نذیر قیصر کی شاعرانہ کہکشاں اور گورنر ہاﺅس میں تبدیلی- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

مبارک ہو سندھ میں تبدیلی آگئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پولیس کی وردی تبدیل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس سے کیا ہو پائے گا۔ پہلے ذہنوں اور دلوں میں تبدیلی آتی ہے۔ جس تبدیلی پہ دل نہ مانے‘ وہ کبھی لائی نہیں جا سکتی۔ اب دیکھیں کہ عمران خان ”تبدیلی“ کیلئے کیا کرتے ہیں۔

نوازشریف گئے اور عمران آگئے مگر تبدیلی؟ کیا نوازشریف کی ضمانت پر رہائی بھی ایک ”تبدیلی“ ہے۔ اس کیلئے ردعمل مریم نواز کی طرف سے آنا چاہئے مگر لگتا ہے کیپٹن صفدر کچھ نہ کچھ کہےںگے۔

جب سے پھر برادرم مشہود شورش گورنر ہاﺅس میں آئے ہیں‘ گورنر پنجاب سرگرم ہوئے ہیں۔ پہلے بھی جب وہ گورنر پنجاب تھے‘ تو مشہود شورش ہی ان کے پاس تھے۔ رفیق رجوانہ بھی اچھے تھے۔ جو گورنر پنجاب گورنر لگتا ہی نہ ہو‘ وہ اچھا لگتا ہے۔ میں اوربرادرم شاہد رشید انہیں عید ملنے گئے، وہ اکیلے بیٹھے ہوئے تھے۔

یہ ”عید“ منا رہے تھے۔ ایک عید پہ ہم دونوںمحترمہ رمیزہ مجید نظامی کو بھی عید مبارک کہنے گئے۔ مجید نظامی (مرحوم )بھی کو بھی ہم عید مبارک کہنے جاتے تھے۔

رفیق رجوانہ ایک بار نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں آئے۔ اتفاق سے صدر رفیق تارڑ بھی تھے۔ ایک ڈاکٹر رفیق احمد نظریہ پاکستان میں ہیں۔ اس طرح تین رفیق اکٹھے ہو گئے۔ وہ تینوں سٹیج پر بیٹھے ہوئے اچھے لگ رہے تھے۔ رفاقت کی خوشبو پہلے ہی نظریہ پاکستان میں بہت ہے۔

کوئی بھی بڑے عہدے والا یہاں آتا مگر صدارت مرشد و محبوب مجید نظامی کی ہوتی تھی۔ اب صدر رفیق تارڑ کی ہوتی ہے۔ مگر جب تینوں ”رفیق“ سٹیج پر تھے تو میزبانی میرے پاس تھی۔ شاہد رشید عمرے کیلئے گئے ہوئے تھے۔ برادرم فاروق الطاف نے سٹیج میرے حوالے کر دیا تھا۔

گورنر ہاﺅس میں صحافیوں کے ساتھ چودھری سرور کی ملاقات کی تقریب تھی۔ ان کی باتوں میں ایک دوستانہ ادا ہے۔ ایک بات مجھے اچھی لگی۔انہوں نے کہا کہ وہی لوگ بار بار اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں۔ شکر ہے کوئی حکومتی آدمی بھی ان معاملات کو اچھا نہیں سمجھتا مگر اس کا کھلے عام اظہار بڑی بات ہے۔ انہوں نے نوازشریف کے گورنر کے طورپر استعفیٰ دیا تھا۔

ہمارے ہاں استعفیٰ دینے کا رواج نہیں ہے۔ آخر کیا بات ہے کہ عمران خان نے بھی انہیں دوبارہ گورنر پنجاب بنایا ہے اور برادرم مشہود شورش بھی دوبارہ گورنر ہاﺅس آگئے ہیں۔ گورنر صاحب کو یہ فکر تھی کہ اب وہ کہاں جائیں گے؟

چودھری سرور نے یونیورسٹیوں کے حوالے سے بھی کوئی بات کی۔ گورنر چانسلر بھی ہوتا ہے ۔ ایک بات بہت حیرت انگیز ہے کہ ضمانت پر رہائی کے بعد نون لیگیوں نے بہت جشن منایا مگر جن کے لئے جشن منایا گیا، ان میں سے کوئی نہ بولا۔ اس طرح لوگوں کو باتیں بنانے کےلئے آسانی ہو جاتی ہے۔

کہتے ہیں عمران کا سعودی عرب جانا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔ ابھی وزیراعظم صاحب کو وہ باتیں بھولی تو نہ ہونگی جو انہوں نے وزیراعظم نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے سرکاری دوروں کے حوالے سے کی تھیں ۔ مگر عمران کا یہ دورہ سرکاری نہ تھا۔ ذاتی بھی نہ تھا زیادہ سے زیادہ اسے نیم سرکاری کہا جا سکتا ہے ۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ ضمانت کے اس فیصلے کے لئے ایسی ویسی بات تو نہیں کی جاسکتی۔ پاکستان میں سیاستدانوں کے نئے فیصلے ”فاصلے “ بڑھاتے ہیں گھٹاتے نہیں ہیں ۔ اعتزاز نے جسٹس اطہر من اللہ کے لئے اچھی باتیں کیں ۔ وہ مستحکم شخصیت کے آدمی ہیں ۔ ان کے فیصلے میں کوئی جھول نہیں ہے اس فیصلے کے لئے کسی دباﺅ کو قبول نہیں کیا گیا۔

میری بھی شناسائی جسٹس اطہر من اللہ سے ہے ۔ جب وہ جسٹس نہ تھے میں نے محسوس کیا کہ وہ دل والے آدمی ہیں ۔ ان کی صاحبزادی ثمر من اللہ بھی وکیل ہیں۔ بہت لائق ہیں ان کی دانشورانہ باتیں کبھی کبھی سننے کو آتی ہیں ۔ وہ بھی دلیری سے اظہار خیال کرنے والیوں میں ایک اچھی شہرت رکھتی ہیں ۔

مجھے راولپنڈی سے شائع ہونے والا رسالہ ”کہکشاں “ ملا ہے جس کی چیف ایڈیٹر فرزانہ جاناں ہیں معاون ایڈیٹر اسد بیگ ہیں ۔”سب ایڈیٹر “میاں محمد اعظم ہیں ۔ مجھے اب تک پتہ نہیں چلا کہ یہ ”سب ایڈیٹر“ کیا ہوتا ہے اکثر سب ایڈیٹر کا منصب اخبارات میں ہوتا ہے .... ایک جملہ سنیں جو ایک دوست نے کہا کہ میں فلاں اخبار کا ایڈیٹر ہوں باقی پندرہ بیس آدمی سب ایڈیٹر ہیں۔ مجلس مشاورت میں ڈاکٹر رشید امجد، جمیل یوسف ، کرامت بخاری، نسیم سحر ، سلیم ناز ، الطاف عاطف ، ڈاکٹرروش ندیم ہیں۔ شاید یہ سب لوگ مل کر مشورے فرزانہ جانان کو دیتے ہوں۔

بہرحال یہ رسالہ ”کہکشاں “ ایک بہتر علمی و ادبی رسالہ لگتا ہے اور غنیمت ہے کہ یہ زمانہ ادبی رسالوں کا نہیں اور علمی وادبی رسالوں کا توبالکل نہیں اس رسالے میں افتخار مجاز نے ایک تحریر میرے بارے میں بھی لکھی ہے۔ اصل میں ایک ذہین طالبہ فریدہ تاج نے میرے بارے میں کسی یونیورسٹی کیلئے ایک مقالہ لکھا تھا۔

پھر اسے کتابی صورت میں علامہ عبدالستار عاصم نے شائع کردیا۔ انہوں نے کچھ دوستوں سے میرے لئے چند مضامین بھی لکھوائے ۔ افتخار مجاز نے بھی ایک تحریر لکھی تھی جو ”کہکشاں‘’ میں بھی چھاپ دی گئی ہے اس کے علاوہ بھی کئی پڑھنے سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں۔ ممتاز راشد، آسناتھ کنول، تسنیم کوثر، کرامت بخاری، فرزانہ جاناں کے علاوہ بھی کئی نام ہیں۔ پر مجھے یاد نہیں رہے۔

ایک بات جس نے اس رسالے کو یادگار بنا دیا ہے وہ گوشتہ نذیر قیصر ہے۔

بڑے بڑے لوگوں نے اس کے بارے میں بہت اچھی باتیں کی ہیں : فیض احمد فیض، صغریٰ تبسم، فتح محمد ملک، احمد ندیم قاسمی،منیر نیازی، بانو قدسیہ، اشفاق احمد، افتخار عارف، امرتا پریتم، ناصر کاظمی، حسن نثار، عرفانہ عزیز، جیلانی کامران کشور ناہید، ڈاکٹر ضیاءالحسن، حمیدہ شاہین، عباس تابش، اعجاز ثاقب، فہمیدہ ریاض، زوبیہ انور، شہزاد احمد، ثروت حسین، مظہر اسلام، منصور آفاق کے علاوہ بھی کچھ لوگ ہیں۔ ایک بات بہت اچھی بھی ہے اور تکلیف دہ بھی ہے۔ ممتاز دانشور اور سینئر ترین نقاد بہت پسندیدہ ادیب پروفیسر فتح محمد ملک نے کہی ہے۔

نذیر قیصر کو پرائڈ آف پرفارمنس 25سال پہلے مل جانا چاہئے تھا مگر حیرت ہے کہ یہ ناانصافی ابھی تک جاری ہے۔ صوفی تبسم نے لکھا کہ نذیر قیصر کی شاعری میرے قبیلے کے سردار شاعری کے خان اعظم منیر نیازی کہتے ہیں۔ نذیر قیصر کی شاعری چمکتے چاند کی طرح طلوع ہوتی ہے۔ پروین شاکر نے کہا کہ نذیر قیصر میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔ ممتاز مفتی نے اس طرح اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ نذیر قیصر کو پڑھ کر میں اس سے ملنے کو بے چین ہو گیا۔

اشفاق احمد نے میرے دل کی ترجمانی کی۔ میں نذیر قیصر کے عاشقوں میں سے ہوں ایک زمانہ تھا کہ نذیر قیصر کے ساتھ میری بہت دوستی تھی‘ اب میں اسے کسی اور زمانے میں ڈھونڈ رہا ہوں اور مجھے منصور آفاق کا یہ جملہ ہانٹ کرتا ہے۔ نذیر قیصر مولانا روم کی طرح چراغ لے کر کسی مکمل آدمی کی تلاش میں ہے مگر آدمی نہیں آدمیوں کی دھول دکھائی دیتی ہے اور خدا بھی اسے ملول نظر آتا ہے