'میرا کوہ نور' - محمد ابراہیم قاضی

10 ستمبر 2018ء کو اس ناچیز نے زندگی میں تیسری مرتبہ یتیمی کی خزاں اور اس کی کرختگی کو سہا جب محترم استاد حسن صہیب مراد رحمہ اللہ کی اس دنیا سے رخصت ہونے کی دلخراش خبر سماعتوں سے ٹکرائی۔ وہ اتنا بھیانک لمحہ تھا کہ مجھ پر جیسے کوہ غم توڑ دیا گیا ہو اور اس وقت کوئی پوچھنے والا نہ تھا کہ میں کیوں اتنا افسردہ ہوں۔ لیکن پھر دل کو تسلی دینے کے لیے اللہ کا کلام یاد آیا کہ 'یہ دنیا محض دھوکہ کا سامان ہے'، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث یاد آئی کہ 'موت مؤمن کے حق میں ایک نادر تحفہ اور ہدیہ ہے'۔

ستمبر 2005ء میں قاضی حسین احمد رحمہ اللہ نے اسلام آباد میں استاد کے حوالے کیا اور ان کی غیر موجودگی میں حکم دیا کہ ان کے ساتھ آخر وقت تک وفا کرنا۔ دوران تعلیم مجھ پر ارسلان خان خاکوانی صاحب نے مہربانی کی اور مجھے جہان تازہ سے متعارف کروایا جس کے لیے میں تاحیات ان کا احسان مند ہوں، جب خاک سے کندن بن گیا تو جون 2008ء میں استاد کی خدمت میں حاضر کر دیا گیا، اور 10 سال کی قربت کے بعد ان کو لحد میں اتار کر جان آفریں کے سپرد کردیا۔ اللہ تعالی راہ حق میں ان کی جدوجہد کو قبول فرمائے۔ آمین

دسمبر 2014ء میں برادر عاطف اوزبے سے انقرہ میں ملاقات کے بعد طے کیا کہ ڈاکٹر حسن صہیب مراد کے علم اور شخصیت کے احترام کا تقاضا ہے کہ ان کو استاد کے لقب سے پکارا جائے۔ ہم نے اس موضوع کا احاطہ کیا کہ وہ کس طرح خرم مراد، قاضی حسین احمد، نجم الدین اربکان رحمہ اللہ تعالیٰ اجمعین اور پروفیسر خورشید احمد کا عصر حاضر میں متبادل تھے۔ کئی دفعہ ارادہ کیا کہ انہیں یہ احساسات بتا دیں مگر ان کا عمل کہ ''اپنی شخصیت کو پیچھے رکھ کر مقاصد کو آگے رکھنا''، ایسی جرات کرنے پر آمادہ نہ کرسکا۔

ان کا پہلا سبق حسن خلق تھا۔ بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت ان کا پیام تھا۔ جوان لہو جب جوش مارتا تھا تو ان کا محبت سے لبریز مسکراہٹ بھرا انکار اور اشارہ بریشم کی طرح نرم کر دیتا تھا۔ وہ اپنے سخت ترین دشمن کو بھی اعلیٰ اخلاق سے سرنگوں ہونے پر مجبور کر دیتے تھے۔

مصر میں مجھے اور برادر حسین علی درانی کو ان کے ساتھ سفر کرنے کا موقع ملا۔ جب ہم واپس آنے لگے تو از راہ مزاح استاد کو بتایا کہ قاہرہ اور سکندریہ کی ساری مسجدیں آپ نے دکھا دیں، صلاح الدین ایوبی کا قلعہ، مسجد حضرت امام حسین رض، سکندراعظم لائبریری بھی دیکھ لی اور کوہ طور جاتے جاتے رہ گئے، مگر یہ ملک جس عیاشی کے لیے مشہور ہے، اس کا مزہ نہیں آیا، اور یہ سن کر وہ کھلکھلا کے ہنس پڑے۔

اگر حاکم وقت بھی پاس ہوتا تو اس کو نماز کے لیے چھوڑ کر اپنے رب کے سامنے حاضر ہوجاتے تھے۔ ان سے تفصیلی بات کرنے کا اچھا موقع فجر کی نماز کے بعد ہوتا تھا اور اس میں زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھا دیتے تھے۔

ان کی سیاسی بصیرت کا اعتراف ترکی کے صدارتی محل کے در و دیوار بھی کرتے تھے۔ جب وہاں پہنچتے تو دسترخوان بچھا دیے جاتے اور ان کی گفتگو سننے کے لیے لوگ بیتاب رہتے۔ وہاں کی حکومت اور اشرافیہ کو جب خبر ملتی کہ استاد ترکی میں ہیں تو دعوت خود آجاتی حتیٰ کہ ایسا موقع آیا کہ ہمیں پھر خاص تلقین کرتے کہ ان کی موجودگی کی خبر نہ دی جائے تاکہ سفر کا مقصد پورا ہو سکے۔ ان کے دل میں امت مسلمہ کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ جہاں بھی موقع ملتا مظلوم مسلمانوں کی مدد سے نہیں کتراتے تھے۔ ایک مرتبہ استنبول میں منعقدہ موصیاد ایکسپو میں انھیں ایک بڑے ترک ادارے کے سٹال پر لے جانا چاہ رہا تھا تو دور انھیں 'شام' کی ایک جامعہ کا بینر نظر آگیا اور کہنے لگے پہلے ان کے پاس جانا ہے۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ ہی ہوا تھا کہ وہاں جنگ شروع ہوگئی تھی، میں نے بہت زور لگایا لیکن کامیابی نہ ہو سکی۔ وہاں جا کر 1 گھنٹہ صرف کیا، ان کے پاس یادداشت تحریر کی اور ان کو 20 قابل مہاجر شامی طلبہ کے لیے مفت سکالرشپ دینے کا اعلان کردیا۔

ادیان ابراہیمی، بین المذاہب ہم آہنگی اور جنوبی ایشیاء پر ان کی خدمات کو کبھی نہیں بھلایا جاسکتا۔ ان کی شائستہ طبیعت ظاہر تھی مگر ان کی اصل حقیقت یہ تھی کہ اسلام کے وفادار مجاہد اور پاکستان کے سچے سپاہی تھے جو مضبوط قوت ارادی کے مالک اور علامہ اقبال کے اس شعر کی عملی تصویر تھے:
جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو، وہ شبنم​
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں، وہ طوفان​

استاد کی یاد ستاتی ہے اور آنکھوں سے بےاختیار آنسو جاری ہوجاتے ہیں، لیکن ان کے عمل نے جو شاہین کی بلندیوں والی روایات چھوڑی ہیں، ان کا تقاضا ہے کہ مقاصد کے حصول کے لیے دل بےقرار کو قرار دینا ہوگا تاکہ ان کے لیے صدقہ جاریہ بن جائیں کیونکہ فرشتے انھیں وہ چیزیں دکھائیں گے جس سے ان جیسے صالحین کو خوشی ہوتی ہو۔

اگرچہ اس بات کا غم رہے گا کہ ان کی اس دنیا میں قدر نہیں کرسکے اور جتنی خدمت کرنی چاہیے تھی، اس میں کمی رہ گئی، لیکن دارالامتحان سے چلے جانے والے لوگ ہماری دعاؤں کے طالب اور حقدار ہیں اور ان کو اس کی شدت سے ضرورت پڑتی ہے، تاکہ ان کی دنیاوی کوتاہیوں سے رب العالمین درگزر فرمادے۔ آئیں مل کر دعا کریں کہ عالم برزخ کے پردوں میں ہماری بصارت سے پوشیدہ استاد حسن صہیب مراد رحمہ اللہ کی نفس مطمئنہ کو اللہ جنت میں انبیاء اور صالحین کی معیت نصیب فرمادے اور ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور ان کے خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔