخصت ہو گئے، میرے حق میں کیا گواہی دیں گے، کبھی فیصل مسجد میں جا کر الیاس مسیح نامی خاکروب سے پتہ کر لیجیے۔ گھر میں صفائی ستھرائی کے لیے اسے بلایا جاتا ہے تو کھانے کے وقت میں اس کے ساتھ اسی کی پلیٹ میں اس کا ہم نوالہ اور ہم پیالہ بن جاتا ہوں۔ ڈاکٹر مرزا! اللہ کی یہ بھولی بھالی مخلوق اگر اللہ کو عزیز ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مجھے عزیز نہ ہو۔ چنانچہ ڈاکٹر مرزا بحیثیت انسان میں احمدی اور دیگر غیرمسلم افراد کو اپنے جیسا انسان سمجھتا ہوں اور ان کا احترام کرتا ہوں۔ آپ لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ کی قیاد ت نے اپنے نچلے تہی دامن طبقے کو چھوڑ کر اپنے آسودہ حال طبقے اور مسلمانوں میں سے ذرا کھسکے ہوئے کم علم بھولے بھالے طبقے کو ہدف بنایا ہوا ہے۔ آپ کا یہ ابتدائی کام مکمل ہونے پر آپ کے بین الاقوامی سرپرست ان کو سنبھال لیتے ہیں۔ ایک عاطف میاں ہی اس کی مثال نہیں ہے۔ اللہ نے موقع دیا تو آپ سے مزید استفادہ کر کے میں آپ کے وہ گوشے بے نقاب کروں گا جو بالعموم نظرانداز کیے جاتے ہیں۔ ذرا اپنا طریق واردات ملاحظہ ہو۔

اُن احمدی استاد کے معصوم بچے تو گلیوں بازاروں میں لڑھکتے رہے کہ غریب تھے اور آپ نے احمدی گنتی پوری کرنا تھی۔ قارئین کرام! اپنے قرب و جوار میں جائزہ لیں آپ کو کئی ایسے مسلمان گھرانے مل جائیں گے جن کی گزشتہ نسل احمدی تھی۔ حالات کے جبر میں پِس کر وہ لوگ نچلے طبقے ہی میں رہے۔ دیکھ لیجیے ایسے لوگوں کی اگلی نسل میں سے کئی لوگ مسلمان ہو چکے ہوں گے۔ لیکن اِنھی لوگوں میں سے جو آسودہ احمدی ہوں یا آسودہ حال مسلمانوں میں سے جو لوگ ذرا پٹڑی سے اُترے ہوئے ہوں ان پر یہ لوگ کام کر کے انہیں ابلیسی نظام کے سنہری پھندے المعروف بہ آئی ایم ایف تک پہنچا دیتے ہیں۔ مسلمانوں کے ایک ابھرتے فرد پر ابتدائی کام آپ نے اسے احمدی بنا کر کیا۔ باقی کام ترقی پذیر ممالک کی معیشت کی رگوں میں سے بچا کھچا خون نچوڑنے والے ادارے آئی ایم ایف نے سنبھال لیا۔ آئی ایم ایف کو جس طرح کے ’’ نامور اور چوٹی کے ماہرین‘‘ درکار ہوتے ہیں، ان کی فہرست میں عاطف میاں احمدی کو شامل کرنے کا سبب کیا ہے؟ جہانگیرترین اس سے بخوبی واقف ہیں۔ (ضمناً عرض ہے کہ سرمایے کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، سرمایے کا مذہب بھی سرمایہ ہی ہوتا ہے تاوقتیکہ کوئی نظریۂ حیات سامنے ہو جیسے حضرت عثمان ؓ اور عہدِ حاضر میں اپنے حکیم سعید رحمہ اللہ علیہ اور چند ایک دیگر، تفہیم کے لیے علامہ اقبال کی شہرہ آفاق نظم ’’ابلیس کی مجلسِ شوریٰ‘‘ پڑھیے)۔

مسٹر ترین نے دوران تقریر ذرائع ابلاغ کے تراشیدہ دیوتا کے کان میں جب آئی ایم ایف کے اس احمدی ’’عالمی ماہر معیشت‘‘ کا نام پھونکا تو دیوتا کو ذرا تامل نہیں ہوا اور بے سوچے سمجھے اس نے آپ کے آدمی کو وزیر خزانہ بنا دیا۔ یہ ایک لِٹمس ٹیسٹ تھا جس کا ردِعمل دیوتا کی محض سیاسی حیثیت کے باعث کچھ زیادہ نہیں ہوا۔ پاؤں پیچھے کھینچ لیا گیا، اقتدار میں آنے پر کوشش کی گئی کہ اس ’’عالمی ماہر معیشت‘‘ کو ابتداً ذرا نچلی سطح پر رکھا جائے۔ کیا اس عرصے میں ذرائع ابلاغ کے اس تراشیدہ دیوتا نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ یہ صاحب کون ہیں۔ رہے پجاری تو ان کایہ حال ہے: زبان بگڑی سو بگڑی تھی، خبر لیجیے دہن بگڑا۔ نہیں ڈاکٹر صاحب اس باب میں احسن اقبال ہو یا عمران خان، یہ لوگ اقتدار کے تالاب کی مچھلیاں ہیں۔ عقیدہ، مذہب اور نظریہ ان کے نقاب ہیں جو موقع کی مناسبت سے یہ لوگ نکال لیتے ہیں۔ اور یہ نقاب، یہ لوگ پہنیں یا آپ پہنیں، یا افریقہ کے بھولے بھالے غریب لامذہب یا مسیحی معصوم، اس نقاب نے اُتر جانا ہوتا ہے۔ 1928ء میں آپ کو برطانیہ کی سرپرستی میں اسرائیل میں اپنا دین وسیع کرنے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر مرزا آپ کا مسیح موعود عجیب ’’نبی‘‘ ہے جس کی مدد تمام یہود و نصاریٰ مل کر رہے ہیں۔ 23 مارچ2007ء کو عین یوم پاکستان کو آپ نے صیہونی سرپرستی میں اسرائیل سے ایم ٹی اے 3 کی عربی نشریات برائے شمالی افریقہ و مشرقِ وسطیٰ بتوسط مصری کمپنی نائیل سیٹ (Nilesat) شروع کیں۔ تھوڑے ہی عرصے میں آپ کا پول کھل گیا۔ مصری حکومت نے اپنے ہاں سے یہ سلسلہ 2008ء میں بندکر دیا۔ آپ نے ایک یورپی کمپنی کے توسط سے صیہونی سرپرستی میں اسرائیل سے اب تک یہ سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ گیمبیا میں آپ لوگ 1960ء کی دہائی میں پھلنا پھولنا شروع ہوئے۔ غربت ، جہالت اور ’’اسلامی خدمات‘‘ کے ماسک کے باعث وہاں کے لوگوں کو طویل عرصے تک آپ کا اصل چہرہ نظر نہ آیا۔ 2015ء میں گیمبیا سپریم اسلامک کونسل نے احمدیوں کو اسلام سے خارج قرار دیا۔ 1990ء یا ایک آدھ سال اِدھر اُدھر وہاں کے وزیرتعلیم جناب حسن جالور پاکستان آئے تو ہم دونو ں نے ا یک دن اکھٹے گزارا۔ ان امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی، اندازہ تو اسی وقت ہو گیا تھا کہ دل کا جانا ٹھہر گیا، صبح گیا کہ شام گیا، یہ اندازہ نہیں تھا کہ ربع صدی لگ جائے گی۔ (کوئی سال قبل ایک گیمبین سفارت کار نے بتایا کہ جناب حسن آج کل گیمبیا کے چیف جسٹس ہیں۔ واللہ اعلم)

افریقہ کے ایک اور پسماندہ ملک مالی میں آپ احمدی خاصی طاقت پکڑ چکے ہیں، لیکن وہاں بھی آپ کا سحر ٹوٹ رہا ہے۔ مسلمانوں کی کوششوں سے تیس ہزار احمدی دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ ڈاکٹر مرزا آپ کے لیے شاید یہ امر باعث تعجب ہو کہ مالی کے ان احمدیوں کو اسلام میں لانے کی خاطر 1990ء میں مسلمانوں کو نصف مالی وسائل فراہم کرنے والا میڈیا کا وہ بےتاج بادشاہ تھا جس کے ساتھ نیوی کے ایک سینئر احمدی افسر کی احمدی بیٹی بطور گرل فرینڈ چپکائی گئی تھی۔ وہ میڈیا مین احمدیت کے قریب پہنچ چکا تھا کہ اللہ کریم اسے 1974-75ء میں مولانا بنوری رحمہ اللہ کے پاس لے گئے اور یوں وہ احمدی خاتون بھی مسلمان ہو گئی۔ وہ خاتون اور وہ میڈیا مین رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ اللہ اس خاتون کو مزید استقامت دے۔ وہ اپنے احمدی باپ کی موت پر اس کا چہرہ دیکھنے بھی نہیں گئی۔ تفصیل بشرط اجازتِ راوی، راوی ہی نہیں اس واقعے کے ایک اصل کردار نے اجازت دی تو آئندہ کبھی۔

محترم قارئین آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ ان لوگوں کا ایجنڈا فروغِ احمدیت کے ساتھ ساتھ ریاستی، ادارہ جاتی اور حکومتی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔ اندازہ کر لیں اگر اس میڈیا مین کو اللہ نورِ ہدایت نہ دیتا اور وہ اس خاتون سے بحالتِ احمدیت شادی کر لیتے تو آج ملک کی اس سب سے بڑی میڈیا ایمپائر کے توسط سے یہ لوگ کیا کچھ نہ کر رہے ہوتے۔ عاطف میاں تو ایک لِٹمس ٹیسٹ تھا۔ قارئین کرام سو نہ جائیے!