داؤسی - مہران درگ

داؤسی ہم سب میں چھوٹی تھی۔ ناٹا قد تھا، گول دمبڑ سی ناک تھی، بلوری آنکھیں،گہری بھنویں، جب وہ لال بھبھوکا ہو کر آنکھیں بند کرتی تو اس کی داہنی آنکھ کے پپوٹے پہ اک گہرا تل نظر آنے لگتا۔ پہلی نظر میں دیکھنے پر معلوم ہوتا کہ جیسے اس تل میں پروردگار کا دل ہے۔ وہ ایسا خاص ہی کرتی کہ اس نے آنکھیں بند کی ہوں، اس ہاتھ چکوند نینوں کے برمے گاڑ کے دیکھتی۔ شاذ ہی غصے ہوتی، دھڑلے کی جنس تھی۔

داؤسی کے ابا ڈاک میں تھے۔ ان کے اچھے دن تھے۔ موسم کی پہلی سبزی، پہلا کپڑا، پہلا پھل، انھی کے گھر آتا۔ اک مٹی کی دیوار ہمارے اور اس کے گھر کو جوڑتی تھی یا کاٹتی تھی۔ بھرم بھی وجود کا سیمنٹ ہے، ہمارے طرف کی دیوار کا تو اماں نے مٹی کے سفید لیپے دے دے اس میں سانس رکھ رکھے تھے، بھرم رکھ رکھے تھے۔

ساون چڑھے کو سندھو سے سکھری کھجوریں آئیں تو اس کی قطمیر لگی، تازہ تازہ گٹھلیاں مٹھی میں لے کر اُس ہاتھ ہمارے صحن کی طرف اچھالا کرتیں، اور اِس ہاتھ دادی کھٹاک کی کن من سن کر چارپائی کے سیروں کو وہ کچوکے دیتی کہ، ہے رسول کے ابا، ان کی کائنات ڈوب جائے!
خان پور سے سفید چونسے کے چھابڑ آئے تو اس کی لمبی لمبی قاشوں کی پتلی پتلی چھلکیاں لے کر ہمارے اس طرف اچھال دیں، جن کی خوشبو دادی کا فشار اور میری بھوک متزلزل کرتی۔

ایسا نہیں ہے کہ داؤسی لوگ بے مروت واقع ہوئے تھے۔ آم، گٹھلیوں کے بیج اور چھلڑ میرے لیے ان کا اشارہ ہوتا۔
رسول! آجاؤ، ابا کجھوریں لائے۔
رسول! آجاؤ، ابا آم لائے۔
اور دادی بڑھیا ریں ریں کرتے ہوئے اس پار والوں کو بڑھ چڑھ کر کوسنے دیتی۔ دانت بھینچ بھینچ مٹھیوں کے پیالے بنا بنا غیر مری میوں کی باقیات اچھال اچھال کر جی کڑا کرتی۔ ہے ناٹے بونے بد لحاظے۔

کیا ہوا کہ داؤسی اک چاند رات کو تاج ویل کا مچھی ٹانکا لگا کرتا لیے دیوار سے چڑھ آئی، اماں سے کہنے لگی تائی یہ حُسین کا کرتا دیکھو، درزی نے قد سے کیسا کرکے چھوٹا سی ڈالا۔ دیکھو اس کو بڑا کرسکو تو کر دو۔ پھر ٹکر ٹکر تکنے لگتی۔ کتنا چھوٹا؟ وہ کندھے اچکاتی۔ اماں مجھے آواز دیتی، رسول! اس کے چڑھا کے بتا کتنا چھوٹا۔ دیکھوں تو اس کے بغیے۔ میں چارپائی کی پاہنی سے اتر کر نظریں جھکائے جھکائے اسے گردن کے راستے کندھوں تک چڑھا لیتا، اور داؤسی کی تیز آنکھوں کی تپش سے زمین میں اترتا جاتا۔

اوپر سے نیچے تک دیکھ کر بولتیں، یہ تو حُسین سے بہت تنگ رہا ہوگا، اتار اس کو۔ اماں کہتی، داؤسی۔ تو ہی کہہ بڑا تو چھوٹا ہو سکتا ہے، چھوٹے کو بڑا کیسے کروں؟ کرتے کو تہہ لگا کر داؤسی کو دیوار سے پکڑاتی۔

داؤسی کی تیز آنکھیں میرے ماتھے کو گھورتے ہوئے دیوار کے دوسری طرف ڈوب جاتیں۔ کچھ ہی اثنا میں اڑتا ہوا کرتا آتا۔ اور پیچھے سے داؤسی کی آواز آتی۔ ہم نہیں پہنتے کسی کی اترن چڑھا کر پرانا کرکے پکڑا دیا۔ مکار لوگ
اور میں آنکھیں بند کرکے کمرے کی طرف دوڑ لگاتا۔
دادی ریں ریں کرنے لگتی،
ہے! رسول کے ابا، تیری کائنات ڈوب جائے۔

Comments

مہران درگ

مہران درگ

بنیاد مکران کیچ پُنل سے، مقیم شہر، گور گرد گرما و گدا ملتان، تعلیم زرعی گریجویٹ، شاعر اور شاعری، درویش اور درویشی دونوں پسند، جدید نظم، جدید و قدیم نثر، فکشن، افسانوی ادب، تصوف، رد الحاد، دلچسپی کے موضوع تھے، ہیں اور رہیں گے. ابھی بھی سمجھتا ہوں کوکھ مادر میں ہوں کہ بہت سی گرہیں ابھی باقی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.