جیسی رُوح ویسے فرشتے - نادیہ عنبر لودھی

انسان کا دنیا میں آنا حکم ربی ہے۔ جس میں اس کا ذاتی ارادہ شامل نہیں ہے۔ زندگی گزارنے کے لیے وہ مقدر کا پابند ہے۔ آزادی ارادہ اس کی محدود ہے۔ گلے میں صلیب مقدر ہے۔ پھر جنت کا حصول کیسے ممکن؟

ہر انسان کے سامنے دو راستے ہیں۔ پہلا قدم وہ خیر یا شر کے تابع اٹھاتا ہے۔ پھر اس راستے پہ آگے بڑ ھتا ہے۔ اب اگر برائی کا راستہ تو ضمیر کی آواز سنتا ہے، کچھ پل کے لیے سوچتا ہے پھر یا تو واپس پلٹ آتا ہے یا پھر سنی ان سنی کر کے آگے بڑ ھ جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کے قدموں میں روانی آجاتی ہے۔ پھر وہ ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں سے پلٹنا اس کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے۔ دنیا کی رنگینیاں اسے اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہیں۔ موت سے آگاہ تو ہے لیکن دلی دور است۔

لیجیے!
اچانک بج گیا موت کا نقارہ۔ اس کو کسی جان لیوا مرض نے آگھیرا۔ ستر اسی سال دنیا پہ گزار کر بچوں کے بچوں کی شادیاں کرکے بھی جینے کی خواہش آخر ہے کیوں؟

کیونکہ آخرت کی تیاری نہیں ہے، کیونکہ مال و متاع گھر اور اپنے کمرے سے بے حد محبت ہے۔ اب آہستہ آہستہ بھولے بسرے گناہ یاد آنے لگے۔ اپنے اعمال منہ چڑانے لگے۔ اب قبر کی وحشت ڈرانے لگی۔ اب آنکھ سے آنسو بہنے لگے، لیکن وقت ختم ہو نے والا ہے۔ اب مدت نہیں ہے باقی۔

بیماری جھیلتے جھیلتے شکل بگڑ گئی۔ جسم کا گوشت گُھل گیا۔ رنگ جل گیا۔ پہچانے سے نا پہچانا جائے۔ لیجیے عزرائیل موت کے ہرکاروں کے ساتھ آ پہنچے۔ بدصورت شکلوں والے فرشتے، بدبودار جہنمی کفن لیے۔ دیکھتے ہی لرزنے لگا تڑپنے لگا۔ فرشتے آگے بڑ ھے اس کی روح بدن میں دوڑنے چھپنے لگی۔ کھینچی فرشتوں نے اس کی روح اس کے پاؤں میں سے۔ ناقابل بیان اذیت سے سانس کی آوازیں تیز ہو نے لگیں۔ بیقراری سے ایڑ یاں رگڑ نے لگا کبھی ٹانگ کھینچے کبھی سر جھٹکے کئی گھنٹے گزر گئے۔ اب جان اٹک گئی ہنسلی کی ہڈی میں۔ نرخرے کی آوازیں بلند ہونے لگی۔ گھر والے کفن دفن کی تیاریوں میں لگ گئے۔ روح کو لڑتے لڑتےچھپتے چھپتے کئی گھنٹے گزر گئے۔ فرشتوں نے زور سے کھینچا۔ لگایا آخری جھٹکا۔ روح نکلی بدن سے۔ آنکھیں اوپر جا لگیں جہاں روح گئی۔ روح ابھی چھت تک بھی بلند نہ ہوئی تھی، حکم آیا اس ملعون کو زمین کی سات تہوں کے نیچے "سجین " بد روحوں کے دفتر میں داخل کر دو۔ جیسے اعمال ویسی موت۔ جیسی روح ویسے فرشتے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */