ظالمو! کلمہ پڑھانے کا بھی احسان گیا- ارشاد احمد عارف

جب معرکۂ کرب و بلا کے بعد حضرت حسین ابن علی ؓ کے پسماندگان کا لٹا پٹا قافلہ یزید کے دربار میں پیش کیا گیا تو فتح کے نشے میں چور اسلامی تاریخ کے اس پہلے غاصب حکمران نے خاندان رسول ﷺ پر طعن و تشنیع کے تیر چلانے شروع کر دیے کیونکہ اس قافلہ کے سربراہ حسینؓ نے یزید کے شخصی اور موروثی اقتدار کو للکارا تھا۔

جبر‘ خوف‘ دہشت اور غم و الم کی اس کیفیت میں بھی حضرت حسینؓ کی ہمشیرہ زینبؓ بنت فاطمہؓ نے ہراساں ہوئے بغیر یزید سے کہہ دیا کہ ’’تو زبردستی حاکم بن بیٹھا ہے‘ ظلم کرتا ہے‘ لاف زنی تیرا شیوہ ہے اور تو اپنی قوت سے مخلوق خدا کو دباتا ہے۔‘‘ معرکۂ کرب وبلا مسلمانوں کی تاریخ کا عجیب واقعہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ سے براہ راست فیض حاصل کرنے والے برگزیدہ اصحابﷺ کی زندگی میں نواسۂ رسول ﷺ کو دن دیہاڑے بے دردی اور شقاوت قلبی کے ساتھ شہید کر دیا گیا۔

ان کے اولوالعزم اور پاکیزہ اطوار ساتھیوں‘ بھائیوں‘ بیٹوں اور عزیزوں کو تہہ تیغ کیا گیا۔ فرات کے پانی پر پہرہ تھا اتنا سخت کہ چھ ماہ کے اصغر ؓ پیاسے شہید ہوئے۔مگر خاندان رسول ؐ کا خون بہانے کی آزادی تھی اور رسول اللہ ﷺ کی گود میں کھیلنے اور زبان کو چوسنے والے حق و صداقت کے پیکر کی لاش کی بے حرمتی کی گئی‘ اس پر گھوڑے دوڑائے گئے اور سروں کو نیزے پر چڑھا کر فتح کا جشن منایا گیا۔

جگر گوشۂ حسین حضرت زین العابدین ؓ بزبان حال کہتے ہی رہ گئے ؎ تم پہ اور میرے ’’ناناؐ ‘‘کی عنایت نہ سہی ’’ظالمو‘‘! کلمہ پڑھانے کا بھی احسان گیا حسین ابن علیؓ سے یزید کا مطالبہ کیا تھا؟ بس یہ کہ اس کے اقتدار کو جسے خاندان رسولؐ غاصبانہ قرار دیتا تھا درست تسلیم کیا جائے اور اطاعت گزاری کے لیے اس کے ہاتھ پر بیعت کر لی جائے۔

عمر وبن سعد اور ابن زیاد صلح صفائی کی جو کوششیں کرتے رہے اور حضرت حسینؓ بھی جنگ سے بچنے کے لیے وقتاً فوقتاً جو تجاویز یا شرائط پیش کرتے رہے اس میں کہیں بھی اقتدار میں شراکت یا بزور طاقت تخت یزیدپر قبضہ کرنے کا ذکر نہیں۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ اہل مکہ سے یہ اصول منوانا چاہتے تھے کہ خدا کی وحدانیت کا اقرار کرنے والوں کو اظہار مافی الضمیر کی آزادی ہو اور اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے‘ دین حق کا پرچار کرنے پر کسی قسم کی قدغن نہ ہو۔

اسی طرح حضرت حسینؓ بھی آخری وقت تک اس مؤقف پرڈٹے رہے کہ وہ یزیدکے موروثی اور خاندانی اقتدار کو تسلیم نہیں کرتے اور اہل اقتدار کو ان کا یہ حق تسلیم کرنا چاہیے۔

معرکۂ کربلا برپا ہوا‘ خاندان رسولؐ نے سروں کے نذرانے پیش کئے اور رہتی دنیا تک کے لیے پیغام چھوڑا کہ ؎ سرداد نہ داد دست در دست یزید حقا کہ بنائے لا الہ است حسینؓ واقعۂ کربلا کو صدیاں گزر گئیں‘ ہم نے اس سانحہ کو یاد رکھا‘ اپنی ماتمی مجلسوں اور یاد حسینؓ کی محفلوں میں اپنی تحریروں اور تقریروں میں‘ مسجدوں اور عزا خانوں میں سانحۂ کربلا کے ذمہ داروں کو خوب لعنت ملامت کی‘ انہیں جہنمی قرار دیا اور ان کی شقاوت قلبی کے علاوہ یزید کی ہوس اقتدار اور اسلام کی اعلیٰ و ارفع اقدار و روایات‘ اصولوں کو پامال کرنے کی پالیسی کی مذمت کی‘ خاندان رسولﷺ کی شجاعت و دلیری پر عش عش کرتے رہے مگر اطاعت اور تابعداری کا مرکز انہیں بنائے رکھا جو اپنی قوت بازو‘ قبائلی و سیاسی عصبیت‘ چنگیزی اوصاف اور سازش و ریشہ دوانی کے ذریعے ہمارے سروں پر مسلط ہو گئے‘ ہم نے دولت اور طاقت کی پرستش سے کبھی منہ نہیں موڑا۔

یہی وجہ ہے کہ آج بھی بہت سی مسلم ریاستوں میں عوام کی خوشدلانہ تائید و حمایت اور خوشنودی سے اقتدار حاصل کرنے کا کوئی رواج نہیںجہاں ہے وہاں بھی چند خاندان مسلط ہیں جنہیں ’’باشعور ‘‘عوام نے بتو ں کا درجہ دے رکھا ہے اور ان کی پرستش خشوع و خضوع سے کرتے ہرگز نہیں شرماتے ۔

زور زبردستی لالچ ‘ مکروفریب اور ضمیروں کی خریدوفروخت سے اقتدار پر قابض ہونے کی جو رسم یزید نے ڈالی تھی اورا طاعت نہ کرنے والوں کو تباہ کرنے کی جس روایت نے کربلا میں جنم لیا تھا‘ ہم آج بھی اس کا تحفظ پوری جانفشانی سے کر رہے ہیں۔

ہمیں ابوبکرؓ و علیؓ کی خلافت پر تو اختلاف نظر آتا ہے اور اس اختلاف کی وجہ سے ایک دوسرے کو موت کے گھاٹ اتارنے کے علاوہ ایک دوسرے کی مسجدوں ‘ امام بارگاہوں کو بموں‘ خود کش بمباروں سے تہس نہس کرنے کے واقعات بھی مسلسل رونما ہوتے ہیں لیکن نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر مسلم ریاستوں میں رائج یزیدی طرز حکمرانی کو چیلنج کرنے والوں کا آج بھی کوئی پرسان حال نہیں۔

یزیدی طرز حکمرانی کیا تھا؟ اقتدار کی باپ سے بیٹے اور بیٹی کی طرف منتقلی اور وسائل کی تابعدار‘ خوشامدی وفاداروں میں تقسیم‘ شاہانہ طرز زندگی اور امانت میں خیانت کا ارتکاب۔

صدیوں کی بادشاہت‘ ملوکیت ‘ آمریت اور یزیدی انداز حکومت نے ہمارے ذہنوں کو مسخر کر لیا ہے اور ہم مان چکے ہیں کہ ریاست و سیاست کے معاملات بھی جنگ اور محبت کی طرح کے کھیل ہیں جس میں سب جائز ہے۔ بے اصولی‘ بے وفائی‘ حرص و ہوس‘ لوٹ مار اور مکرو فریب‘ حتیٰ کہ اپنی قوت سے مخلوق خدا کو دبانے والوں اور دھن‘ دھونس‘دھاندلی سازش سے حاکم بن بیٹھنے والوں کی اطاعت بھی۔ کیونکہ دوسری صورت میں نقصان کا اندیشہ ہے اور دانش عصریہ ہے کہ انسان گھاٹے کا سودا نہ کرے۔

سچ یہ ہے کہ ہم زندگی یزید کی جینا چاہتے ہیں اور آخرت حسینؓ کی طلب کرتے ہیں۔آج کے دن ہمیں سوچنا چاہیے کہ صرف پاکستان ہی نہیں عالم اسلام کے زوال اور بربادی کا سبب کہیں ہم خود تو نہیں‘ ہمارا منافقانہ ‘ مفاد پرستانہ اور خود غرضی پر مبنی طرز عمل۔