خوش قسمت کون؟ پنجاب، عثمان بزدار یا عمران خان؟ آصف محمود

بابر اعوان کے استعفے پر میں بہت خوش ہوا تھا ۔ افسوس یہ خوشی چند روز ہی میں وفات پا گئی۔
بابر اعوان سے ایک تعلق خاطر ہے اور بے سبب نہیں۔ قانون کی دنیا میں بابر اعوان جیسا وکیل میں نے نہیں دیکھا۔ بےنظیر بھٹو نے کہا تھا: مقدمہ نہیں یہ جنگ لڑتا ہے۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ وہ صرف جنگ نہیں لڑتا، وہ کسی سخت جاں قبیلے کے ضدی جنگجو کی طرح لڑتا ہے۔ اورگاہے کچھ زیادہ ہی شدت کے ساتھ۔ یہاں تک کہ کمین گاہ بھی اجنبی ہو جاتی ہے، جنگجو کا بانکپن مگر نہیں جاتا۔

نیب نے طلب کیا اور بابر اعوان نے استعفی دے دیا۔ کہا جا سکتا تھا کہ نندی پور سے میرا کیا لینا دینا؟ وزارت عظمی کسی اور کے پاس تھی اور پانی و بجلی کا قلمدان کسی اور کے ہاتھ میں۔ عذر اور تاویلات نہیں دلائل کے زور پر منصب پر فائز رہا جا سکتا تھا۔ لیکن بابر اعوان نے استعفی دے دیا۔ سیاست میں اپنے اخلاقی وجود کے بارے میں کوئی اس حساسیت کا مظاہرہ کرے تو لازم ہے اس کی تحسین کی جائے۔ شام ایک دوست نے پوچھا: استعفی لیا گیا ہے یا دیا گیا ہے؟ عرض کی کہ احباب کی طرح اندر کی خبر میرے پاس نہیں ہوتی، لیکن یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ استعفی لیا نہیں گیا، یہ دیا گیا ہے۔

اس یقین کی وجہ بہت سادہ تھی۔ اس استعفے نے ایک بنیادی اصول طے کر دیا تھا۔ اصول یہ تھا کہ پرانے زمانے بیت چکے، اب تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ اس حکومت میں کوئی ایسا شخص کسی منصب پر نہیں رہے گا جس کے خلاف نیب کارروائی کر رہی ہو۔ بہت مشکل تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے خود یہ اصول قائم کرتے ہوئے بابر اعوان سے استعفے لیا ہو۔ عملیت پسندی کے ڈھیر سارے بوجھ تلے دبی حکومت ایسا نہیں کر سکتی کیونکہ اسے معلوم ہے نیب اس کے کئی صاحبان منصب کی دہلیز پر دستک دے چکا یا دینے کو تیار ہے۔ وہ ان سب کی قربانی کیسے دے سکتی تھی۔

میرے خیال میں تو اس استعفی سے تحریک انصاف کے اندر اضطراب پیدا ہوا ہوگا۔ کتنے ہی ایسے ہیں جو بظاہر معتبر ہیں مگر نیب کا اب ان سے وہی تعلق ہے جو تیر کا مشکیزے سے رہا ہے۔ اب اگر اصول یہ ہے کہ جسے نیب بلائے وہ جاتے ہوئے اپنا استعفی وزیر اعظم کو دیتا جائے تو لازم تھا سراسیمگی پھیلتی، اور وہ پھیلی۔ اس اصول سے مگر میرے جیسے لوگ خوش ہوئے کہ چلیں ایک بات طے ہو گئی۔ جسے نیب بلا لے وہ کابینہ میں نہیں رہ سکتا۔ یہ رسم آگے چل کر مستحکم ہوجاتی تو نئے پاکستان کے نقوش واضح ہونا شروع ہو جاتے۔ اسے خوش فہمی نے خواب فروشوں کو آسودہ کر دیا تھا۔ مگرخوابوں کی عمر ہی کتنی ہوتی ہے؟ ہلکا سا شور ہواور آنکھ کھل جائے۔

سارے اصول اب وہیں دھرے ہیں اور زلفی بخاری اب وزیر اعظم پاکستان کے مشیر ہیں۔ جی ہاں یہ وہی زلفی بخاری ہیں جن کے بارے میں ابھی چند ہفتے پہلے تک ارشاد گرامی یہ تھا کہ وہ تو پاکستان کے شہری ہی نہیں، نیب انہیں کیسے پوچھ سکتا ہے۔ اب وہ جو پاکستان کے شہری ہی نہ تھے، وہ وزیر اعظم کے مشیر ہیں۔ اس سے بڑا ظلم یہ ہوا کہ وہ خوش فہمی دم توڑ گئی کہ سیاست اب اخلاقی وجود کے بارے میں پہلے سے زیادہ حساس ہے۔ ثابت یہ ہوا کہ پارٹی کے اندر جو لوگ بابر اعوان کے استعفے کو اخلاقیات کا نقش اول سمجھ کر خوفزدہ تھے، ان کا خوف بلاوجہ تھا۔ بابر اعوان سے استعفی لیا نہیں گیا، یہ استعفی دیا گیا ہے اور اس میں حکومت کا کوئی قصور نہیں۔ حکومت اپنے اخلاقی وجود سے اتنی ہی بے نیاز ہے جتنی اس سے پہلے کی حکومت تھی۔ پارٹی کے ان حضرات کو بھی ایک پیغام پہنچا دیا گیا ہے جو اپنی ہم نصابی سرگرمیوں کی وجہ سے نیب کو مطلوب ہیں کہ زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ بابر اعوان کے استعفے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ پر امکانات کے کھلے دروازے بند کر دیے جائیں۔ آپ تسلی سے اپنا کام جاری رکھیے۔ اخلاقیات اور چیز ہے اور کارِ حکومت اور شے ہے۔ اور فی الوقت ہم حکومت میں ہیں۔ امید کی ایک کھڑکی کھلی تھی جو بند کر دی گئی۔ کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے۔

عمران خان کا ارشاد تازہ بھی توجہ سے سن لیجیے کہ حکمران معرفت کی ایسی باتیں کم ہی کرتے ہیں۔ فرمایا :’’پنجاب کی خوش قسمتی ہے کہ اسے عثمان بزدار جیسے لیڈر ملا‘‘۔ ایسا گدگدا دینے والا مطلع آج تک شاید ہی کسی نے کہا ہو۔ مطلع کے ساتھ مگر ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہا ہے کہ جہاں مطلع ہو وہاں مقطع بھی ہوتا ہے۔ ایسا نہ ہو تو غزل ادھوری رہ جاتی ہے۔ غزل اب کچھ یوں بنے گی کہ پنجاب کی خوش قسمتی ہے، اسے عثمان بزدار جیسا وزیر اعلی بنا۔ اور عثمان بزدار کی خوش قسمتی ہے کہ اسے عون چودھری جیسا مشیر ملا۔ عمران خان بھی کم خوش قسمت نہیں، انہیں زلفی بخاری جیسا گلوبل قسم کا مشیر ملا جو ’’پاکستانی شہری ہی نہیں اور نہ ہی اسے نیب یا کوئی بھی اور پاکستانی ادارہ طلب کر سکتا ہے‘‘۔ میرے جیسا عامی اب پریشان ہے کہ ان میں سے زیادہ خوش قسمت کون ہے؟ پنجاب، عثمان بزدار یا عمران خان۔

یہ فیصلہ کرنا ظاہر ہے اتنا آسان نہیں۔ کسی عامی کا معاملہ ہوتا تو اور بات تھی، یہاں توعثمان بزدار ، عون چودھری اور زلفی بخاری کی صورت تین ایسے رجل رشید ہیں جن میں سے کسی ایک کے حق میں فیصلہ دینا دوسرے کے علم و فضل کا ابطال تصور ہوگا اور ظاہر ہے یہ وہ گستاخی ہے جس کے تصور ہی سے فرہاد کا زہرہ آب ہو جائے۔ پھر یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ وزارت مواصلات والے شکوہ لے کر آ جائیں کہ ہماری خوش نصیبی میں آپ کو کیا شک ہے جن کے حصے میں مراد سعید آئے ہیں۔ معیشت کے اسرار و رموز سے جو یوں آگاہ ہیں جیسے کوئی ہاتھ کی لکیروں کو سمجھتا ہو۔ وہ تو عمران خان کی میانہ روی ہے کہ ابھی تک عالمی مالیاتی اداروں کا کچھ بھرم رکھے ہوئے ہیں ورنہ شنید یہ ہے کہ مراد سعید صاحب نے تو حلف اٹھانے کے دوسرے ہی روز انہیں بہت سے ڈالر دے کر کہا تھا جائیے اور آئی ایم ایف کے منہ پر مار آئیے۔

بابر اعوان کے استعفے سے بہت خوشی ہوئی تھی کہ انہوں نے ایک اصول طے کر دیا ہے جس سے انحراف اب تحریک انصاف میں کسی کے لیے ممکن نہ ہوگا اور نیب کی ہر دستک پر ایک استعفی سامنے آئے گا لیکن معلوم ہوا قبیلے میں ہر شخص فرہاد نہیں ہوتا۔
افتخار عارف بھی کہاں یاد آئے:
’’کوئی تو شہرِ تذبذب کے ساکنوں سے کہے
نہ ہو یقین تو پھر معجزہ نہ ما نگے کوئی
عذابِ گردِ خزاں بھی نہ ہو ، بہار بھی آئے
اس احتیاط سے اجرِ وفا نہ مانگے کوئی‘‘

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com