جب خواب نے تعبیرپائی! - اسری غوری

ابھی تو آئی تھی اس کی گود میں۔
جب اس کے اپنے فرسٹ ائیر کے پیپرز ہونے تھے، اس سے پڑھائی بھی نہیں ہوتی تھی، ابھی تو اسے ڈاکٹر بننا تھا، بچپن سے اس کی کھلی اور بند آنکھوں کا خواب۔
خاکی ساڑھی میں ملبوس وہ سراپا۔
نجانے عمر کے کس ہندسے سے خود کو اس سراپے میں دیکھتی آئی تھی۔
اسے تو بس اتنا یاد تھا کہ ٹی وی پر جب سے اس نے ساڑھی میں فوجی ڈاکٹرز کو دیکھا تھا، بس تب سے ہی وہ سراپا اس کے ننھے سے دل و دماغ میں، اک خواب کی شکل اختیار کر گیا تھا۔
مگر تو اب اور اتنی ساری نئی نئی تکلیفوں میں گھر چکی تھی، کتابیں کھولتے ہی چکر آنے لگتے، کئی بار کالج میں چکرا کر گرتے بچی۔
عجیب عجیب سی کیفیات میں بہت مشکل یہ سال گزرا تھا۔

اٹھارہ گھنٹے کی تکلیف کے بعد وہ بےہوش ہوچکی تھی، سارا لیبر روم کرنل ڈاکٹر عذرا کی چیخوں سے گونج رہا تھا، یہ بچی، اسے تو اسکول کالج میں ہونا چاہیے۔ یہ یہاں اٹھارہ گھنٹے سے اذیت میں ہے، کہاں ہیں اس کے سسرال والے؟ بلاؤ اس کے "کپتان صاحب" کو۔ غرض وہ سب انھوں نے کہا جو ناقابل بیاں۔
ساری رات سے کسی نے اس کی آواز نہیں سنی تھی اور اب وہ بےہوش تھی، ڈاکٹر نے اس کے منہ سے دوپٹہ نکالا، جس کا الگ ہوتا اک اک تار اس پر بیتی اذیت کی کہانی سنا رہا تھا۔
کسی نے اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔
کانوں میں میجر ڈاکٹر طلیحہ کی آواز گونجی۔
پیاری سی گڑیا! اٹھو دیکھو تمھیں بھی اللہ نے اک گڑیا دی ہے، دیکھو تو کتنی پیاری ہے۔
گڑیا، اس کی گڑیاں تو نانی اماں کے گھر رہ گئی تھیں پچھلے برس ہی (امی نے کبھی گڑیا رکھنے کی اجازت نہیں دی، نانی اماں نے اپنے پاس اس کی ساری گڑیاں اور ان کے بستر کپڑے سب رکھے ہوئے تھے، وہ وہیں جاکر کھیلا کرتی تھی ان سے)
اس نے تو اک برس ہوا انہیں دیکھا بھی نہیں تھا۔
اس نے بہ مشکل آنکھیں کھولیں۔
پہلی آواز ۔
پہلی ہستی۔
جسے اس نے اس وقت پکارا ۔۔۔۔۔۔ اماں ۔۔۔ اماں۔۔
پہلی پہچان جو اسے ہوش میں آنے کے بعد ہوئی تھی، وہ تھی ...... ماں ......

یہ بھی پڑھیں:   والدین کا دل جیتنے والے دس کام - ابو محمد مصعب

آہ! رب نے دنیا کا سب کٹھن ترین کام "تخلیق" کیسے اس صنف نازک کے نصیب میں لکھ دیا تھا۔
وہ جو اک سوئی کے چبھ جانے پر سارے گھر کو سر پر اٹھانے والی، بیک وقت بیس ہڈیوں کے ٹوٹ جانے کی تکلیف کو سہتی ہے، تو اس تخلیق کے مقام کو پاتی ہے۔
اس نے پھر پکارا ...... اماں ...... نظریں دوڑائیں کہاں ہیں اماں؟
پندرہ سال اماں کے ساتھ چمٹ کر سونے والی کا یہ پہلا سال ان کے بغیر کیسا گزرا تھا، وہ سب بتاناچاہتی تھی ۔
سامنے ہی آیا، اماں اس کی ننھی پری کو گود میں لیے اس کے سامنے لائیں ،اس نے دیکھا پنک گلاب جیسی گوپلو سی۔
اس نے اس کے گالوں کو چھوا جیسے روئی کے گالے ...... اس ننھی سی پری کے لمس نے اس کے وجود سے اٹھتی درد کی لہروں پر جیسے کوئی مرہم سا رکھ دیا ہو۔

اس ننھی سی پری نے اسے بتایا تھا ماں کیا ہوتی ہے؟
اس نے تو زندگی کے پندرہ سولہ برس بس اماں سے اپنی منوائی تھی۔
اس کے بعد اس نے اپنی آنکھوں کے نجانے کتنے ہی خواب چپکے چپکے اس کی ننھی آنکھوں میں منتقل کردیے تھے۔
اور اک حقیقت اور اس نے جانی تھی۔
ماں کے بعد دنیا میں سب سے پیاری نعمت بیٹی ہوتی۔

وہ دونوں لڑتیں تو ایسے جیسے سہلیاں لڑ رہی ہوں۔
کپڑوں پر جھگڑا جوتوں پر جھگڑا۔
اکثر وہ جھنجھلا کر بولتی،
میری سہیلیوں کی امائیں اماں ہوتیں،
آپ اماں جیسی کیوں نہیں ہیں؟
نہ میں آپ میں ملتی ہوں نہ آپ جیسی عادتیں؟
اقصی اور کیسے ہوتی مما!
اماں بڑی ہوتی،
آنٹیوں جیسی ہوتی مما۔
آپ کا اور میرا تو بچپن بھی ساتھ ساتھ گزرا۔
کہیں نئی جگہ پر جاتے اور اکثر ہی یہ جملہ آتا، اچھا آپ دونوں بہنیں ہیں۔
وہ گھوم کر دیکھتی اور آنکھوں ہی آنکھوں میں کہتی، نہیں بہنیں کیوں؟ یہ کہیں کہ میں اماں ہوں، یہ بیٹی ہیں۔ وہ اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں سرزنش کرتی کہ خاموش رہنا۔
کبھی کبھی وہ خفا ہوتی، بہت مس بی ہیو کرجاتی ہو یار میں ماں ہوں تمہاری۔
تو کیا کروں آپ اماں جیسی ہیں ہی نہیں۔
سہیلیاں تو پھر ایسے ہی ہوتی ہیں، جب اماں جیسی ہو جائیں گی تو پھر مجھ سے شکایت کیجیے گا۔
وہ بے نیازی سے کہتی مڑ جاتی۔
وہ واقعی اس کی سب سے پیاری سہیلی بنی، زندگی کے ہر مرحلے پر اس نے اک "بیسٹی" بن کر دکھایا، اس نے اسے پھر سے جینا سکھایا، زندگی سے محبت کرنا سکھائی۔

یہ بھی پڑھیں:   والدین کا دل جیتنے والے دس کام - ابو محمد مصعب

آئی سی یو کے بیڈ پر نیم مردہ حالت میں پڑے وجود کو پہلی بار اس نے ماں کا وجود محسوس کیا۔
بے جان سے ہاتھ تھام کر وہ سسک سسک کر پھوٹ پھوٹ کر روئی۔
اماں اٹھیں نا اماں! مجھے آپ کی ضرورت ہے۔
میں آپ کی بغیر کچھ بھی نہیں۔
اماں میری خاطر اٹھیں میری خاطر۔
اماں میرا کیا بنے گا آپ کے بغیر۔
دن رات اک کردیے اس نے۔
نانی اماں کی اور بیٹی کی دعائیں، محبتیں، خدمتیں ،سب ہی میں تو اس نے انتہا کردی۔
موت کے منہ سے چھین کر لے آئی ہو جیسے۔
کتنی راتیں اس نے اپنی گود میں اماں کا سر رکھ کر اس کے آنسو چپکے چپکے اپنے دامن میں جذب کر لیے تھے، یوں کہ کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔
تب اس نے اک اور راز سے پردہ اٹھایا۔
کہ بیٹی بھی جب سمجھدار ہوجائے تو ماں جیسی ہوجاتی، ویسی ہی محبت، ویسا احساس، ویسے ہی جذبات۔

تھرڈ ائیر کے فائنل پیپرز تھے، اس کی رات اماں کے ساتھ ہاسپٹل میں گزرتی، صبح پیپرز دینے جاتی۔
یہ اس کا لاسٹ وائیوا تھا۔
اس کی پوری تیاری تھی مگر وہ سب بھول چکی تھی، ہر سوال کے جواب میں وہ بھول جاتی۔
جب بہت ڈیپریس ہوئی تو رو دی۔
سر! مجھے سب یاد ہے سر!، میری پوری تیاری ہے۔
مگر سر! میری ماما۔
کیا ہوا آپ کی ماما کو؟
سر! میری ماما آئی سی یو میں ہیں.. سر!۔
بس اتنا ہی کہہ پائی اور پھر رو دی۔
وہ اسی کے ٹیچر تھے، جانتے تھے وہ ذہین اسکالرشپ بچی ہے، بھیج دیا کہ ٹھیک ہے جاؤ، اپنی ماما کے پاس جاؤ۔
رزلٹ آیا تو وہ پاس تھی۔

اور ایسے ہی زندگی کے نجانے کتنے در پھاندتے، ایسے ہی لڑتے جھگڑتے ننھی سی پری کی ننھی آنکھوں نے آج اس کی آنکھوں کے اک خواب کو پورا کر دکھایا تھا۔
ڈاکٹر اقصی غوری۔
وہ دعا کرتی، اللہ اس کی کھلی اور بند آنکھوں نے جتنے خواب دیکھے، ان کی بہترین تعبیریں اس کو عطا کرنا۔ آمین

Comments

اسری غوری

اسری غوری

اسری غوری معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، نوک قلم بلاگ کی مدیرہ ہیں، حرمین کی زیارت ترجیح اول ہے، اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتی ہیں اور اپنی تحاریر کے ذریعے ترجمانی کرتی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.