سمجھ سے بالاتر نکتے - محمد عامر خاکوانی

ہمارے بہت سے دانشوروں،اخبارنویسوں اور تجزیہ کاروں کی کئی باتیں عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ شائد یہ لوگ ایسی معرفت کی زبان میں اظہار کرتے ہیں جنہیں سمجھنا عوام کے بس سے باہر ہے یا پھربعض باتیں ابھی تک ہمارے ان دانشوروں کو بھی سمجھ نہیں آ رہیں۔ فریکوئنسی ایک سی نہیں یا دوسرا مسئلہ، کچھ نہ کچھ گڑبڑ بہرحال ضرور ہے۔ اس مس کمیونکیشن کی شکایات عام لوگ کر رہے ہیں، مگر بدقسمتی سے اب پاکستان میں بسنے والے لوگوں کے طبقات خاصے مختلف ہوچکے۔میڈیا میں کام کرنے والے ایک دوسرے سے دور،مختلف دنیاﺅں کے باسی ہیں۔باہمی فاصلہ اتنا زیادہ ہے ایک دوسرے کی آواز نہیں سنائی دیتی۔ویسے یہ بات غلط لکھی گئی، بلند وبالا مقام پر موجود طبقے کی آواز تو ہر خاص وعام کے کانوں میں پڑتی ہے۔ کوئی چاہے یا نہ چاہے، ہرشام سات سے گیارہ تک اسے چند چہروں کا دیدار اور ان کی” علم وفضل“ میں ڈوبی بلکہ لتھڑی گفتگو سننا پڑتی ہے۔ میڈیا کے سپرسٹارز روزانہ شام کو آراستہ، پیراستہ اپنے ٹاک شوز میں جلوہ افروز ہوتے ہیں، تاریخ میں کبھی مغل بادشاہ ایسے جھروکوں سے عوام کو دیدار کرایا کرتے تھے۔ اپنی پسند کے موضوعات پر وہ بلاتکان بولتے ہیں اور بعد میں مصاحبوں سے اپنی انرجی کی داد وصول پاتے ہیں۔دلچسپ بات ہے کہ ہفتہ میں سے تین چاریاپانچ دن یہ اپنے ٹاک شو کرتے ہیں اور باقی ماندہ دنوں میں کسی ساتھی اینکر کے پروگرام میں بیٹھے نظر آتے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ عالی جناب /جنابہ کوئی سوختہ نصیب اگر آپ کی ”شیریں“ آواز سے ”محروم“ رہنا چاہتا ہے تو اسے یہ راحت کیسے مل پائے گی ؟کوئی مائی کا لال نہیں جو انہیں روک سکے، ان کے تیز دھار تبصروں کا جواب دے یا پھران سے سوال پوچھے۔اس طبقے تک رسائی ممکن نہیں۔فون و ہ اٹھاتے نہیں، ای میلز دیکھتے نہیں، سوشل میڈیا پر تنقید کرنےو الوں کو بلاک کر دیا جاتا ہے، سوال کہاں اور کس سے پوچھا جائے؟

لیفٹ کے نظریات اور سیاست سے زمانہ طالب علمی میں بھی کبھی دلچسپی محسوس نہیں ہوئی۔ مارکس کے انقلابی نظریات، پاکستانی سوشلسٹوں کی اصطلاحات، ان کی من پسند تعبیرات .... یہ سب غیر دلچسپ اور گھسے پٹے لگے۔ اگر اس وقت کچھ سیکھ لیتا تو شائدآج کی اس نئی طبقاتی تقسیم پر زیادہ بہتر انداز سے روشنی ڈال سکتا ۔ خاکسار کا تعلق چونکہ میڈیا سے ہے، شائد ہی کوئی دن خالی جاتا ہو، جب کہیں نہ کہیں سے میڈیاپر تنقید کے تھپیڑوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ای میلز کا زمانہ لد چکا، اب تو فیس بک اور واٹس ایپ میسج کاعہدہے ۔ہر روز متعدد سخت تنقیدی تبصروں، جھلائے ہوئے ٹیکسٹ میسج،کاٹ دار سوالات اورتلخی میں ڈوبی ہوئی سوشل میڈیا کی پوسٹیں۔ یہی شکایت ہوتی ہے کہ میڈیا کے بیشتر جغادری اپنے پروگرام میں ملک کے ہر شعبے کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں،ان کے تیز دھار تیروں سے کوئی محفوظ نہیں، لیکن جہاں کہیں ان کی کوئی رائے، تجزیہ غلط ثابت ہوا، وہ اس پر اعتراف کرنے یا معذرت کرنے کی زحمت نہیں فرماتے۔ اگلے روز ایک پرانے کالج فیلو کا فون آیا۔ سلام دعا کے بعد انہوں نے تنقید کی بوچھاڑ کر دی، پے درپے کئی جملے اچھالے۔ بدحواس ہو کر ان سے پوچھا ،آخر ہوا کیا ہے، میڈیا والوں سے اتنی ناراضی کیوں؟ کہنے لگے میں میٹرک کے زمانے سے اخبار اور کالم پڑھتا ہوں، آج سے تیس سال پہلے بھی ملک کے نامور لکھنے والے اپنے کالموں، تجزیوں میں یہ لکھتے تھے کہ ہمارے حکمران اور اعلیٰ افسروں شاہانہ انداز میں رہتے ہیں، سینکڑوں، ہزاروں کنال کی قیمتی زمین ان کے زیراستعمال ہے، جن کی دیکھ بھال کے لئے ہزاروں ملازم مقرر ہیں، کاش کوئی ایسی حکومت آئے جو یہ شاہانہ اللے تللے ختم کرے۔ اب اتفاق سے ایک ایسی حکومت آ گئی جو یہ سب ختم کرنا چاہتی ہے تو آپ کے میڈیا ہی سے لوگ کھڑے ہو کر اس پر تنقید کر رہے، عجیب عجیب اعتراض کر رہے ہیں کہ بڑے شاہانہ گھروں سے چھوٹے گھروں، کم گاڑیوں اور چند ایک ملازم رکھنے سے کیا بچت ہوجائے گی؟ میرے دوست جو خود بھی ایک محکمے میں سرکاری ملازم ہیں، کہنے لگے کہ یار اتنی سادہ بات آپ کے بڑے بڑے دانشور نہیں سمجھتے کہ بات بچت کی نہیں، بات اصول کی ہے، روایت قائم کرنے اور منفی رجحان ختم کرنے کی ہے۔ میرے پاس اس تنقید کا کوئی جواب نہیں تھا، صرف یہ کہہ کربات ختم کر دی کہ بھیا ہم تو صرف اپنی تحریر، گفتگو کے ذمے دار ہیں، اس پر اعتراض ہو تو بات کرو۔

ویسے دو تین باتیں میری بھی سمجھ میں نہیں آئیں۔ اگر حکومت سادگی کی بات کر رہی ہے تو اس میں کیا خرابی ہے؟ ممکن ہے کہ جو بلند وبالا دعوے کئے جار ہے ہوں، وہ پورے نہ ہوں، بعض خواب ادھورے رہیں، وعدے ایفا نہ ہوں، مگر کچھ نہ کچھ تو ہو ہی جائے گا۔اہم بات یہ ہے کہ ایک غریب ملک کے حکمرانوں، انتظامیہ کوسادگی کے ساتھ اور اپنے عوام سے ملتے جلتے طرز زندگی کے ساتھ جینا چاہیے۔آج ہی ایک اخباری خبر میں اعلیٰ افسران کے گھروں کی تفصیل شائع ہوئی جو ہوش اڑا دینے والی ہے۔رپورٹ کے مطابق پنجاب میں تقریباً نو ہزار کنال پر چار سو ارب مالیت کی عالیشان سرکاری رہائش گاہیں موجود ہیں، جن کی دیکھ بھال پر سرکاری خزانے سے دس ارب روپے خرچ کئے جار ہے ہیں۔ پنجاب کے چیف سیکرٹری کی رہائش گاہ بائیس کنال، آئی جی پچیس کنال، کمشنربیس کنال جبکہ دیگر سیکرٹریز کو بیس، پندرہ، دس اور پانچ کنال کے گھر الاٹ کئے گئے۔ سپیکر، ڈپٹی سپیکر کو دس دس کنال کے گھر ملے ہیں، ڈپٹی کمشنر لاہور کا گھر پچیس کنال کا بتایا گیا ہے۔ کمشنر سرگودھا ہاؤس ایک سو چار کنال پر مشتمل ہے، جس کے لئے تین درجن سے زیادہ ملازم تعینات ہیں۔ ایس ایس پی ساہی وال 98 کنال، ڈپٹی کمشنر میانوالی پچانوے کنال، ڈی سی فصل آباد بانوے کنال، ڈی سی گوجرانوالہ ستر کنال کے گھروں میں مقیم ہیں۔

مختلف اضلاع میں پولیس اور انتظامیہ کے افسروں کے گھروں کے حوالے سے خوفناک تفصیلات دی گئی ہیں۔ کوئی پوچھے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں کروڑوں لوگ غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، وہاں ایسے اللے تللوں کی کیا گنجائش ہے؟ حیرت اور نہایت افسوس ہے ان قلم کاروں پر جو ایسی عیاشی کو مختلف جواز نکال کر سپورٹ کر رہے ہیں۔ عمران خان سے لاکھ اختلاف کئے جا سکتے ہیں، مگر یہ کام درست ہے، اسے سپورٹ کرنا چاہیے۔ بہت ہوچکا، اب اس لوٹ مار کو ختم کرنا چاہیے۔

ایک بات اور میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہمارے ہاں ہر کوئی بیوروکریسی کو معتوب تو کر رہا ہے، مگر جن وجوہات کی بنا پراس کا سٹرکچر تباہ ہوا، یہ شاندار اور پروفیشنل سول سروس اپنا معیار تباہ کر بیٹھی، ان خرابیوں کو دور کرنے کی جب کوشش کی جا رہی ہے تو پھر اسے سپورٹ کیوں نہیں کیا جا رہا؟یاز امیر جیسے تجربہ کار شخص کی بیوروکریسی پر اندھا دھند تنقید عجیب لگی۔ دنیا میں کوئی شعبہ ایسا نہیں جو سو فی صد خراب ہو، اچھے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں اور بہت سے ایسے بھی جن کے پاس کوئی اور آپشن ہی نہیںتھا۔ عزیمت کے دعوے آسان ،مگر ملازمت داﺅ پرلگانا مشکل۔سول سروس میں سیاسی مداخلت سے خرابی پیدا ہوئی۔ انہیں غیر سیاسی اور پروفیشنل بنایا جائے،اختیار دیں، اعتماد پیدا کریں اور پھر سخت ترین احتساب کا نظام رائج کریں۔ بیوروکریسی کو مکمل ختم تو نہیں کر سکتے ،پھر ملکی نظم ونسق کیسے چلے گا؟ ہمیں ادارے مضبوط اور بہتر بنانے ہیں، انہیں سرے سے ختم کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

ضمنی انتخاب کے لئے تحریک انصاف نے اپنے امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔ عام انتخابات کی طرح ضمنی انتخابات میں بھی تحریک انصاف نے زمینی حقائق سامنے رکھ کر فیصلے کئے ہیں۔ لاہور میں خواجہ سعد رفیق کے مقابلے میں ہمایوں اختر کو ٹکٹ دینا ایسا ہی ایک فیصلہ ہے، جسے سراہا تو نہیں جا سکتا، مگر شاید متبادل آپشن موجود نہیں تھی۔ ولید اقبال کو مگر سینٹ میں ایڈجسٹ کرنا چاہیے، انہوں نے پارٹی کے لیے کام کیا ہے اور اب چودھری سرور کی چھوڑی سیٹ پر انہیں موقع ملنا چاہیے ۔ راولپنڈی میں حنیف عباسی والی نشست پر انتخاب نہیں ہو پایا تھا، اس وقت تحریک انصاف نے یہ سیٹ شیخ رشید کی عوامی لیگ کو دے دی تھی، اب ضمنی انتخاب میں بھی عوامی لیگ ہی کا امیدوار لیا گیا ہے۔ ہمارے بعض صحافی دوستوں نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے، جس سے اتفاق نہیں۔ اس سیٹ پر شیخ رشید کے ساتھ ایڈ جسٹمنٹ کی گئی تھی، اب ظاہر ہے اس پر شیخ صاحب کا امیدوار ہی آئے گا، جیسے گجرات میں چودھری پرویزالٰہی کی چھوڑی سیٹ پر ان کا بیٹا اور چکوال میں چودھری شجاعت حسین لڑ رہے ہیں۔ تحریک انصاف نے گجرات اور چکوال کی طرح پنڈی میں بھی اپنی اتحادی جماعت کو دی گئی سیٹ واپس نہیں لی۔ یہ دانش مندی ہے۔ سیاست اتحاد اور اتحادی بنائے رکھنے کا نام ہے۔ شیخ رشید بہت سے لوگوں کو ناپسند ہوں گے، مگر عمران خان کے لئے اہم ہیں، انہیں خواہ مخواہ ناراض کرنے کی کیا تک ہے؟ ویسے بھی جو سیٹ شیخ رشید کو دے دی گئی، اب اس پرتحریک انصاف دغا کیوں دے؟ کراچی میں عمران خان کی چھوڑی سیٹ پر فکس اٹ کے عالمگیر خان کو ٹکٹ دینا اچھا فیصلہ ہے۔ یہ نوجوان عوام کو اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سیٹ جیت لی تو مقامی سطح پر پارٹی کے لئے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.