سیاست کی دنیا کا جُوسف- محمد اظہارالحق

کیا وجیہہ شخصیت عطا کی تھی قدرت نے! طویل قامت! بارعب چہرہ! مگر افسوس! بولتا تھا تو احساس ہوتا تھا کہ نہ ہی بولتا تو بھرم قائم رہتا! قدرت کے بھی نرالے کھیل ہیں ! کسی کو شخصیت ایسی دیتا ہے کہ بے بضاعت!موجود ہو تو موجودگی کا احساس ہی نہ ہو۔ نہ ہو تو کوئی کمی نہ نظر آئے! مگر بولے تو لوگ ہمہ تن گوش ہو جائیں۔

حیرت سے دہانے کُھل جائیں۔

لفظ سراپا تاثیر بن کر سینے میں اترتے جائیں! یہ قول امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منسوب ہے کہ بات کرو تاکہ پہچانے جائو اس لیے کہ انسانی اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوتا ہے! سعدی نے اسی قولِ زریں کی تشریح میں کہا تھا ؎ تا مرد سخن نگفتہ باشد عیب و ہنرش نہفتہ باشد جب تک کوئی شخص بات نہیں کرتا اس کے عیب و ہنر چھپے رہتے ہیں!
پھر وہ بات کرتا ہے تو یا عزت پاتا ہے یا بے نقاب ہو جاتا ہے! اصلیت کھل کر سامنے آ جاتی ہے! وہ حکایت ہو سکتا ہے سنی ہوئی ہو‘ مگر یہاں ایسی منطبق ہو رہی ہے کہ نہ سنانا ناروا ہو گا! مسجد کے فرش پر چٹائی بچھائے استاد پڑھا رہا تھا۔

سامنے طلبہ بیٹھے تھے۔ استاد نے دستار اتار کر رکھی ہوئی تھی۔ نیم دراز حالت میں تھا۔ طالب علم پڑھ رہا تھا۔ استاد تشریح کر رہا تھا ۔اتنے میں سامنے مسجد کے دروازے سے ایک طویل قامت وجیہہ شخص اندر داخل ہوا۔

عبا اس کی خوبصورت تھی! دستار سے معلوم ہو رہا تھا کہ فاضل ہو گا۔ اس نے حمام سے پانی کا کوزہ بھرا اور ناند پر بیٹھ کر وضو کرنے لگا۔ استاد نے گمان کیا کہ ضرور کوئی صاحبِ علم ہے! اس زمانے میں استاد پڑھا رہا ہوتا تھا تو کوئی بھی آ کر مجلس میں بیٹھ جاتا تھا اور سبق کی سماعت کر سکتا تھا! کچھ استفادہ کرتے تھے۔

کچھ غلطی نکالتے تھے۔ استاد ہوشیار ہو گیا۔ اُٹھ کر سیدھا ہو بیٹھا۔ دستار سر پر رکھ لی۔ طلبہ کو اشارہ کیا کہ مودب ہو کر ترتیب سے بیٹھیں۔

طویل قامت وجیہہ شخص آیا تو استاد اُٹھا مودب ہو کر ملا اور پوچھا۔ جناب کا اسم گرامی؟ مخاطب کے چہرے پر سوال ابھرا۔ پھر اس نے زبان سے کہا ’’کیا؟‘‘ جہاں دیدہ استاد سب کچھ جان گیا۔

آپ کا نام؟ ’’جُوسف‘‘ اس نے کہا! استاد نے دستار سر سے اتاری‘ نیم دراز ہوئے اور طلبہ کو کہا’’اپنا اپنا کام کرو بھئی! یہ تو جوسف ہے! سابق وزیر اعظم جناب شاہد خاقان عباسی کا تازہ ترین بیان سن کر یہ سب کچھ یاد آ گیا۔ کہتے ہیں کہ ’’نواز شریف کے پاس خود مودی صاحب چل کر آئے لیکن عمران خان کی دعوت پر ملنے کو بھی تیار نہیں! چنانچہ پاکستان میں قیادت کا فرق ظاہر ہو گیا ہے! کیا شخصیت دی ہے قدرت نے جناب شاہد خاقان عباسی کو! شمشاد قد! مگر بولتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے! مملکت پاکستان کے حکمران اعلیٰ بنے تو ذاتی وفاداری پر ملک کے سسٹم کو قربان کر دیا۔ بارہا وزیر اعظم بننے سے عملی انکار کرتے ہوئے کہا کہ میرے وزیر اعظم نواز شریف ہی ہیں! تاریخ نے سنہری موقع دیا تھا کہ کچھ کر کے دکھائیں۔ کچھ اصلاحات ہی لے آتے۔ کوئی ایسا اقدام اٹھا جاتے کہ ملک کی تاریخ میں نام تابندہ کر جاتے۔

مگر ہز ماسٹرز وائس کے سوا کچھ نہ ہو سکے۔ کچھ نہ کر سکے! ایسے حکمرانوں کا نام تاریخ کے کسی صفحے پر آتا ہے تو ایک فٹ نوٹ سے زیادہ نہیں! اور فُٹ نوٹ میں بھی کہاں آتا ہے! اورنگزیب کے کتنے جانشینوں کے نام لوگوں کو یاد ہیں؟ شیر شاہ سوری کے بعد سوری خاندان کے اور بھی حکمران تخت پر بیٹھتے رہے‘یہاں تک کہ ہمایوں نے سلطنت چھین لی مگر ان کے نام ڈھونڈنے ہی سے ملتے ہیں! عباسی صاحب کا نام پاکستان کی تاریخ میں آیا بھی تو ایک عجوبے کی حیثیت سے آئے گا کہ سرکاری دستاویزات پر دستخط وزیر اعظم کے طور پر کرتے تھے مگر وزیر اعظم اپنے آپ کو مانتے نہ تھے۔ آقا بن کر بھی آقا نہ بن سکے! نون لیگ کے کتنے ہی ذی فہم ارکان نے دل ہی دل میں کہا ہو گا کہ سابق وزیر اعظم کاش یہ بیان نہ دیتے! چلیے!بیان دے دیا۔

اچھا کیا اپنا عیب و ہنر باہر نکال کر دکھا دیا۔ بتا دیا کہ میں کیا ہوں! مگر بات مکمل نہ کی! یہ نہ بتایا کہ یہ جو نواز شریف کے پاس حاضری دینے کے لیے مودی مارے مارے بے تاب پھرتے تھے اور یہ جو صورت حال کچھ اس قبیل کی تھی کہ ؎ جذبہ عشق سلامت ہے تو انشاء اللہ کچے دھاگے سے چلے آئیں گے سرکار بندھے تو اس کا سبب کیا تھا؟ سبب یہ تھا کہ نواز شریف تقسیم کو اور قیام پاکستان کو ایک بے معنی کام سمجھتے تھے۔

برملاکہتے تھے کہ ہم تو ایک تھے۔ ایک کلچر تھا بس درمیان میں لکیر آ گئی۔ دیکھیے۔ بھارتیوں کو خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کیا کہتے ہیں۔ ’’میں بھی یہی کہتا ہوں کہ واجپائی صاحب کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا۔ آپ بھی رب کہتے ہیں۔ ہم بھی رب کہتے ہیں۔

ہندوستان نے ٹینک خریدے ہیں تو ہم نے بھی لازم کر دیا کہ ہم نے بھی ٹینک خریدنے ہیں… ہمارا ایک ہی کلچر تھا۔ ایک ہی heritage تھا۔ ایک ہی معاشرے کے ہم لوگ تھے… وہاں بھی لاہور سویٹ مارٹ ہے۔ یہاں پر بھی بمبئی سٹور تھا۔ یہ سب کیا ہے۔ یہ صرف بیچ میں بارڈر آ گیا ہے۔ باقی تو ہم آپ اسی سوسائٹی کے ممبران ہیں۔

آپ ‘ہم ایک ہی کلچر ہے۔ ایک ہی ہمارا بیک گرائونڈ ہے۔ کھانا بھی اسی قسم کا آپ کھاتے ہیں۔ ہم بھی اسی قسم کا کھانا کھاتے ہیں۔ آلو گوشت آپ بھی کھاتے ہیں۔ آلو گوشت مجھے بھی بڑا پسند ہے۔تو سب کچھ اتنا کامن ہے!‘‘ مسلم لیگ نون والے کبھی قائد اعظم کی تقریروں اور اقوال کا مطالعہ کرتے تو جان پاتے کہ پاکستان کی بنیاد اٹھاتے ہوئے قائد اعظم نے پہلی اینٹ ہی الگ کلچر اور الگ کھانے پینے کی لگائی تھی۔

نواز شریف کس کامن کلچر کی بات کر رہے ہیں؟ کیا ہولی‘ دسہرہ دیوالی‘ کرپان‘ کیس‘ شراب نوشی ہمارا کلچر ہے؟ کھانا پینا کون سا ایک ہے؟ سکھ اور ہندو تو گوشت کھاتے ہی نہیں! وہ تو اس برتن کو توڑ دیتے ہیں جس میں کسی مسلمان نے کھایا ہو۔ مرحوم بھارتی صدر ڈاکٹر عبدالکلام نے اپنی آپ بیتی میں لکھا ہے کہ سکول کے زمانے میں ایک کلاس فیلو کے گھر میں گئے تو ہندو فیملی نے کچن کے اندر نہ جانے دیا۔

نواز شریف ذہنی طور پر پنجاب سے نکل ہی نہ سکے۔ اوپر ان کی جس تقریر کا اقتباس نقل کیا گیا ہے‘ اسی میں کہتے ہیں کہ ’’یہاں امرتسری ہیں‘ لدھیانوی ہیں اور ہوشیار پوری ہیں اور وہاں لائل پوری ہیں‘ گجراتی ہیں‘ لاہوری ہیں اور سیالکوٹی ہیں!‘‘ ان کے نزدیک بھارت اور پاکستان کی قربت اگر ہو بھی تو اس سے مراد صرف بھارتی پنجاب اور پاکستانی پنجاب کی قربت ہے۔اس سے آگے وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔

پاکستان ان کی نظر میں صرف پنجاب ہے اور پنجاب ان کے نزدیک صرف لاہور ہے! مودی کیوں نہ چل کر نواز شریف کے پاس آئے ان کی خوشیوں میں کیوں نہ شریک ہو! ایسا پاکستانی وزیر اعظم اسے روز روز کہاں ملے گا جو افسوس کرے کہ ہم تو ایک ہی تھے‘ یہ تو بس درمیان میں لکیر آ گئی۔

ایسا پاکستانی وزیر اعظم!!جو اپنے ملک پر الزام لگائے کہ بھارت میں دہشت گرد بھیجتا ہے اور خود کلبھوشن کا نام تک زبان پر نہ لائے! جسے پرویز مشرف کی قید سے نکلوانے کے لیے بھارتی بزنس مین صدر کلنٹن سے سفارش کریں! اور نواز شریف صاحب کے چہرے پر کیا بشاشت اور انبساط ہوتا ہے جب وہ مودی کے ساتھ لمحۂ وصال سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں۔

کوئی ایسے میں ان کی بدن بولی دیکھے! خوشی دیدنی ہوتی ہے! شاہد خاقان عباسی صاحب بات کو مکمل کرتے تو بہتر ہوتا! مودی اس لیے بلائیں لیتا ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے! تاکس نگوید بعدازاں من دیگرم تو دیگری!! نظریات ایک جیسے ہوں تو من و تو کا فرق مٹ جاتا ہے!!