ماں، بیٹا اور پرنسپل - نیر کاشف

وہ کافی دیر سے اسکول کی انتظارگاہ میں اپنے بیٹے کے پرنسپل سے ملنے کے لیے بیٹھی ہوئی تھی۔ ہفتے کی چھٹی کی وجہ سے عمارت پہ قدرے سکون چھایا ہوا تھا۔ اس کا بیٹا اس کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھا تھا۔ اس نے بغور اپنے شہزادے کی جانب دیکھا جو گہری سبز ٹی شرٹ میں سلیقے سے جمے بالوں کے ساتھ بہت پیارا لگ رہا تھا، لیکن دونوں ہاتھوں کی انگلیاں کبھی ایک دوسرے میں پیوست ہوتی اور کبھی جدا ہوتی اس کے اندرونی اضطراب کی نشان دہی کر رہی تھیں۔ اس نے گہری سانس لی اور اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں نرمی سے دبایا۔ بس آپ کی تیاری پوری ہونی چاہیے، آگے اللہ مالک ہے۔ اسے یاد آیا جب اس نے اپنے بیٹے کو جانچ (ٹیسٹ) کی تیاری کرواتے ہوئے تسلی دی تھی، امی کو آپ کے نمبرز سے کوئی غرض نہیں ہے بیٹا، محنت کرنا ہمارا کام ہے، اور وہ آپ کر رہے ہیں، ہر روز اسکول جانے سے پہلے وہ اسے احساس دلاتی تھی۔ اس کا بیٹا یادداشت کے معاملے میں اکثر مار کھاجاتا تھا اور اس معاملے میں وہ کچھ نہیں کرسکتی تھی۔ زبردست تخلیقی صلاحیتوں کا مالک اس کا بیٹا پانچویں جماعت کا طالب علم تھا، اس کے آرٹ کے نمونے اس قدر زبردست ہوتے کہ دیکھنے والے انگشت بدنداں رہ جاتے تھے، لیکن اسے پہاڑے یاد رکھنے میں مشکل ہوتی تھی، وہ الفاظ کے ہجے بھول جایا کرتا تھا، اسے یقین تھا ایک نہ ایک دن اس کا بیٹا ان تمام کمزوریوں پہ قابو پا لے گا، لیکن ۔۔۔ آج وہ ایک اسکول کے دفتر میں بیٹھی تھی۔

سر! میرے بیٹے کو بچپن ہی سے یادداشت کے مسائل کا سامنا ہے۔ اسے پہاڑے ، ہجے، اور تسسلسل سے یاد رکھنے والی چیزیں یاد رکھنے میں بہت مشکل ہوتی ہے، کئی کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد جب وہ پرچہ دیتا ہے تو سب کچھ بھول چکا ہوتا ہے، اسے ہدایات کو فوراً سمجھنے میں مشکل ہوتی ہے، سر! لیکن وہ آرٹ میں بہت بہت اچھا ہے۔ میں نے مناسب سمجھا کہ یہ تمام باتیں خود آپ کے سامنے رکھ دوں تاکہ آپ اس کے اساتذہ سے بھی اس حوالے سے بات کر لیں۔ پرنسپل صاحب سر جھکائے اس کی تمام باتوں کو ڈائری میں نوٹ کرتے گئے۔ بچہ آپ کے ساتھ آیا ہے؟ جواب میں انہوں نے سوال کیا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا، ذرا بلائیے اسے۔

یہ بھی پڑھیں:   چھوٹے بچوں کی تربیت، والدین کیا کریں - ہمایوں مجاہد تارڑ

اس کا بیٹا اس کے ساتھ والی کرسی پہ پرنسپل کے سامنے سر جھکائے بیٹھا تھا۔ جی تو آپ پنجم اے میں ہیں؟ پرنسپل کے سوال نے تو نہیں، البتہ انداز نے اسے ضرور چونکا دیا تھا۔ اس کے بیٹے نے سر ہلایا، اچھا تو آپ عاصم کو جانتے ہیں؟ اگلا سوال آیا، بچے نے پھر سر ہلایا، جواد آپ کی کلاس میں ہیں؟ بچے نے پھر سر ہلایا، آیان آپ کی کلاس میں ہیں؟ احمد آپ کی کلاس میں ہیں؟ سات آٹھ بچوں کا نام وہ یکے بعد دیگرے لیتے گئے اور وہ جواب میں سر ہلاتا رہا۔ ماہانہ ٹیسٹ میں ان سب کا نتیجہ آپ کو معلوم ہے؟ وہ کبھی اپنے بچے کو دیکھتی اور کبھی پرنسپل کو، ان سب کے اسی فیصد سے زیادہ نمبر آئے ہیں، اور آپ کے؟ سات مضامین میں آپ فیل ہیں۔ استہزائیہ لہجے پہ وہ تڑپ سی گئی، ان سارے لڑکوں کی جماعت میں عزت ہوتی ہے؟ انہوں اسی انداز میں اگلا سوال داغا، آپ جانتے ہیں سب آپ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ اس کا دل چاہا کہ اپنے بچے کو دونوں کانوں پہ ہاتھ رکھ دے اور اپنے سینے میں چھپا لے، آپ کی کلاس میں سب بچے کہتے ہیں کہ یہ تو سب سے بے کار بچہ ہے، وہ تڑپ کر انہیں دیکھ کر رہ گئی۔ آپ جانتے ہیں آپ اپنی کلاس میں سب سے آخری نمبر پہ ہیں، سب سے آخری، انھوں نے زور دے کر کہا، وہ وہاں سے اٹھ کیوں نہ سکی۔ اسے لگا کہ اس کی ساری محنت، اپنے بچے کو دیا ہوا سارا اعتماد ایک دم سے متزلزل ہو گیا ہو۔ آپ کو پتہ ہے عزت کس کی ہوتی ہے؟ جس کے اچھے نمبر آتے ہیں۔ دوست بھی اس کی عزت کرتے ہیں، گھر والے بھی، استاد بھی، سب ایسے بچوں کی عزت کرتے ہیں جو اچھے نمبر لاتے ہیں۔ (بیٹا! عزت اس کی ہوتی ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں اور جو دوسروں کی عزت کرے، اسے یاد آیا اس نے اپنے بیٹے کو سمجھایا تھا،) وہ اپنے بیٹے سے نظریں نہ ملا سکی۔ آپ پانچویں میں فیل ہو جائیں گے، سب بچے چھٹی جماعت میں چلے جائیں گے، آپ کو اچھا لگے گا کیا؟ بچے نے نفی میں سر ہلایا اور آنکھوں میں آئے آنسو ضبط کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ میں تو نہیں رکھوں گا آپ کو اپنے اسکول میں اس طرح، تو آپ کو کیا کرنا ہوگا؟ بچے کے حلق میں الفاظ اٹک سے رہے تھے۔ کیا کریں گے آپ؟ اب کی بار دھاڑ کر پوچھا گیا، محنت کروں گا، اس کی آواز بمشکل نکلی تھی۔ (اب تک وہ جو کرتا آیا تھا، وہ محنت نہیں تھی کیا؟؟؟) پرنسپل کے لبوں پہ فاتحانہ مسکراہٹ پھیل گئی، کرسی کی پشت سے یوں سر ٹکایا جیسے کوئی جنگ فتح کر لی ہو۔ اور اس لمحے ماں کو یوں لگا جیسے اس کی زندگی اب مسلسل جنگ میں گزرنے والی ہو۔