شہری آزادیاں اہم کیوں ہیں؟ قاضی نصیر عالم

شہری آزادیاں ہم نے صدیوں کی جدوجہد کے بعد حاصل کی ہیں، دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر ہم ان آزادیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ دہشت گردی آج ہے، کل ختم ہو جائے گی، لیکن اگر ایک بار شہری آزادی کے حقوق سلب کر لیے گئے تو پھر یہ اتنی آسانی سے ہمیں واپس لوٹائے نہیں جائیں گے۔ یہ لندن بم دھماکوں کے بعد عام برطانویوں کا مؤقف تھا اور پھر وہ اس پر ڈٹے رہے۔ یہاں تک کہ وہ ہنگامی حالات سے نکل آئے۔

لندن دھماکوں کے بعد ٹونی بلیئر کو ہاؤس آف کامنز میں پہلی شکست کا سامنا مشتبہ افراد کی حراست کے معاملے پر کرنا پڑا۔ بلئیر شک کی بنیاد پر حراست کی مدت کو 14یوم سے بڑھا کر 90 روز کرنا چاہتے تھے، لیکن ہوا یوں کہ خود ان کی لیبر پارٹی کے بھی 49 ارکان نے بل کے خلاف ووٹ دیا، البتہ 14 روزہ حراست کی مدت 28 روز کرتے ہوئے اسے ہر سال کی منظوری سے مشروط کر دیا گیا۔

لندن بم دھماکوں کی برسی کے دوران 2007ء میں اس مدت میں پھر اضافے کی کوشش شروع ہوئی، اس دفعہ اسی معاملے پر وزیراعظم گورڈن براون کے خلاف بغاوت کرنے والے ان کے اپنی جماعت کے ارکان کی تعداد 36 تھی بمشکل 9 ووٹوں سے ہاؤس آف کامنز سے اس کی منظوری لی گئی، اور مدت 42 روز کر دی گئی، لیکن ابھی ہاؤس آف لارڈز سے بل کی منظوری کا مرحلہ درپیش تھا۔

ہاؤس آف لارڈز میں بحث شروع ہوئی تو دلیل صرف یہ نہ تھی کہ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کرنے پڑتے ہیں، بلکہ آئرش ریپبلک آرمی کے بم دھماکے کے متاثرہ لارڈ نے یہاں تک کہا کہ اس بل کی مخالفت کا نتیجہ کیمیائی حملے یا ایٹمی دھماکے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ ایک غیر جانبدار لارڈ نے یہ یقین دبانی بھی کروائی کہ اگلے چار سے پانچ سال میں بمشکل چار سے پانچ افراد پر 42 روزہ حراست کے قانون کا اطلاق ہوگا، یہ شہری آزادیوں کا اختتام ہر گز نہیں ہے اس اقدام سے ہزاروں زندگیوں کا تحفظ ممکن ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   مودی ٹرمپ کا جشن "فتح کشمیر" اور ہماری "خوابوں کی دنیا" - محمد عاصم حفیظ

مخالفت کرنے والوں میں ایم آئی سکس کی سابق سربراہ بھی تھیں۔ اس گروپ کا مؤقف تھا کہ اس طرح اگر ہر نئے دہشت گرد حملے کے بعد ہم نئے سے نئے بل کو جنم دیتے رہے تو بالآخر ہم ان شہری آزادیوں کو کھو بیٹھیں گے جن کے دفاع کے لیے ہم دہشت گردوں سے لڑ رہے ہیں۔ طویل مدت حراست کا یہ بل ہمارے شہری و جمہوری حقوق کو پامال کرے گا، جس پر ہمارا ملک صدیوں سے فخر کرتا چلا آ رہا ہے۔

ایک طرف حکومت دہشت گردی کو خطرہ بتا رہی تھی اور دوسری طرف ہاؤس آف لارڈز میں بل کی مخالف خاتون کا کہنا تھا کہ ہم غیر اہم چیزوں کے لیے اپنی بہت ہی اہم قدروں کے قربان ہونے کے خطرے سے دو چار ہیں۔ ہاؤس آف لارڈز میں حکومت کو پھر بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا اور 309 کے ایوان میں 191 ارکان نے بل کی مخالفت میں رائے دی۔

2010ء میں 28 روزہ حراست کی مدت میں ایک سال کے بجائے چھ ماہ کی توسیع کی گئی۔ 2011ء میں عملا یہ بل معطل ہو گیا جبکہ 2012ء پروٹیکشن آف فریڈم ایکٹ کے تحت بغیر الزام کے حراست کی مدت 28 روز کے بجائے دوبارہ 14 روز کر دی گئی۔

یہ اس بات کا اعلان تھا کہ ہم فقط سات سالوں میں ہنگامی صورتحال سے باہر نکل آئے ہیں، نہ کمر توڑنے کے دعوے نہ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے اعلانات، کچھ بھی نہیں۔ اس عرصے میں ججز کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ مشتبہ شخص کی حراست کی وجوہات سے اگر مطمئن نہ ہوں تو اسے رہا کرنے کا حکم دے دیں۔ گورے کافر اس پر بھی خوش نہیں تھے، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ 14 روزہ حراست کی مدت ہم عصر جمہوری ممالک کے مقابلے میں اب بھی کہیں زیادہ ہے، جبکہ کینیڈا میں فقط ایک روز اس طرح کسی کو حراست میں رکھا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   کوٹا سسٹم اور پاکستان - حبیب الرحمن

ادھر یہ حال ہے کہ یہاں 90 روزہ حراست کے بل پر ایک شخص روتا نظر آتا ہے، وہ بھی ”سُرخا“، جبکہ سالوں سے لاپتہ افراد کی جبری گمشدگی کے جواز دینے والے شاہ دولوں کا جم غفیر موجود ہے۔
ہم یہ جنگ جیت چکے، اعلانات بھی ہو چکے، اب تجربات سے دوسرے ممالک استفادہ کرنے کے خواہاں ہیں، لیکن لاپتہ افراد اور سلب کی گئی شہری آزادیاں تو کیا ہم ابھی تک اپنی سڑکوں کے واگزار ہونے کے منتظر ہیں۔

سوچتا ہوں برطانیہ میں بھی دہشت گردی اگر صنعت کا درجہ حاصل کر کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کا باعث بن گئی ہوتی تو وہاں آج بھی دہشت گردی کے سدباب کے بجائے دہشت گردوں کو ختم کیا جا رہا ہوتا۔ دہشت گرد ختم ہو گئے لیکن ان کے ساتھ ساتھ بہت کچھ ختم ہو گیا، جس کا ادراک بھی نہیں۔
آزاد عدلیہ، اظہار رائے کی آزادی، سنسر شپ سے آزاد میڈیا، اور باشعور لوگ۔ اگر کچھ بچا ہے تو عقل و خرد سے آزاد شاہ دولے ہیں۔