بھارت جنگ کی دھمکی کیوں دے رہا ہے؟ ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

بھارتی بری فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کے حالیہ بیانات کو جن میں پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کی بات کی گئی اور سرجیکل اسٹرائکس کرنے کی دھمکی دہرائی گئی، پاکستانی پرنٹ اور بالخصوص الیکٹرانک میڈیا میں بہت نمایاں طور پیش کیا جا رہا ہے۔ آئی ایس پی آر نے بھی اس پر اپنا رد عمل دیا اور پرائم ٹائم ٹاک شوز پر بھی اس پر مباحث جاری ہیں۔

سرکاری سطح پر جواب در جواب کا سلسلہ ایک روٹین کی کارروائی ہوتی ہے۔ تاہم اہم بات یہ ہے کہ عام آدمی کی سطح پر ہم یہ دیکھیں کہ بھارت پاکستان کے خلاف واقعی کوئی فوجی ایکشن کر سکتا ہے، یا اسے اس کی کوئی ضرورت بھی ہے یا نہیں؟

دوسری عالمی جنگ کے بعد ایٹم بم کی موجودگی نے ایک نئی قسم کی Low Intensity جنگ کو فروغ دیا جسے ہم پراکسی وار کہتے ہیں۔ یعنی باقاعدہ فوج کے بجائے مقامی افراد پر مشتمل باغی مسلح گروہوں کی تشکیل اور ان کی مدد سے تزویراتی اہداف کا حصول۔ اس میں باقاعدہ جنگ سے بچتے ہوئے جنگی نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چونکہ کوئی ملک باقاعدہ یا اعلانیہ طور پر اس میں شریک نہیں ہوتا، اس لیے کسی ملک کے خلاف فوجی کارروائی ممکن نہیں رہتی۔ اس وقت بھارت پاکستان کو اس کی طویل مغربی سرحد پر اسی قسم کی جنگ میں الجھائے ہوئے ہے۔ شمالی وزیرستان سے لے کر بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کا کردار ناقابل تردید ہے۔ کلبھوشن یادو کی گرفتاری اس کا بین ثبوت ہے۔ یہ بھی کہ کارروائیوں میں تسلسل سے لگ رہا ہے کہ کئی کلبھوشن اس وقت بھی اس خطہ میں متحرک ہیں۔ ابھی دو روز قبل شمالی وزیرستان میں ایک ایسی ہی کارروائی میں 9 دیشت گرد مارے گئے اور پاکستانی فوج کے 7 اہلکار شہید ہوئے، ان میں ایک افسر بھی شامل تھا۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے والے سب ہی افراد پاکستانی تھے۔ بھارت نے اپنا کچھ بھی نقصان کیے بغیر پاکستان کو زک پہنچا دی۔

دوسری طرف اس low Intensity جنگ کا ایک انداز مشرقی سرحد پر موجود ہے جہاں بھارت ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر وقفہ وقفہ سے گولہ باری کرتا رہتا ہے جس میں پاکستانی فوجیوں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کا بھاری جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے۔ اس طرح کے نقصانات سے عوام میں بددلی اور مایوسی پھیلتی ہے اور بسا اوقات وہ فوج کی کارکردگی سے بھی مطمئن نہیں دکھائی دیتے۔ وہ نہیں جانتے کہ پاکستان چاہتے ہوئے بھی جواب میں ایسی کارروائی نہیں کر سکتا کیونکہ کنٹرول لائن سے پار کشمیری آباد ہیں اور ان کو نقصان پہنچانے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ پاکستان کی آپشنز محدود ہیں اور وہ سوائے جواب دینے کے کوئی بڑا جارحانہ اقدام نہیں لے سکتا۔ نہ ہی اندھا دھند گولہ باری کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم سمجھنا ہی نہیں چاہتے - شیخ خالد زاہد

ستم ظریفی یہ ہے کہ مندرجہ بالا دونوں صورتیں ایسی ہیں کہ اس میں ایٹمی ہتھیاروں کا بطور ڈیٹرنٹ اثر نہ ہونےکے برابر رہ جاتا ہے۔ دشمن جنگ کو اس سطح پر رکھتا ہے کہ آپ اس میں ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کر سکتے، نہ اس کی دھمکی دے سکتے ہیں، اور یوں دشمن اپنی مرضی کے وقت پر یہ کارروائیاں جاری رکھتا ہے اور ہم سوائے پیچ و تاب کھانے کے کچھ نہیں کر سکتے۔

ان حالات میں جنرل راوت یا ان کی حکومت عقل سے پیدل ہوں گے کہ وہ کوئی ایسا قدم اٹھائیں جس سے پاکستان کو بھرپور جوابی کارروائی کا موقع مل جائے۔ نہ انہیں اس کی ضرورت ہے نہ وہ اس کے متحمل ہو سکتے ہیں۔

ضرورت اس لیے نہیں کہ وہ تو ٹھاٹھ سے بیٹھ کر پاکستان کو مغربی اور مشرقی سرحد پر بیک وقت زچ کیے ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کچھ بھی نہیں کر پا رہا۔ پراکسی وار یا جیسے کو تیسے والی آپشن جو ماضی میں معاملات کو قابو رکھنے میں ممد و معاون ہوا کرتی تھی کہ ایک بم دھماکہ اِدھر ہوا تو ایک اُدھر ہو گیا، وہ سب ممبئی حملوں کے بعد ممکن نہیں رہا کیونکہ بھارت اس کا الزام فوراً پاکستان پر دھر دے گا اور دنیا فی الفور اس کی بات تسلیم کر لے گی۔ دہشت گردی کی معاونت کرنے والی ریاست کا الزام پہلے ہی تلوار بن کر ہمارے سروں پر لٹک رہا ہے۔ دوسری طرف، جہاں تک کسی بڑی فوجی کارروائی کے نتیجہ میں پاکستانی جواب کا متحمل نہ ہو سکنے کی بات ہے تو ایک بار کچھ ایسا ہو گیا تو بھارت میں سرمایہ کاری کرنے والے سراسیمہ ہو کر وہاں سے بھاگ سکتے ہیں۔ یہ بات بھارت کسی طور برداشت نہیں کرسکتا۔

اس وقت بھارت کی داخلی صورتحال، خاص کر مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی بے چینی اور پھر اب "رافیل" لڑاکا ہوائی جہاز کے سودے میں مودی صاحب پر بدعنوانی اور رشوت کے الزامات کی وجہ سے بظاہر میڈیا اور عوام کی توجہ کسی اور جانب مبذول کروانا مقصود ہے، اس لیے گرما گرم بیانات دیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   خوف حکومت کی کامیابی کا ہے- مسز جمشید خاکوانی

اس تناظر میں اس وقت بھارت زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتا ہے کہ Low Intensity Conflict کے اپنے اس کھیل کو جاری رکھے، اور شاید اس میں کچھ اضافہ بھی کر دے۔ جب بھی ان کی جانب سے نئی دھمکی آئے تو مشرقی سے پہلے مغربی سرحد پر نظر رکھیں اور اپنی سرحدوں کے اندر بھی۔ یہ چیلنج ہمیشہ داخلی سیکیورٹی کے حوالہ سے سامنے آئے گا۔

بھارت نے ایٹمی ڈیٹرنس کا توڑ کر لیا ہے۔ ہمیں اب اس صورتحال کو نئے سرے سے دیکھنا ہوگا۔ اس سلسلہ میں مضبوط انٹیلی جنس، قابل اعتماد پولیس، اعلی تربیت یافتہ اور پوری طرح مسلح سول سیکیورٹی ادارے اور داخلی سیاسی استحکام اہم ترین اقدامات ہوں گے۔ فوج کو خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں روزمرہ امن سے متعلق معاملات جلد از جلد سول انتظامیہ کے حوالہ کرنا چاہییں اور خود پیچھے رہ کر ان کے ہاتھ مضبوط کریں۔ تاکہ مقامی سطح پر بھی فوج کو متنازعہ نہ بنایا جا سکے اور آپریشنل لحاظ سے بھی فوج مسلسل حالت جنگ کی کیفیت سے باہر نکلے۔ فوج تازہ دم ہوگی اور قوم اس کی پشت پر کھڑی ہوگی تو دشمن بھی دھمکاتے ہوئے کئی مرتبہ سوچے گا۔

آخری بات یہ کہ اس طرف مت دیکھنا شروع کر دیں جدھر دشمن اشارہ کر رہا ہے، ادھر دیکھیں جہاں سے وہ مسلسل حملہ آور ہے۔ پاکستان کے پاس اب صرف ایک deterrence ہے جو بھارت کی اصل یلغار کو روک سکتا ہے، مضبوط سول اسٹرکچر اور غیر متزلزل داخلی استحکام۔ اس وقت یہی دشمن کے لیے سب سے بڑا ایٹم بم ہیں۔

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.